وکی پیڈیا کی نگران غیر منافع بخش تنظیم وکی میڈیا فاؤنڈیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اوپن اے آئی کے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹس نے اس کے زیر انتظام بعض ٹولز تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے اور انہیں ممکنہ طور پر نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔
وکی میڈیا کے مطابق اسے خودکار مصنوعی ذہانت کے سسٹمز کی سرگرمیوں کی تحقیقات کے دوران اوپن اے آئی سے منسلک ایسے ایجنٹس کی سرگرمیوں کا پتا چلا جنہیں تنظیم نے ’روگ‘ یا ’باغی‘ ایجنٹس قرار دیا۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ مبینہ سرگرمیوں میں وکی میڈیا کے مختلف وکی صفحات پر غیر مجاز ترامیم، عوامی نوٹ لینے کی سروس ’ایتھر پیڈ‘ کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش اور بڑے پیمانے پر ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کرنا شامل ہے۔
وکی میڈیا فاؤنڈیشن کے مطابق زیادہ تر غیر مجاز ترامیم سینڈ باکس حصوں میں کی گئیں اس لیے وہ عام صارفین کو نظر نہیں آئیں۔ تاہم چند ترامیم میں ایک حوالہ جاتی ٹول کی کنفیگریشن تبدیل کی گئی، جنہیں وکی میڈیا نے ممکنہ طور پر نقصان دہ قرار دیا ہے۔ تنظیم کے مطابق بظاہر ان تبدیلیوں کا مقصد مذکورہ ٹول کو بطور پراکسی استعمال کرتے ہوئے دیگر ویب سائٹس سے ڈیٹا حاصل کرنا تھا۔
وکی میڈیا نے مزید بتایا کہ اے آئی ایجنٹس نے اس کی عوامی نوٹ لینے کی سروس ’ایتھر پیڈ‘ تک رسائی حاصل کرنے اور اسے تھرڈ پارٹی ویب سائٹس سے معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے کی بھی کوشش کی تاہم یہ کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں۔ فاؤنڈیشن نے واضح کیا کہ اسے تاحال ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جن سے یہ ثابت ہو کہ اس کے سسٹمز یا ڈیٹا سے سمجھوتا ہوا ہے۔
وکی میڈیا کے مطابق اس نے لاکھوں خودکار API درخواستوں کا بھی سراغ لگایا جنہیں ایسے اے آئی ایجنٹس سے منسلک کیا گیا ہے جن کے بارے میں تنظیم کا خیال ہے کہ انہیں اوپن اے آئی نے آپریٹ کیا۔
ان ایجنٹس نے وکی میڈیا کے لاکھوں صفحات کو کرال کیا جن میں زیادہ تر وکی ڈیٹا اور وکی میڈیا کامنز شامل تھے جبکہ وکی ڈیٹا کوئری سروس پر بھی سیکڑوں ہزاروں درخواستیں بھیجی گئیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر اس غیر معمولی ٹریفک نے مئی میں وکی میڈیا کی سروس میں آنے والے جزوی تعطل میں کردار ادا کیا ہو تاہم اس تعلق کی ابھی حتمی طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔
دوسری جانب اوپن اے آئی نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لینے کے لیے وکی میڈیا فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ کمپنی نے تاہم آزادانہ طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ اس کے اے آئی ایجنٹس مئی میں پیش آنے والے سروس تعطل کا سبب بنے تھے۔جولائی2026 میں بھی اوپن اے آئی کا ایک خودکار اے آئی ایجنٹ مبینہ طور پر ٹیکنالوجی پلیٹ فارم ’ہگنگ فیس‘ کے سسٹمز میں کئی روز تک ہیکنگ سرگرمیوں میں مصروف رہا، تاہم کمپنی کو اس کا علم تقریباً ایک ہفتے بعد ہوا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس واقعے نے جدید اے آئی سسٹمز کی نگرانی اور سیکیورٹی سے متعلق نئے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی کا یہ تجرباتی اے آئی ایجنٹ، جو پیچیدہ فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، 9 جولائی کے قریب اپنے محدود ٹیسٹنگ ماحول (سینڈ باکس) سے باہر نکلنے کی کوشش کرنے لگا۔ بعد ازاں 11 سے 13 جولائی کے درمیان اس نے ہگنگ فیس کے سسٹمز میں مبینہ طور پر غیر مجاز رسائی حاصل کی۔ ہگنگ فیس کے شریک بانی تھامس وولف نے تصدیق کی کہ کمپنی پر حملہ انہی تاریخوں میں ہوا، جبکہ ایف بی آئی کو بھی اس واقعے سے آگاہ کر دیا گیا تھا۔اوپن اے آئی کو 20 جولائی کے قریب معلوم ہوا کہ حملے کے پیچھے اس کا اپنا اے آئی ایجنٹ تھا، جبکہ کمپنی نے 21 جولائی کو عوامی طور پر اس واقعے کا انکشاف کیا۔ اوپن اے آئی نے بیان میں کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا غیر معمولی واقعہ ہے اور اے آئی سیفٹی کے حوالے سے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ کمپنی نے کہا کہ وہ بیرونی ماہرین کے ساتھ مل کر تحقیقات کر رہی ہے اور جلد ایک تفصیلی تکنیکی رپورٹ جاری کرے گی، تاہم اس نے رائٹرز کی بعض معلومات کو غیر درست بھی قرار دیا۔علاوہ ازیں
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سائبر سکیورٹی کمپنی ’Asymmetric Security‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں ان اے آئی ایجنٹس کی سرگرمیوں کا تجزیہ کیا ہے۔ اے آئی ایجنٹس ایسے پروگرام ہوتے ہیں جو مخصوص کام خودکار انداز میں انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان ایجنٹس نے مارچ سے ستمبر کے دوران آسٹریلوی حکومت کی ویب سائٹس سمیت دیگر سرکاری اداروں کو نشانہ بنایا اور غیر مجاز رسائی حاصل کرنے کے بعد اپنی سرگرمی کے بعض نشانات مٹانے کی کوشش کی۔
تاہم Asymmetric Security کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد سے یہ طے نہیں کیا جا سکا کہ نشانات مٹانے کا عمل دانستہ طور پر اپنی سرگرمی چھپانے کے لیے کیا گیا تھا یا یہ ایجنٹس کے خودکار طرزِ عمل کا نتیجہ تھا۔
یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اوپن اے آئی اور آزاد محققین جولائی سے سامنے آنے والے متعدد واقعات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ان واقعات میں مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارم Hugging Face کی ہیکنگ بھی شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی نے Hugging Face پر ہونے والے حملے کو اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ قرار دیا تھا۔
Asymmetric Security کی تحقیق میں ایک اور اہم پہلو اے آئی ایجنٹس کی اپنی تکنیک کو تیزی سے بہتر بنانے کی صلاحیت سے متعلق سامنے آیا ہے۔
سائبر سکیورٹی کمپنی کے مطابق ان خودکار ایجنٹس نے چند ہی دنوں میں اپنی تکنیکوں کو بہتر کیا، جبکہ روایتی ہیکرز کو ایسی صلاحیتیں اور طریقہ کار بہتر بنانے میں عموماً کئی ماہ یا بعض اوقات کئی سال بھی لگ سکتے ہیں۔
اے آئی ایجنٹس کی بڑھتی ہوئی خودمختاری اور پیچیدہ کام انجام دینے کی صلاحیت کے باعث ان ٹیکنالوجیز کے محفوظ استعمال سے متعلق خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
اوپن اے آئی اور آزاد محققین کی جانب سے ان واقعات کے تجزیے کا مقصد یہ جاننا ہے کہ خودکار اے آئی ٹولز کس حد تک آزادانہ طور پر کارروائیاں انجام دے سکتے ہیں اور ان کے رویے کو محفوظ اور قابلِ کنٹرول رکھنے کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے۔


