راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے کسان مارچ کو اسلام آباد کی جانب لے جانے کے اعلانات کے بعد راولپنڈی میں سیکیورٹی انتظامات ہائی الرٹ کر دیے گئے ہیں، جبکہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے، سڑکیں یا راستے بند کرنے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر فوری ایکشن لیا جائے گا، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کی گرفتاریاں عمل میں لانے کے ساتھ مقدمات بھی درج کیے جائیں گے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جڑواں شہروں سے ملحقہ اہم راستوں پر بھی سیکیورٹی کے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ شہر کے اہم مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی جائے گی تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق راولپنڈی کے لیے اضافی نفری کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ اٹک میں بھی بڑی تعداد میں سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

فیض آباد، ٹی چوک، جی ٹی روڈ، روات، گوجر خان، ٹیکسلا اور مارگلہ چیک پوسٹ سمیت اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے۔

اجلاس میں تعلیمی اداروں کو تدریسی عمل جاری رکھنے کے لیے مکمل سیکیورٹی سپورٹ فراہم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اسی طرح کاروباری مراکز اور تاجروں کے تحفظ کے لیے بھی ہنگامی اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

اجلاس میں سوشل میڈیا پر نفرت اور اشتعال انگیزی پھیلانے والوں کے خلاف بھی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ متعلقہ اداروں کو سوشل میڈیا پر قانون کی خلاف ورزی کی نگرانی اور ضابطے کے مطابق کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔

حکام کے مطابق سیکیورٹی اقدامات کا بنیادی مقصد شہریوں، تعلیمی اداروں، کاروباری مراکز اور اہم تنصیبات کا تحفظ اور جڑواں شہروں میں امن و امان برقرار رکھنا ہے۔