دامن گومل سے محمداکرم عابد
مملکت خداداد پاکستان میں سیاسی جماعتوں کو دیوار سے لگانے پارلیمینٹ کو بندگلی میں دھکیلنے کا کھیل جاری ہے اس کھیل نے اسٹیبلشمنٹ عوام میں مزیدفاصلے پیدا کردیئے ۔پاکستان کی سیاست میں تقسیم در تقسیم، جماعتیں بنتی ، ٹوٹتی رہیں۔مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم سے اے این پی اور پی ٹی آئی تک، سیاسی جماعتو ں میں دھڑے بندیا ں۔ناقدین میں بحث سیاسی جماعتیں کیوں ٹوٹتی رہیں؟ ہر دور میں نئی جماعت، نیا دھڑا — 160جماعتیں رجسٹرڈسیاسی جماعتیں محفوظ نہ رہ سکیں، جماعتیں بدلیں، دھڑے بنے، سیاست کا منظرنامہ بدلتا رہا۔
پاکستان اگرچہ عوامی اور جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں عمل میں آیا ہے ، لیکن قیام پاکستان کے بعد وجود میں آنے والی تمام سیاسی جماعتوں میں تقسیم کا عمل تا حال جاری ہے۔ تمام جماعتوں کو توڑا گیا، تمام جماعتوں میں پارٹی قیادت کے خلاف علم بغاوت بلند کیے گئے، کوئی سیاسی جماعت تقسیم کے عمل سے محفوظ نہ رہی۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ اور تحریک انصاف نمایاں جماعتیں ہیں۔ پیپلز پارٹی کے پانچ دھڑے تقسیم ہو چکے ہیں، مسلم لیگ نون چھ دھڑوں پی ٹی آئی سےتین دھڑے الگ ہوچکے ہیں اگرچہ پی ٹی آئی سے نکلنے والے دھڑے مقبولیت تو نہیں رکھتے ، بہرحال ان کی قیادت میں وفاقی وزرا شامل ہیں۔
پاکستان میں جیسے ہی سیاسی جماعتوں کی تشکیل کا عمل شروع ہوا تو کیونکہ کچھ قوتوں نےجمہوری قوتوں کے خلاف اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے یا طاقت کے مراکز پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کی تقسیم در تقسیم شروع کردی۔ مسلم لیگ کو آپ اٹھائیں کہ یہ کتنے گروپوں میں تبدیل ہو چکی ہے، کہیں عوامی ، کہیں فنگشنل، کہیں قاف ، کہیں ضیا ، نہ جانے کتنے گروپس ہیں جو مسلم لیگ کے بن چکے ہیں نام سے عوام آشنا بھی نہیں ہیں۔
پیپلز پارٹی سے پارلیمنٹرین نکلی، شہید بھٹو نکلی، جتوئی گروپ نکلا، آفتاب شیرپاو گروپ نکلا، مسلم لیگ نون کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کی طرف ان قوتوں نے رخ کیا، وہاں سے استحکام پارٹی نکلی، وہاں سے پی ٹی آئی خٹک نے ایک الگ سے گروپ بنایا۔ ایم کیوایم سے تین دھڑے نکلے حقیقی، پاکستان اور مصطفیٰ کمال نے الگ ہی جماعت بنا لی تھی۔ مسلم لیگ سے قیوم خان گروپ بھی نکلا تھا۔ ، یعنی یہ وہ ارکان ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کے کام آتے ہیں اجارہ داری قائم رکھنے کے لیے طاقت کے مراکز پر۔
اب پھر موسم تبدیلی کا ہے پھر آپ دیکھیں گے کہ پروازیں ہوں گی۔ قوم پرست جماعتیں بھی محفوظ نہ رہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کو توڑا گیا، کسی زمانے میں یہ نیشنل عوامی پارٹی کےنام سے مقبول جماعت تھی خیبر پختونخوا میں اور بلوچستان میں، لیکن اس کو بھی توڑا گیا، اس کے بھی حصے بخرے ہوئے۔ ہم نے دیکھا کہ مسلم لیگ کونسل بھی بنی۔
جماعت اسلامی اور عوامی لیگ واحد جماعتیں ہیں جو تقسیم نہ ہو سکیں۔ عوامی لیگ اگرچہ متحدہ پاکستان میں بنی مگراب فی الحال بنگلہ دیش کی سیاست سے بیدخل قیادت ہندوستان جا چکی ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان کو تقسیم کرنے کی کوشش کے باوجود اسے تقسیم نہ کیا جا سکا، البتہ جمعیت علمائے اسلام اور جمعیت علمائے پاکستان کو ضرور تقسیم کیا گیا۔
جمعیت علمائے اسلام سے فضل الرحمن گروپ نکلا، شیرانی گروپ نکلا اور اس سے مزید دو دھڑے اور تقسیم ہوئے تھے۔ جمعیت علمائے پاکستان جو نورانی کی قیادت میں تو اگرچہ پاکستان میں بنی تھی، اس سے نیازی گروپ نکلا اور اس سے ڈاکٹر زبیر کا ایک الگ گروپ قائم ہوا۔ مہاجر قومی موومنٹ بھی بنی۔ کیونکہ عوامی جمہوری سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان بنا جوہماری غیر جمہوری قوتوں کو راس نہ آیا سیاسی جماعتوں کی مقبولیت سےخوفزدہ رہے.
انتشار کا عمل جاری ہے، اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جاتے ہیں سیاستدانوں سے، سیاسی جماعتوں میں کوئی بی ٹیم کہلاتی ہے، کوئی پسندیدہ کہلاتا ہے، کوئی ناپسندیدہ کہلاتا ہے۔ جو ناپسندیدہ کہلاتا ہے وہ جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔
نوٹ : صاحب تحریر کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں..


