اسلام آباد(ای پیآئی) سینئرصحافی رؤف کلاسر نے پاکستان میں صاحب اقتدار رہنے والے سیاستدانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقتدار اور پاور کے خواہشمند کبھی نارمل نہیں ہوتے یہ (سیاست)ان کا دھندہ ہے ۔۔ دھندے میں کون اپنا نقصان کرتا ہے اور صلح صفائی کا مطلب دھندے میں نقصان ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر سینئر صحافی حامد میر کے ٹویٹ کا جواب دیا ہے جس میں حامد میر نے حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مذاکرات دوبارہ شروع کریں کوئی نہ کوئی راستہ نکالیں یہ تاثر نہ دیں کہ سیاستدان ناکام ہو گئے.
اپنے ٹویٹ میں رؤف کلاسرا لکھتے ہیں کہ "سر جی سیاستدانوں کو اس طرح کی ناکامی اچھی اور سیاسی طور پر فائدہ مند لگتی ہے۔سیاستدان اور میڈیا کو confrontation اور conflict سوٹ کرتی ہیں، محبت پیار مزاکرات یا بھائی چارہ نہیں۔
نواز شریف، بینظیر بھٹو اور عمران خان ایک دوسرے سے اندھا دھند لڑ کر ہی پاور میں پہنچے۔ یہ وہ ریسیپی (recipe) ہے جو انہیں فائدہ دیتی ہے تو وہ یہ راستہ کیوں چھوڑ دیں جو وزیراعظم ہاوس تک لے جاتا ہے؟
اس لیے ہمیں انہیں مشورے نہیں دینے چاہیں کہ شاید یہ کم عقل ہیں۔ جو لاکھوں لوگوں کو چرب زبانی اور تقریروں سے اپنے پیچھے لگا لیتے ہیں وہ بچے نہیں ہیں۔ یہ سب گھاگ لوگ ہیں۔ انہیں سب علم ہے کہ سیاسی لڑائیاں انہیں مظلوم بناتی ہیں، جیل جانا ایک طرح کی سرمایہ کاری ہوتی ہے کہ لوٹ کر ساری عمر ہم پر احسان ٹھوک کر اپنی نسلوں کی مظلومیت کا رونا روئیں گے، ان کی مقبولت بڑھے گی، ووٹ بڑھے گا۔
ان لوگوں کو وہ trick اتا ہے کہ لوگوں کے کمائے پیسے پر کیسے عیاشی کرنی ہیں، مفت گاڑیاں مفت پٹرول، لاکھوں کی تنخواہیں۔۔ دنیا بھر کے سیر سپاٹے۔ مشہوری اور پاور الگ۔
یہ سب مزے سے زندگیاں گزارتے ہیں نہ نوکری کا مسلہ نہ بچے کی فیس نہ بجلی کے بلز۔ اس کام کے لیے یہ جان دے بھی سکتے ہیں اور لے بھی سکتے ہیں۔
لیاقت خان قتل ہوئے، بھٹو پھانسی لگے، بینظیر بھٹو قتل ہوئی، نواز شریف چودہ سال دہشت گردی میں جیل، جلاوطن۔۔ اس کے باوجود ان کی اگلی نسلیں دو تین سال وزیراعظم بننے کے لیے تیار ہیں۔ اقتدار اور پاور کے خواہشمند کبھی نارمل نہیں ہوتے۔۔
یہ ان کا کاروبار ہے دھندہ ہے ۔۔ دھندے میں کون اپنا نقصان کرتا ہے اور صلح صفائی کا مطلب دھندے میں نقصان ہے۔
ان سیاستدانوں اور سیاسی پارٹیوں نے اپنے اپنے جھتے اور اپنے اپنے حصے کے بیوقوف اور فالورز ڈھونڈے ہوئے ہیں تو یہ کیوں صلح صفائی سے کام لیں؟


