پاکستان کے ایوانِ بالا، سینیٹ نے پاسپورٹ ایکٹ 1974 میں ترمیم کا بل اتفاقِ رائے سے منظور کرلیا ہے، جس کے تحت قومی اسمبلی اور سینیٹ کے سابق ارکان کو عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی تاحیات سرکاری بلیو پاسپورٹ برقرار رکھنے اور استعمال کرنے کا حق دینے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ اس ترمیم کی خاص بات یہ ہے کہ اب رکنِ پارلیمنٹ کے لیے اپنی 5 سالہ یا 6 سالہ آئینی مدت مکمل کرنا ضروری نہیں رہے گا، بلکہ متعلقہ ایوان کی رکنیت کا حلف اٹھانے کے بعد مدت مکمل ہونے سے پہلے رکنیت ختم ہونے کی صورت میں بھی وہ اس سہولت کا اہل ہو سکے گا۔
تاہم، سینیٹ سے منظوری کے بعد اس بل کی قانون سازی کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا۔ اگلے مرحلے میں بل قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا، جس کے بعد اسے توثیق کے لیے صدر مملکت کو بھیجا جائے گا۔ صدر مملکت کی توثیق کے بعد ہی یہ قانون کی حیثیت اختیار کرے گا۔ اس لیے فی الحال اسے نافذ شدہ قانون کے بجائے منظور شدہ ترمیمی بل قرار دینا درست ہوگا۔
بلیو پاسپورٹ کیا ہے اور عام پاسپورٹ سے کیسے مختلف ہے؟
پاکستان میں عام شہریوں کو عموماً سبز رنگ کا عام پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے، جبکہ بلیو پاسپورٹ سرکاری یا آفیشل پاسپورٹ کہلاتا ہے۔ یہ مخصوص سرکاری عہدیداروں، سینیٹرز، قومی اسمبلی کے ارکان اور قواعد کے تحت اہل دیگر افراد کو جاری کیا جاتا ہے۔
سرکاری بلیو پاسپورٹ کا مقصد سرکاری حیثیت رکھنے والے افراد کے بیرونِ ملک سفر کو متعلقہ ضابطوں کے مطابق ممکن بنانا ہے۔ یہ ایک عام شہری کے پاسپورٹ سے اس اعتبار سے مختلف ہے کہ بعض ممالک کے ساتھ پاکستان کے معاہدوں کے تحت آفیشل پاسپورٹ رکھنے والوں کو ویزا سے استثنیٰ یا مخصوص سفری سہولتیں مل سکتی ہیں۔
یہ بات اہم ہے کہ بلیو پاسپورٹ، سفارتی یا ڈپلومیٹک پاسپورٹ سے الگ ہوتا ہے۔ اسے رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ملک میں بغیر ویزا داخلے کی اجازت، سفارتی استثنیٰ یا ہر ہوائی اڈے پر خصوصی پروٹوکول خود بخود حاصل ہو جائےگا۔ ہر ملک کے اپنے قواعد اور پاکستان کے ساتھ طے شدہ معاہدے ہوتے ہیں۔
بلیو پاسپورٹ سے ارکانِ پارلیمنٹ کو کیا فائدہ ہوتا ہے؟
بلیو پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو بعض ممالک میں دوطرفہ معاہدوں کے تحت ویزا سے استثنیٰ مل سکتا ہے۔
ویزا درخواست اور سفری دستاویزات کا سرکاری طریقۂ کار
آفیشل پاسپورٹ کے اجرا اور استعمال کے لیے مخصوص سرکاری طریقۂ کار موجود ہے۔ اس نوعیت کی دستاویز سرکاری ذمہ داریوں کے تحت سفر کرنے والے افراد کے لیے متعلقہ منظوریوں اور سفری کارروائیوں میں سہولت فراہم کر سکتی ہے۔
عہدہ ختم ہونے کے بعد بھی پاسپورٹ برقرار رکھنے کا حق
اس ترمیم کا سب سے نمایاں فائدہ سابق ارکان کے لیے ہے۔ اگر بل قانون بن جاتا ہے تو اہل سابق ارکان کو ہر بار سابقہ عہدے کی بنیاد پر اپنی اہلیت ثابت کرنے یا مکمل پارلیمانی مدت کی شرط پوری کرنے کے مسئلے کا سامنا نہیں ہو گا۔ البتہ پاسپورٹ کی تجدید، میعاد اور استعمال کے لیے مقررہ شرائط لاگو رہیں گی۔
بلیو پاسپورٹ کے بارے میں ایک عام تاثر یہ ہے کہ اس کے حامل افراد دنیا کے کسی بھی ملک میں بغیر ویزا جا سکتے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے۔
بچوں کو بلیو پاسپورٹ دینے کی تجویز کیوں واپس لی گئی؟
سینیٹ میں بل پر بحث کے دوران سابق ارکانِ پارلیمنٹ کے بچوں کو بھی بلیو پاسپورٹ دینے کی تجویز پر اختلاف سامنے آیا۔ وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور دیگر ارکان نے اس تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا۔


