امریکی اسٹارٹ اپ کمپنی جیٹ زیرو ایک جدید مسافر طیارہ تیار کر رہی ہے، جس کا ڈیزائن روایتی طیاروں سے بالکل مختلف ہوگا۔ ’زیڈ 4‘ نامی اس طیارے میں 250 مسافروں کے سفر کرنے کی گنجائش ہوگی، جبکہ یہ ایک پرواز میں تقریباً 5 ہزار میل کا فاصلہ طے کر سکے گا۔
کیلیفورنیا میں قائم کمپنی جیٹ زیرو نے اس طیارے کی پہلی آزمائشی پرواز 2027 میں کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ کمپنی کا مقصد جدید ٹیکنالوجی اور منفرد ڈیزائن کے ذریعے مسافر طیاروں کی صنعت میں اپنی جگہ بنانا اور بوئنگ جیسے بڑے طیارہ ساز اداروں کا مقابلہ کرنا ہے۔
زیڈ 4 طیارے کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا ’بلینڈڈ وِنگ باڈی‘ ڈیزائن ہے، جس میں طیارے کے مرکزی جسم اور پروں کو الگ رکھنے کے بجائے ایک ہموار ساخت میں ضم کر دیا گیا ہے۔ اس کا مجموعی ڈیزائن سمندر میں پائی جانے والی اسٹنگ رے مچھلی سے مشابہت رکھتا ہے۔
کمپنی کے منصوبے کے مطابق طیارے کے اندرونی حصے کو جدید انداز میں ترتیب دیا جائے گا اور مسافروں کے لیے نسبتاً کشادہ نشستیں فراہم کی جائیں گی، تاکہ دورانِ سفر زیادہ آرام دہ ماحول میسر آ سکے۔ اس طیارے کی ایک غیر معمولی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کے ڈیزائن میں روایتی کھڑکیاں شامل نہیں ہوں گی۔
فضائی صنعت میں بلینڈڈ وِنگ باڈی ٹیکنالوجی کو طیاروں کے ڈیزائن میں ایک اہم جدت سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس ساخت سے فضائی مزاحمت کم کرنے اور ایندھن کی کارکردگی بہتر بنانے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔
تاہم، زیڈ 4 کی حقیقی کارکردگی، مسافروں کے لیے اس کی افادیت اور تجارتی پروازوں کے لیے اس کی تیاری کا حتمی اندازہ آزمائشی پروازوں اور مزید تکنیکی مراحل کی تکمیل کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔


