پاکستان کی توانائی معیشت سہ طرفی غیرمعمولی بحران میں جکڑی ہوئی ہے۔ ایک طرف ملک کو طویل مدتی معاہدوں کے تحت خریدی گئی اضافی ایل این جی دوسری منڈیوں میں منتقل کرنا پڑ رہی ہے، تو دوسری جانب عالمی بحران کے دوران اسی گیس کی فراہمی متاثر ہونے پر مہنگے متبادل تلاش کرنا پڑتے ہیں۔ تیسری جانب گردشی قرضوں کا بوجھ بالآخر عام صارف اور ملکی معیشت تک پہنچ رہا ہے۔ نتیجتاً اس نظام کی مالی قیمت مہنگی توانائی، سرکاری مالی دباؤ اور صارفین پر بڑھتے ہوئے اخراجات کی صورت میں سامنے آتی ہے۔

توانائی کی معیشت کا بحران محض طلب اور رسد کے غلط اندازوں کا نتیجہ نہیں۔ یہ ایک ایسا توانائی ماڈل ہے جس میں درآمدی ایندھن کی خریداری، بجلی کی پیداوار، سرکاری کمپنیوں کی مالی کارکردگی، گورننس کی کمزوریاں اور عالمی قرضوں کے اثرات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

یکم اکتوبر 2026 کو ریکورس، افریقہ چینج لیب اور دی بگ شفٹ گلوبل کی مشترکہ رپورٹ

Gas Is Bad Economics for the Global South نے پاکستان سمیت پانچ ترقی پذیر ممالک میں فوسل گیس کے معاشی نتائج کا جائزہ لیا ہے۔ اس رپورٹ کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ گیس کو صاف توانائی کی طرف منتقلی کا عارضی ذریعہ سمجھ کر کی جانے والی سرمایہ کاری، درآمدی ممالک کے لیے قرضوں، قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور مستقبل میں اثاثوں کے غیر ضروری ہوجانے کا خطرہ پیدا کرسکتی ہے۔

اس سلسلے میں پاکستان کا تجربہ ایک مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے، کیونکہ یہاں درآمدی گیس کا بنیادی ڈھانچہ اس وقت قائم ہوا جب ملک شدید توانائی بحران سے گزر رہا تھا، لیکن ایک دہائی بعد توانائی کی طلب اور اس کے متبادل ذرائع نے اس معاشیات کو واضح طور پر تبدیل کردیا۔

پاکستان نے 2014 سے 2016 کے دوران ایل این جی کی درآمد کے لیے بنیادی ڈھانچہ اور طویل مدتی خریداری کا انتظام کیا۔ اس وقت مقامی گیس کی پیداوار کم ہو رہی تھی، صنعتیں توانائی کی قلت کا سامنا کر رہی تھیں اور بجلی کی لوڈشیڈنگ نے معاشی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔

درآمدی گیس کو اس بحران کا فوری حل سمجھا گیا تاکہ بجلی گھروں کو ایندھن فراہم کرکے مہنگے فرنس آئل کا استعمال کم کیا جائے اور صنعتوں کی ضروریات پوری کی جائیں۔

لیکن بنیادی مسئلہ اس وقت بھی، اور آج بھی، توانائی تک رسائی کا ہے۔ گھروں اور کاروباروں کے لیے توانائی تک رسائی کا مطلب صرف بجلی یا گیس کا کنکشن ہونا نہیں، بلکہ اس کی قابلِ اعتماد اور قابلِ برداشت قیمت پر دستیابی بھی ہے۔ اسی لیے ایل این جی کے نظام کو صرف اس بنیاد پر نہیں جانچا جاسکتا کہ اس نے ملک میں کتنا ایندھن پہنچایا، بلکہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس کی لاگت نے عام صارف کے لیے توانائی کو زیادہ قابلِ رسائی بنایا یا مزید مہنگا کیا۔

ان فیصلوں کو آج کی صورتحال سامنے رکھ کر مکمل طور پر غلط قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ 2015 میں فیصلہ ساز یہ ٹھیک ٹھیک اندازہ نہیں لگا سکتے تھے کہ شمسی توانائی کی قیمت کتنی تیزی سے گرے گی یا اگلی دہائی میں پاکستان کی بجلی کی طلب کس طرح تبدیل ہوگی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا طویل مدتی توانائی معاہدوں میں اتنی لچک رکھی گئی تھی کہ قیمت کو، ٹیکنالوجی اور طلب بدلنے پر بھی بدلا جاسکے؟

توانائی منصوبے کی ابتدائی ضرورت اور طویل مدتی معاشی افادیت دو الگ معاملات ہیں۔ ایل این جی ٹرمینل کی تعمیر درآمدی صلاحیت پیدا کرتی ہے، جبکہ طویل مدتی معاہدہ مستقبل میں گیس کی خریداری اور مالی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند بناتا ہے۔ ان طویل مدتی معاہدوں کے اثرات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے جو آئی ای ای ایف اے کی مارچ 2026 کی تحقیق میں بتایا گیا کہ پاکستان کو تقریباً 45 اضافی ایل این جی کارگوز کے لیے متبادل انتظامات کرنا پڑے۔ ان میں سے بعض کارگوز کی دوسری منڈیوں کی طرف منتقلی طے ہوئی، جبکہ مزید اضافی گیس اسی صورت استعمال ہوسکتی تھی جب بجلی گھر اسے خریدیں۔

