اسلام آباد(ای پیآئی) وفاقی شرعی عدالت پاکستان کے قائم مقام چیف جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور نے کہا ہے کہ عائلی عدالتوں کے قانون کی دفعہ 10(3) اور 10(4) کی تشریح کی، جن کے تحت عائلی عدالت ابتدائی سماعت (پری ٹرائل) کے مرحلے پر فریقین کے درمیان صلح یا مصالحت کی کوشش کرنے کی پابند ہے، جبکہ مصالحت نہ ہونے کی صورت میں مقدمے کی آئندہ کارروائی کا طریقہ کار بھی انہی دفعات میں طے کیا گیا ہے
چیف جسٹس ڈاکٹر سید محمد انورنے پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے کالا شاہ کاکو کیمپس میں منعقدہ سیمینار سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کیا۔ سیمینار کا عنوان "مغربی پاکستان عائلی عدالتوں کے ایکٹ 1964ء کی دفعہ 10(3) اور 10(4) کے تحت شریعت کے مطابق مصالحت کا تعارف” تھا، جس میں پنجاب کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے 125 ججز نے شرکت کی۔
جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور نے اپنے خطاب کا آغاز قرآنِ مجید اور سنتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں کیا اور ازدواجی تنازعات کے حل میں صلح و مفاہمت کو اسلامی تعلیمات میں حاصل مقام پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہی اصول پاکستان میں عائلی مقدمات کے قانونی ڈھانچے میں کس طرح سمویا گیا ہے۔
قانونی پہلو پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے عائلی عدالتوں کے قانون کی دفعہ 10(3) اور 10(4) کی تشریح کی، جن کے تحت عائلی عدالت ابتدائی سماعت (پری ٹرائل) کے مرحلے پر فریقین کے درمیان صلح یا مصالحت کی کوشش کرنے کی پابند ہے، جبکہ مصالحت نہ ہونے کی صورت میں مقدمے کی آئندہ کارروائی کا طریقہ کار بھی انہی دفعات میں طے کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس موضوع پر اعلیٰ عدالتوں کے اہم فیصلوں اور ان میں دی گئی ہدایات کا بھی تفصیلی جائزہ پیش کیا۔
سوال و جواب کی نشست میں شرکاء نے مختلف سوالات اٹھائے۔ جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور نے ان کے جوابات دیتے ہوئے عائلی مقدمات کی سماعت کے دوران مقررہ طریقہ کار اور اس کے عملی اطلاق سے متعلق ججز کے ابہامات دور کیے۔ شرکاء نے ان کی قیمتی رہنمائی اور عملی بصیرت کو بھرپور انداز میں سراہا۔
سیمینار کے اختتام پر اکیڈمی کی جانب سے جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور کو اظہارِ تشکر کے طور پر یادگاری تحفہ پیش کیا گیا۔


