ایران: شہریوں کو ممکنہ جوہری حملے کی صورت میں محفوظ رکھنے کے لیے ہنگامی ہدایات جاری

جوہری دھماکے کے بعد کم از کم 24 گھنٹے تک پناہ گاہوں یا محفوظ عمارتوں کے اندر رہنے کی تیاری رکھیں،حکام کی شہریوں کو ہدایت

تہران ایرانی سرکاری میڈیا نے شہریوں کو ممکنہ جوہری حملے کی صورت میں اپنی جانیں محفوظ رکھنے کے لیے ہنگامی ہدایات جاری کر دیں۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر کی جانے والی ہدایات میں جوہری دھماکے کے اثرات اور تابکار آلودگی سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر بتائی گئی ہیں۔

حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ محفوظ مقامات کی نشاندہی کریں اور جوہری دھماکے کے بعد کم از کم 24 گھنٹے تک پناہ گاہوں یا محفوظ عمارتوں کے اندر رہنے کی تیاری رکھیں۔

ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ہدایات کے مطابق شہری جوہری دھماکے کی شدید روشنی کو براہِ راست دیکھنے سے گریز کریں، فوری طور پر کسی مضبوط رکاوٹ کی آڑ لیں، زمین پر لیٹ جائیں اور ابتدائی دھماکے کی لہر گزرنے تک اپنے سر اور چہرے کو محفوظ رکھیں۔

صورتِ حال محفوظ ہونے پر قریبی مضبوط کنکریٹ کی عمارت میں پناہ لیں اور کھڑکیوں، بیرونی دیواروں اور کھلی جگہوں سے دور رہیں۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ گاڑیوں کو پناہ گاہ کے طور پر استعمال نہ کیا جائے اور دھماکے کے مقام کے قریب جا کر واقعے کو دیکھنے یا ریکارڈ کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔

تابکار آلودگی سے بچنے کے لیے ممکنہ طور پر آلودہ کپڑے احتیاط سے اتارنے اور جسم کے کھلے حصوں کو نیم گرم پانی اور صابن سے دھونے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

حکام کے مطابق بالوں کو دھونے کے لیے عام شیمپو استعمال کیا جائے، کنڈیشنر سے گریز کیا جائے، جبکہ پینے کے لیے بوتل بند پانی اور خوراک کے لیے پیک شدہ اشیاء استعمال کی جائیں۔

یہ ہدایات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایک سینئر امریکی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ امریکی فوج نے طیارے پر حملے کے بعد آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے محدود دفاعی کارروائیاں کی ہیں۔