امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ انتہا پسند بائیں بازو کو امریکا پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جبکہ وسط مدتی انتخابات کے نتائج توقعات سے کہیں بہتر ہوں گے۔
وسط مدتی انتخابات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشی گن سے سینیٹ کے امیدوار عبدل السید جیسے افراد کو اسرائیل کا معاملہ اٹھا کر ان کی انتظامیہ کی کامیابیوں کو نظرانداز کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
دوسری جانب مشی گن سے سینیٹ کے امیدوار عبدل السید نے کہا ہے کہ ان کی توجہ امریکی سینیٹ کے پہلے مسلمان رکن منتخب ہونے کے بجائے اپنے پالیسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے پر مرکوز ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی کامیابی سے یہ پیغام جائے گا کہ امریکا اتنا وسیع ملک ہے کہ اس میں ہر پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے جگہ موجود ہے۔
یاد رہے کہ امریکا میں مڈٹرم الیکشن کیلئے ووٹنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح اپنی کم ترین سطح کے قریب ہے، ایران کے ساتھ جنگ، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور مہنگائی کو ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کی اہم وجوہات قرار دی گئی ہیں۔
ڈیموکریٹس کو ایوان نمائندگان میں اکثریت کے لیے 3 اور سینیٹ میں 4 نشستیں حاصل کرنا ہوں گی، ڈیموکریٹس کامیابی کی صورت میں ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف تحقیقات اور صدر کی اہم نامزدگیوں کو روکنےکا اختیار حاصل کرسکتے ہیں۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد ہونے والے مڈٹرم الیکشن کی تاریخ بھی صدر کی جماعت کے حق میں نہیں رہی، اس عرصے میں صرف 2 انتخابات کے سوا باقی تمام مواقع پر حکمران جماعت نے کانگریس میں اپنی نشستیں کھوئی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ میں انتخابی میدان میں نہیں تھا، ورنہ ہم بھاری اکثریت سے جیت جاتے ، انتہا پسند بائیں بازو كو امریکا پر قبضہ کرنے نہیں دوں گا، انتخابات کے نتائج گمان سے زیادہ اچھے ثابت ہوں گے۔
امریکی صدر نے وسط مدتی انتخابات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ا کہ مشی گن کے عبدل السید جیسے امیدواروں کو اسرائیل کے بہانے انتظامیہ کے کارناموں کو فراموش کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔
نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں امیدوار ہوتا تو ہماری جماعت کو زبردست فتح ملتی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وسط مدتی انتخابات کے نتائج تسلیم کروں گا، ڈیمو کریٹس کے ساتھ مل کر کام کروں گا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ممکن ہے دونوں جماعتیں کسی معاملے پر اتفاقِ رائے پیدا کر لیں۔
واضح رہے کہ امریکی ریاستوں ورمونٹ، ورجینیا، جنوبی کیرولائنا، جورجیا اور فلوریڈا کے متعدد علاقوں میں پولنگ ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹ امیدواروں کو سبقت حاصل ہے۔