پاکستان میں فوسل گیس اور ایندھن سے پیدا ہونے والی مہنگی بجلی کے مقابلے میں شمسی توانائی کا انقلاب صارفین نے خود برپا کیا۔ سستے ہوتے شمسی پینلوں نے گھروں، کاروباری اداروں، صنعتوں اور زرعی صارفین کو اپنی بجلی خود پیدا کرنے پر مجبور کیا۔
آئی ای ای ایف اے کے مطابق 2025 میں پاکستان کی تقسیم شدہ شمسی صلاحیت کا تخمینہ 34 گیگاواٹ تک پہنچ گیا تھا، جس میں قومی گرڈ سے منسلک اور اس سے الگ نظام شامل تھے۔ سال 2022 سے 2025 کے درمیان قومی گرڈ سے بجلی کی طلب تقریباً 11 فیصد کم ہوگئی۔

بجلی کی طلب میں کمی سے گیس کی ضرورت تو کم ہوسکتی ہے، لیکن طویل مدتی ایل این جی معاہدے طلب کم ہوتے ہی خود بخود تبدیل نہیں ہوجاتے۔ پاکستان کے درآمدی ایل این جی معاہدوں میں
"ٹیک اور پے”
یعنی گیس لیں یا طے شدہ ادائیگی کریں، جیسی شرائط بھی شامل رہی ہیں، جن کے تحت طلب کم ہونے کے باوجود معاہدے کی مالی ذمہ داریاں برقرار رہتی ہیں، اگرچہ ہر معاہدے میں کچھ لچک کی الگ شرائط ہوسکتی ہیں۔ زیادہ طلب کے وقت ایسے معاہدے توانائی کی فراہمی یقینی بنانے میں مدد دیتے ہیں، لیکن اچانک طلب کم ہوجائے تو یہی طویل مدتی پابندیاں مسئلہ بن جاتی ہیں۔ پاکستان میں اضافی ایل این جی کا موجودہ مسئلہ اسی تضاد کو ظاہر کرتا ہے: توانائی کی طلب تیزی سے بدل سکتی ہے، لیکن طویل مدتی معاہدوں کی مالی ذمہ داریاں اتنی تیزی سے نہیں بدلتیں۔

پاکستان میں آئی پی پیز کے معاہدے اس مالی مسئلے کی ایک الگ مثال ہیں۔ اگرچہ بجلی گھروں کی کیپیسٹی پیمنٹ اور ایل این جی کی خریداری کے معاہدے قانونی طور پر مختلف ہیں، لیکن دونوں یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ طلب کم ہونے کی صورت میں پہلے سے طے شدہ مالی ذمہ داریوں کی قیمت کون ادا کرتا ہے؟

شمسی توانائی کے انقلاب نے اس سوال کو مزید اہم بنا دیا ہے کہ جب مستقبل کی منصوبہ بندی ہورہی تھی تو اسے محض بجلی کا اضافی ذریعہ کیوں سمجھا گیا؟

ایل این جی پر انحصار کی ایک اور کمزوری 2026 کے مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے دوران سامنے آئی۔ جب ترسیل متاثر ہوئی تو پاکستان کو دستیاب ایندھن کے استعمال میں تبدیلیاں کرنا پڑیں اور زیادہ طلب کے اوقات کے لیے مہنگی عالمی منڈی سے خریداری کے امکانات پر غور کرنا پڑا۔

شمسی توانائی اور بجلی کی پیداوار کے دوسرے ذرائع نے درآمدی گیس کی فراہمی متاثر ہونے کے باوجود نیشنل گرڈ کو سہارا دیا۔ تاہم شام اور رات کے اوقات میں، جب شمسی پیداوار دستیاب نہیں ہوتی، گیس یا دوسرے قابلِ اعتماد ذرائع کی ضرورت برقرار رہی۔

یہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ توانائی کی سیکیورٹی کا مطلب صرف زیادہ گیس خریدنے کے معاہدے نہیں۔ اگر ایک ملک اضافی گیس کے باوجود اسے ذخیرہ نہیں کرسکتا، اور عالمی ترسیل متاثر ہونے پر فوری قلت کا شکار ہوسکتا ہے، تو مسئلہ پورے نظام میں ہے۔

