فوجی سربراہ نے ایران کے خلاف کارروائی کے لیے تحریری اجازت طلب کرلی، گادی آئزن کوٹ کی نیتن یاہو پر کڑی تنقید
تل ابیب – اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور فوج کے سربراہ ایال زامیر کے درمیان ایران کے خلاف مجوزہ فوجی کارروائی پر اختلافات سامنے آگئے ہیں۔ عبرانی ٹی وی چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق منگل کو ہونے والے انتخابات سے چند روز قبل سیاسی قیادت نے فوج کو ایران پر حملے ،ایک ایسی کارروائی کی ہدایت دی تھی جس سے ایران کے ساتھ تیزی سے فوجی تصادم کا خدشہ پیدا ہوسکتا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ایال زامیر نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظر تفصیلی مشاورت اور سیاسی قیادت کی جانب سے دستخط شدہ تحریری اجازت طلب کی۔ سکیورٹی حکام کو خدشہ تھا کہ مجوزہ کارروائی ایران کے ساتھ اچانک تصادم اور غلط اندازے کی بنیاد پر بڑے بحران کا سبب بن سکتی ہے۔
چینل 12 سے گفتگو کرنے والے سکیورٹی حکام نے خدشہ ظاہر کیا کہ سیاسی قیادت انتخابات سے قبل ایران کے معاملے کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہتی تھی۔ ایک سینئر اسرائیلی سکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ایال زامیر نے جو کردار ادا کیا، تاریخ اسے فراموش نہیں کرے گی۔ رپورٹ کو اسرائیلی فوجی سنسر کی جانب سے اشاعت کی اجازت دی گئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو نے اتوار کی شب چینل 14 کے پروگرام میں فوجی سربراہ سے اختلافات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کوئی محاذ آرائی نہیں ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بعض عناصر اس حقیقت کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں کہ زامیر خود کہہ چکے ہیں کہ ایران اسرائیلی انتخابات میں مداخلت کی کوشش کررہا ہے۔ تاہم سیاسی عہدیداروں نے انتخابات میں سیاسی فائدہ اٹھانے کے الزام کو صریح جھوٹ قرار دیا۔
دوسری جانب نیتن یاہو نے اتوار کی شب چینل 14 کے پروگرام میں فوجی سربراہ سے اختلافات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کوئی محاذ آرائی نہیں ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بعض عناصر اس حقیقت کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں کہ زامیر خود کہہ چکے ہیں کہ ایران اسرائیلی انتخابات میں مداخلت کی کوشش کررہا ہے۔ نتن یاہو نے انتخابات میں سیاسی فائدہ اٹھانے کے الزام کو صریح جھوٹ قرار دیا۔
نیتن یاہو کے اہم انتخابی حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزن کوٹ نے فوجی سربراہ کے محتاط رویے کی حمایت کرتے ہوئے وزیراعظم کو مخاطب کرکے کہا کہ ان کی
نظر نیتن یاہو پر ہے۔
انہوں نے ایال زامیر اور فوجی کمانڈروں پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پیشہ ورانہ ذمہ داری اور قومی سلامتی کے لیے مکمل عزم کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ آئزن کوٹ نے خبردار کیا کہ فوج کو نیتن یاہو کی سیاسی بقا کی مہم کا آلہ کار نہیں بننے دیا جائے گا اور وزیراعظم کو اپنے سیاسی مفادات ملکی سلامتی پر مقدم نہیں رکھنے چاہییں۔
رپورٹ کے مطابق ایران پر حملے کے خدشات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب 27 اکتوبر کے انتخابات قریب ہیں۔ اس ماہ کے آغاز میں ایال زامیر نے بھی اشارہ دیا تھا کہ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی کوئی عملی ضرورت نہیں، جبکہ اس سے پہلے امریکی حکام کو خبردار کیا تھا کہ کشیدگی انتخابی شیڈول متاثر کرسکتی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو الیکشن سے قبل اپنی یقینی شکست کو جیت میں بدلنے کے لیے اسرائیلی عوام کو مسلسل ایران سے ڈرا رہے ہیں۔ انہوں نے ممکنہ حملوں سے متعلق تصاویر بھی جاری کیں اور ایک میزائل دفاعی نظام کے قریب ویڈیو ریکارڈ کرکے ایران کو خبردار بھی کیا۔


