نئی دہلی /بیجنگ ، بھارتی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش میں چین بھارت فوجی تصادم شروع ہو گیا ہے چین کی فوج اروناچل پردیش میں سات کلومیٹر اندر داخل ہوگئی ہے ۔
روزنامہ ’دی ہندو‘ کے مطابق اروناچل پردیش کے تاکسنگ گاؤں کے قریب اسافیلا کے علاقے میں جولائی سے چینی اور انڈین افواج ایک دوسرے کے مقابل موجود تھیں۔’جولائی میں کسی وقت ماجا کے مقام پر انڈین اور چینی افواج آمنے سامنے آ گئیں۔ مختصر کشیدگی کے بعد دونوں جانب کے فوجی واپس چلے گئے، تاہم چند روز بعد چینی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے اہلکار بڑی تعداد میں دوبارہ وہاں پہنچے اور تقریباً چھ سے سات کلومیٹر اندر اس علاقے میں خیمے نصب کر لیے، جسے انڈیا اپنا علاقہ تصور کرتا ہے۔‘
یہ صورتحال 11 سے 13 ستمبر تک نئی دہلی میں منعقد ہونے والے برکس سربراہی اجلاس (جس میں چینی صدر شی جن پنگ بھی شریک ہوئے تھے) اور جولائی کے بعد سرحدی تنازع پر ہونے والے اعلیٰ سطح کے تین مذاکراتی ادوار کے باوجود برقرار رہی۔
بی بی سی کے مطابق ادھر بھارتی نیم فوجی دستے انڈین بارڈر فورس ‘انڈو تبتن بارڈر پولیس’ (ITBP) کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور نے سرکاری سطح پر اعتراف کیا ہے کہ اروناچل پردیش میں کئی مقامات پر انڈین اور چینی افواج کے درمیان شدید ٹکراؤ اور آمنا سامنا ہوا ہے، اور یہ تشویشناک صورتحال اب بھی بدستور جاری ہے۔
راجستھان کے شہر الور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی ٹی بی پی کے سربراہ نے کھلے عام اعتراف کیا کہ چین کا روایتی انداز میں مقابلہ کرنا اب انتہائی مشکل اور ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی پیپلز لبریشن آرمی (PLA) نے جدید ٹیکنالوجی، ڈرون سسٹمز اور وسائل کا اتنا وسیع استعمال کیا ہے کہ انڈین فورسز کو شدید دفاعی چیلنجز کا سامنا ہے۔
چینی فوج کے اس جابرانہ دباؤ اور بھارتی عزیمت کے منظر عام پر آنے کے بعد انڈیا کی اندرونی سیاست میں زلزلہ آ گیا ہے۔ اپوزیشن جماعت کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے وزیراعظم نریندر مودی پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت قومی سلامتی کے معاملے پر ملک کو اندھیرے میں رکھ رہی ہے۔ کھرگے نے سوال اٹھایا: “ڈوکلام اور وادیِ گلوان میں رسوائی کے بعد کیا اب اروناچل پردیش بھی چین کے حوالے کیا جا رہا ہے؟”
کانگریس نے انکشاف کیا کہ گلوان میں 20 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت اور رسوائی کے باوجود مودی سرکار کی بزدلانہ پالیسی کا یہ عالم ہے کہ چین سے درآمدات میں 102 فیصد اضافہ ہوا ہے اور تجارتی خسارہ 112 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔ شیو سینا اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ مودی حکومت کے ‘میک ان انڈیا’ کے تمام نعرے اب ‘چین سے درآمدات’ میں تبدیل ہو چکے ہیں، اور بھارتی سرکار اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے سفارتی فوٹو سیشن کا سہارا لے رہی ہے۔
وشدید تنقید کے بعد انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے رسمی اور دفاعی انداز اپناتے ہوئے اعتراف کیا کہ چینی افواج کی جانب سے مقررہ گشتی راستوں سے انحراف کے باعث سرحدی حالات بگڑے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، انڈین میڈیا اور سرکاری حکام کا یہ اعتراف اس بات کا بین ثبوت ہے کہ بیجنگ نے ایل اے سی (LAC) پر اپنا پلڑا مکمل طور پر بھاری کر لیا ہے اور بھارت کو دفاعی محاذ کے ساتھ ساتھ سفارتی اور معاشی محاذ پر بھی شدید خفت کا سامنا ہے۔
اروناچل پردیش انڈیا کی شمال مشرقی ریاست ہے۔ چین اسے جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے اور اسے زینان کے نام سے پکارتا ہے۔ چین اس ریاست پر دعویٰ بھی کرتا ہے۔
اروناچل پردیش کا رقبہ تقریباً 83 ہزار مربع کلومیٹر ہے اور اس کی آبادی تقریباً 16 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ ریاست کی 1129 کلومیٹر طویل سرحد چین سے ملتی ہے۔


