اسلام آباد(ای پی آئی) پاکستان تحریک انصاف نے آٹے کی قیمت میں اچانک اور ہوشربا اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمرانوں نے عوام سے دو وقت کی روٹی کا نوالہ بھی مزید مہنگا کر دیا ہے۔ آٹے کی قیمت میں فی کلو 14 روپے تک اضافہ اور فائن آٹا 200 روپے جبکہ چکی آٹا 210 روپے فی کلو تک پہنچ جانا حکومتی معاشی پالیسیوں کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔
پی ٹی آئی کے مرکزی میڈیا کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق آٹا پاکستان کے عام آدمی کی بنیادی ضرورت ہے، اس کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی کروڑوں خاندانوں کے ماہانہ بجٹ کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔ موجودہ اضافے سے غریب اور متوسط طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوگا جبکہ نان بائیوں اور تندور مالکان کے اخراجات بڑھنے سے روٹی اور نان کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ حکومت کو جواب دینا ہوگا کہ اگر سرکاری سطح پر گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافہ محدود ہے تو پھر ریٹیل مارکیٹ میں آٹا اتنا مہنگا کیوں فروخت ہو رہا ہے؟ اگر فلور ملز کی جانب سے سپلائی محدود کرکے مصنوعی قلت پیدا کرنے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں تو حکومت اور متعلقہ ادارے خاموش تماشائی کیوں بنے ہوئے ہیں؟
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ حکومت صرف بیانات اور دعووں سے مہنگائی ختم نہیں کر سکتی۔ آٹے کی قیمت میں اضافے کی فوری تحقیقات کی جائیں، مصنوعی قلت اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے اور عوام کو آٹا مناسب قیمت پر فراہم کیا جائے۔
پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ کسان سے گندم خریدنے کا وقت آتا ہے تو اسے اس کی محنت کا پورا معاوضہ نہیں دیا جاتا، لیکن جب یہی گندم مارکیٹ میں آٹے کی شکل اختیار کرتی ہے تو عام آدمی کو کئی گنا زیادہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ یہ پورا نظام کسان اور صارف دونوں کے ساتھ ناانصافی پر مبنی ہے۔
اعلامیہ میں پاکستان تحریک انصاف نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر آٹے کی قیمت میں اضافے کا نوٹس لے، گندم سے آٹے تک پوری سپلائی چین کا آڈٹ کرے، ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے اور عوام کو بنیادی خوراک مناسب قیمت پر فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔


