اسلام آباد(ای پی آئی) پاکستان میں قائم نئی وفاقی آئینی عدالت نے سابق سرکاری ملازم مدح حسین کو سرکاری پلاٹ الاٹ نہ ہونے کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائزہاؤسنگ فاؤنڈیشن سے جواب طلب کر لیا۔ عدالت نے اٹارنی جنرل آفس کو بھی نوٹس جاری کر دیا۔
جسٹس حسن اظہررضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں سابق ملازم مدح حسین کو سرکاری پلاٹ کی عدم الاٹمنٹ کا معاملہ زیرِ غور آیا۔
سماعت کے دوران جسٹس حسن رضوی نے ریمارکس دیئے کہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کے خط کے مطابق مدح حسین سول سرونٹ تھے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن مدح حسین کو سرکاری ملازم تسلیم کیوں نہیں کر رہی اور وہ سیکرٹری کابینہ کے خط کو کیسے نظر انداز کر سکتی ہے۔
جسٹس حسن رضوی نے مزید استفسار کیا کہ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن سیکرٹری کابینہ کے خط کو کہاں لے کر جائے گی۔
دوسری جانب ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مدح حسین براہِ راست سرکاری ملازم نہیں تھے بلکہ ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے بورڈ کے ملازم تھے۔
عدالت نے معاملے پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، ہاؤسنگ فاؤنڈیشن اور اٹارنی جنرل آفس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے جواب طلب کر لیا۔
یاد رہے کہ درخواست گزار مدح حسین 1977 سے 2005 تک ملازمت کرتے رہے، تاہم وہ گزشتہ 21 سال سے سرکاری پلاٹ کی الاٹمنٹ سے محروم ہیں۔ کیس کی مزید کارروائی میں متعلقہ اداروں کے مؤقف ، اٹارنی جنرل کی رائے اور دستیاب ریکارڈ کی روشنی میں معاملے کا جائزہ لیا جائے گا۔


