لاہور:معروف ٹی وی اینکر اقرار الحسن کو لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے فیز 8 میں واقع ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ان کے اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ اہلکار رات گئے گھر میں داخل ہوئے اور اس دوران توڑ پھوڑ کے علاوہ اہلِ خانہ کے موبائل فونز اور دیگر الیکٹرانک آلات بھی اپنے ساتھ لے گئے۔

اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار کے مطابق کارروائی کے دوران اہلکاروں کے ہمراہ خواتین اہلکار بھی موجود تھیں جن کے بیجز پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) درج تھا۔
فرح اقرار کا کہنا ہے کہ گھر کے تمام افراد رات کے وقت سو رہے تھے کہ اسی دوران نامعلوم افراد گھر کے مرکزی گیٹ اور دروازے توڑ کر زبردستی اندر داخل ہوئے۔ ان کے مطابق اہلکار دروازے توڑتے ہوئے کمروں تک پہنچے، موبائل فونز اور آئی پیڈ اپنے ساتھ لے گئے۔ فرح اقرار نے دعویٰ کیا کہ ان سے بھی موبائل فون چھین لیا گیا۔

اہلیہ کے مطابق کارروائی کے دوران گھر میں نصب ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈر (ڈی وی آر) اور سکیورٹی سسٹم کو بھی نقصان پہنچایا گیا جس کے باعث واقعے کی ویڈیو ریکارڈنگ محفوظ نہ رہنے کے خدشات پیدا ہوئے۔

اقرار الحسن کی پہلی اہلیہ قرۃ العین نے کہا کہ ’رات دو بجے فیز 8 ہمارے گھر میں 5 سے 7 مرد اور 2 عورتیں زبردستی گھسیں اور میرے شوہر اقرار الحسن کو زبردستی اغوا کر کے دو گاڑیوں میں لے گئے۔ ​ڈی ایچ اے سیکیورٹی موجود تھی لیکن کوئی ایکشن نہیں لیا گیا اور 15 پر کال کرنے کے باوجود پولیس ڈیڑھ گھنٹے بعد پہنچی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’​جب ہم تھانے گئے تو پولیس نے یہ کہہ کر رپورٹ درج کرنے سے انکار کر دیا کہ ’وائی فائی نہیں آ رہا‘، انہوں نے مزید کہا کہ ​’جو شخص پچھلے 20 سال سے پاکستان میں طاقتور اور بااثر لوگوں کو بے نقاب کرتا آ رہا ہے آج اسی کے گھر میں یہ سب ہوا اور اس کا معصوم بیٹا یہ سب دیکھ رہا ہے‘۔

اقرار الحسن کی اہلیہ قرۃ العین نے مریم نواز سے اپیل کی کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور انتظامیہ کو الرٹ کریں کہ جلد از جلد اقرار کو بازیاب کرایا جائے۔ نجی نیوز چینل کے اینکر پرسن اور اقرارالحسن کے ساتھ متعدد پروگراموں میں ساتھ کام کرنے والے وسیم بادامی نے بھی ایک ویڈیو میں اقرار الحسن کی گرفتاری سے متعلق اطلاعات ملنے کی تصدیق کی۔

تاحال اقرار الحسن کی گرفتاری کی وجوہات اور ان کے خلاف کسی مقدمے کی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں، جبکہ متعلقہ حکام کی جانب سے بھی اس حوالے سے باضابطہ تصدیق سامنے آنا باقی ہے۔