اسلام آباد(ای پی آئی) وفاقی آئینی عدالت میں گھریلو گیس کنکشن کے مبینہ کمرشل استعمال پر صارف کو 17 لاکھ روپے کا بل بھیجنے کے معاملے کی سماعت کے دوران عدالت نے محکمہ سوئی گیس کی کارکردگی اور الزامات کے ثبوتوں سے متعلق اہم سوالات اٹھا دیئے تاہم عدالت نے ایس این جی پی ایل کے وکیل کو متعلقہ دستاویزات جمع کرانے کی اجازت دے دی۔

سماعت کے دوران جسٹس حسن رضوی نے استفسار کیا کہ ایس این جی پی ایل کو 17 لاکھ روپے کی غیر قانونی گیس کے استعمال کا کب علم ہوا؟ انہوں نے ریمارکس دیے کہ 17 لاکھ روپے کی گیس کسی نہ کسی نے ضائع کی، جبکہ غریب عوام مہنگی گیس خرید رہے ہیں۔

ایس این جی پی ایل کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ صارف نے گھریلو گیس کنکشن کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کیا تھا۔ ان کے مطابق محکمہ گیس کی جانب سے باقاعدہ ریڈ کیا گیا، جس کے دوران گھریلو میٹر سے کمرشل استعمال کا انکشاف ہوا۔

اس پر جسٹس حسن رضوی نے استفسار کیا کہ آیا صارف سی این جی اسٹیشن، تندور یا ہوٹل چلا رہا تھا؟ وکیل نے جواب دیا کہ گھریلو گیس اسپتال کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔

جسٹس حسن رضوی نے محکمہ گیس سے مبینہ خلاف ورزی کے شواہد کے بارے میں سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ صارف کے خلاف ریڈ کے ثبوت کہاں ہیں اور موقع سے کون سے شواہد قبضے میں لیے گئے؟ انہوں نے ریمارکس دیئے کہ عدالت میں محکمہ ان سوالات کے جواب دینے سے قاصر رہا۔

جسٹس حسن رضوی نے محکمہ گیس کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے کی نااہلی ہے اور ملازمین ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھے رہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس تو بدنام ہے، محکمہ گیس میں بھی بڑے تماشے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ گیس کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ چوری ہوئی یا گیس کا غلط استعمال کیا گیا۔

سماعت کے دوران جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیئے کہ گیس کی چوری یا غلط استعمال ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ایس این جی پی ایل جیسے بڑے ادارے کو ایسے معاملات سنجیدگی سے لینے چاہییں۔

ایس این جی پی ایل کے وکیل نے عدالت سے متعلقہ دستاویزات جمع کرانے کے لیے مہلت طلب کی، جس پر عدالت نے انہیں دستاویزات پیش کرنے کی اجازت دے دی۔

یاد رہے کہ محکمہ سوئی گیس نے پشاور کے صارف عرفان علی کو مبینہ طور پر گھریلو کنکشن کے کمرشل استعمال کے الزام میں 17 لاکھ روپے کا بل بھیجا تھا۔ صارف نے متعلقہ عدالت سے رجوع کیا، جہاں سے انہیں ریلیف ملا۔ محکمہ گیس اس فیصلے کے خلاف وفاقی عدالت میں اپیل دائر کیے ہوئے ہے۔