پاکستان کے گیس شعبے کا گردشی قرضہ، آئی ای ای ایف اے کے مارچ 2026 کے جائزے کے مطابق، تقریباً 33 کھرب روپے تک پہنچ چکا تھا۔ اس پورے قرضے کی ذمہ دار صرف ایل این جی نہیں۔ گیس کی اصل لاگت اور بعض صارفین سے وصول ہونے والی قیمت میں فرق، سبسڈی، بلوں کی عدم وصولی، پرانے واجبات، چوری، پائپ لائنوں سے رساؤ اور پیمائش و وصولی کی خامیاں بھی اس بحران میں حصہ ڈالتی ہیں۔ مہنگی درآمدی گیس ان موجودہ کمزوریوں کی مالی قیمت مزید بڑھا دیتی ہے۔
جب صارف اپنے بلوں میں اضافی رقم دے رہا ہوتا ہے تو وہ صرف عالمی منڈی میں گیس کی قیمت ادا نہیں کررہا ہوتا، نظام کے اندر موجود بعض کمزوریوں کی مالی قیمت بھی بالآخر اسی تک پہنچتی ہے۔
یہاں حکومت کے لیے بنیادی سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ گیس کتنی مہنگی کی جائے، بلکہ یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ درآمدی ایندھن کی لاگت، سبسڈی، وصولیوں کی کمی اور کمپنیوں کے اپنے نقصانات میں سے ہر ایک کا مالی حصہ کتنا ہے۔
اگر یہ تفریق کیے بغیر نرخ بڑھائے جائیں تو بہتر انتظامی کارکردگی کے بجائے نقصانات کا بوجھ صارفین کی طرف منتقل ہونے کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔
پاکستان میں درآمدی گیس کا نظام عالمی مالیاتی اداروں کی معاونت سے بھی قائم ہوا۔ آئی ایف سی اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے ملک کے پہلے بڑے ایل این جی ٹرمینل کی مالی معاونت کی، جبکہ دوسرے اداروں نے گیس کی ترسیل، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور ایندھن کی درآمدات کے لیے مختلف نوعیت کی سہولتیں فراہم کیں۔
اس وقت ان منصوبوں کا مقصد توانائی کی قلت کم کرنا اور مہنگے مائع ایندھن کا متبادل فراہم کرنا تھا۔ لیکن عالمی مالیاتی اداروں کی سرمایہ کاری کا جائزہ، منصوبے کی تعمیر مکمل ہونے پر ختم نہیں ہوجانا چاہیے۔ جب عالمی قیمتیں، متبادل ٹیکنالوجی اور مقامی طلب بدل جائیں تو منصوبوں کی باقی مدت کے معاشی نتائج کا دوبارہ جائزہ بھی ضروری ہوتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں نئی ریکورس رپورٹ ترقیاتی مالی معاونت کی ترجیحات پر سوال اٹھاتی ہے۔ اس کا مؤقف ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے محدود مالی وسائل مزید فوسل گیس کے بنیادی ڈھانچے کے بجائے قابلِ تجدید توانائی، بجلی کے ترسیلی نظام اور توانائی ذخیرہ کرنے کی سہولتوں پر خرچ ہونے چاہییں۔
تاہم اس بحث میں موجودہ گیس کی ضرورت اور نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو الگ رکھنا ضروری ہے۔ پاکستان کو آج بعض صنعتوں اور بجلی گھروں کے لیے گیس درکار ہے، لیکن اس ضرورت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مستقبل میں ہر اضافی ایل این جی منصوبہ بھی معاشی طور پر مناسب ہوگا۔
درآمدی گیس اور شمسی توانائی کے تقابل میں صرف فی یونٹ بجلی کی قیمت دیکھنا کافی نہیں۔ گیس جلانے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے، جبکہ پیداوار اور ترسیل کے مختلف مراحل میں میتھین کے اخراج کا خطرہ بھی موجود ہے۔ میتھین ایک طاقتور گرین ہاؤس گیس ہے، اس لیے اس کے اخراج کی مقدار قدرتی گیس کے مجموعی موسمیاتی اثرات میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
پاکستان کے لیے اہم بات یہ ہے کہ شمسی توانائی میں نئی سرمایہ کاری مستقبل کے درآمدی ایندھن کے بل اور عالمی قیمتوں کے خطرات کم کرسکتی ہے۔ لیکن اس کا پورا فائدہ اسی وقت حاصل ہوگا جب بجلی کا قومی نظام تقسیم شدہ پیداوار، ذخیرہ کرنے کی نئی سہولتوں اور بدلتی ہوئی طلب کے مطابق ڈھالا جائے۔
پاکستان کی توانائی پالیسی کا اگلا مرحلہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے شروع ہوگا کہ درآمدی گیس کی خریداری کے پرانے معاہدے، گیس کمپنیوں کے انتظامی نقصانات اور شمسی توانائی سے بدلتی ہوئی طلب اب ایک ہی معاشی مسئلے کے حصے ہیں۔
اصل ضرورت ایسے توانائی نظام کی ہے جس میں نئے منصوبوں کی لاگت، پرانے معاہدوں کا بوجھ، کمپنیوں کی کارکردگی اور عالمی ایندھن کی قیمتوں کے خطرات کو ایک ساتھ جانچا جائے۔ پاکستان کے لیے مہنگی گیس کی معاشیات بدلنے کا راستہ تب ہی نکلے گا۔

Email:razak.khatti@gmail.com