نئی دلی : ہندوستان کے دارالحکومت نئی دلی میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد ‘انڈیا’ بلاک نے مبینہ "ووٹ چوری” اور ووٹر لسٹوں میں ہیرا پھیری کے خلاف سپریم کورٹ کی طرف بڑا احتجاجی مارچ کررہا ہے ۔ شہر میں دفعہ 163 نافذ کر کے 30,000 سے زائد پولیس اور نیم فوجی دستوں کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ احتجاج کے پیشِ نظر دہلی میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا اور دہلی میٹرو کارپوریشن نے سینٹرل دہلی کے 6 اہم میٹرو اسٹیشنز (بشمول راجیو چوک، پٹیل چوک، جن پتھ، منڈی ہاؤس، سینٹرل سیکریٹریٹ اور باراکھمبا روڈ) کو صبح 6 بجے سے شام 4 بجے تک مسافروں کی آمد و رفت کے لیے بند کر دیاہےاس سے قبل ہفتے کو کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے دوران بھی ہزاروں مظاہرین اور رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا تھا۔
اپوزیشن رہنماؤں بشمول شیو سینا کے سنجے راوت اور سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے بھی اس مارچ میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اپوزیشن جماعتیں اور نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی سیاسی تحریک ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ ، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ووٹر لسٹوں کی "خصوصی گہری نظرثانی” کے نام پر لاکھوں اہل ووٹرز کے نام فہرستوں سے نکال دیے ہیں۔
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی قیادت میں اس پیدل مارچ کا مقصد چیف جسٹس آف انڈیا کو ایک یادداشت (میمورنڈم) پیش کرنا تھا تاکہ انتخابی بے ضابطگیوں کو روکا جا سکے۔چیف جسٹس سوریہ کانت نے راہل گاندھی اور اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ووٹر لسٹوں میں ردوبدل کا یہ معاملہ پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے، اس لیے انتظامی یا سیاسی معاملات پر وہ اس طرح ملاقات نہیں کر سکتے اور اپوزیشن کو قانونی طریقہ کار اختیار کرنا چاہیے۔