ملتان میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں 15 سالہ یتیم لڑکے کو گاڑی تلے کچل کر ہلاک کرنے کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیجز میں لڑکے کا تعاقب کرنے اور اسے گاڑی سے کچلنے کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔
واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ملزم کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک صارف نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امید ہے ریاست اس واقعے کے ذمہ دار کو سزا دلوانے کے لیے یقینی اقدامات کرے گی۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش کے دوران مقتول لڑکے پر چوری کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ واقعے کے بعد سامنے آنے والی فوٹیجز میں لڑکے کے تعاقب اور گاڑی کی ٹکر سے متعلق مناظر کی جانچ کی جارہی ہے۔
سی پی او ملتان اختر فاروق کے مطابق مقتول ایک این جی او کے زیرانتظام یتیم خانے میں رہائش پذیر تھا۔ اسے تقریباً سات روز قبل الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے ملزم توقیر کے پاس بھیجا گیا تھا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم مختلف عمارتوں میں بجلی کی تنصیبات کے ٹھیکے لیتا تھا اور اس سے قبل بھی یتیم خانے کے بچے اس کے پاس تربیت حاصل کرتے رہے تھے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق لڑکے کے کام چھوڑ کر وہاں سے چلے جانے پر اس کا تعاقب کیا گیا اور مبینہ طور پر گاڑی اس پر چڑھا دی گئی جس کے نتیجے میں وہ جان کی بازی ہار گیا۔
پولیس نے واقعے کا مقدمہ اپنی مدعیت میں درج کرلیا ہے اور مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ دوسری جانب مقتول کی میت اس کے چچا اور ماموں مظفرگڑھ لے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق مرکزی ملزم توقیر نذیر کو جائے وقوعہ سے گرفتار کر لیا گیا ہے، پولیس تھانہ ڈی ایچ اے نے ملزم کو علاقہ مجسٹریٹ کے پاس پیش کر دیا،علاقہ مجسٹریٹ نے ملزم کا چار روزہ ریمانڈ منظور کر لیا۔


