امریکا کی عالمی طاقت میں ممکنہ کمی، امریکا اور ایران کے درمیان ایٹمی تصادم اور 27 سالہ عالمی جنگ کے خدشات سے متعلق تین پیش گوئیوں نے میڈیا کی توجہ حاصل کرلی۔
برطانوی ویب سائٹ کی رپورٹ کےمطابق خود کو ’امریکا کا نوسٹرڈیمس‘ کہنے والے مصنف جان ہوگ نےعالمی حالات کے تناظر میں مستقبل سے متعلق کئی دعوے کیے ہیں۔

جان ہوگ گزشتہ تقریباً چار دہائیوں سے سولہویں صدی کے فرانسیسی نجومی نوسٹرڈیمس کی تحریروں کا مطالعہ کر رہے ہیں،وہ قدیم تحریروں، علمِ نجوم اور موجودہ سیاسی حالات کو ملا کر مستقبل کے بارے میں اپنے اندازے پیش کرتے ہیں۔

جان ہوگ کی تیسری پیش گوئی ایک طویل عالمی جنگ سے متعلق ہے، جو ان کے بقول 27 سال تک جاری رہ سکتی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ایسی جنگ مغربی ایشیا میں تیل، قدرتی گیس اور ہیلیئم کی صنعتوں کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے توانائی، خوراک اور پانی کی فراہمی پر شدید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہوگا۔

جان ہوگ کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد خوف پھیلانا نہیں بلکہ جنگ کے ممکنہ نتائج سے خبردار کرنا ہے۔ تاہم یہ پیش گوئیاں ان کے ذاتی دعوے اور اندازے ہیں، ثابت شدہ حقائق نہیں۔