امریکی ٹیکنالوجی کمپنی نے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے روبوٹ کتوں کو شہر کی سڑکوں پر سیر کرانے کے لیے افراد کو فی گھنٹہ 20 ڈالر معاوضے کی پیش کش کی ہے۔
کمپنی کے بانی اسٹیش پومیخٹر کے مطابق اس تجربے کا مقصد روبوٹس کو حقیقی ماحول میں بہتر انداز سے حرکت کرنا سکھانا ہے۔ اس دوران انسان روبوٹ کتوں کو کنٹرول کرتے ہیں، جبکہ ان کے کیمرے اور سینسر راستوں اور اردگرد کے ماحول سے متعلق معلومات جمع کرتے ہیں۔ اس ڈیٹا سے مصنوعی ذہانت کے نظام کو خود مختار انداز میں راستہ تلاش کرنے کی تربیت دی جاسکتی ہے۔
کمپنی کے تجربات سے ظاہر ہوا کہ روبوٹس کو کنٹرول کرنے میں مصنوعی ذہانت ابھی انسانی آپریٹرز جتنی مؤثر نہیں۔ بعض اوقات روبوٹ زیادہ گرم ہونے یا کام کرنا چھوڑ دینے کے باعث بند بھی ہوجاتے ہیں، ایسی صورت میں کارکنوں کو قریباً 15 کلوگرام وزنی روبوٹ اٹھا کر دفتر واپس لے جانا پڑ سکتا ہے۔
پومیچٹر نے کہا کہ کمپنی کے تجربے سے معلوم ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت ابھی روبوٹس کو مؤثر انداز میں کنٹرول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور اس عمل میں انسانوں کی شمولیت ضروری ہے۔
ڈائمینشنل کے روبوٹ کتے چین کی کمپنی یونٹری سے خریدے گئے ہیں جن میں سے ہر ایک کی قیمت 2 ہزار ڈالر ہے، کمپنی ان روبوٹ کتوں کو اپنے تیار کردہ آپریٹنگ سسٹم کے تجربات کے لیے استعمال کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں روبوٹس کو جسمانی مشقت والے کاموں کے لیے زیادہ مؤثر بنایا جاسکے۔
کمپنی کا یہ تجربہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے شعبوں میں مختلف کمپنیوں کی جانب سے روبوٹس کو حقیقی دنیا کے کاموں کے لیے تیار کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاہم ڈائمینشنل کے ابتدائی تجربات کے مطابق روبوٹس کو حقیقی دنیا میں مؤثر انداز میں کام کرنے کے قابل بنانے کے لیے ابھی انسانی مدد اور ڈیٹا جمع کرنے کی ضرورت ہے۔


