ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکی انتخابات سے ایران اور امریکا کے درمیان دشمنی ختم نہیں ہوگی، امریکا ایران کا دشمن رہے گا، اس کے برعکس سوچنا غلط فہمی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پر کسی بھی حملے کا شدید جواب دیا جائے گا اور امریکا کے ناقابلِ شکست ہونے کا تصور بھی ختم ہو چکا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے خلاف دوبارہ جارحیت کی گئی تو جنگ کا دائرہ بہت وسیع ہوجائے گا۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ کے دوبارہ شروع ہونے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، جبکہ امریکی اور اسرائیلی قیادت نے حالیہ دنوں میں ایران پر حملے دوبارہ شروع کرنے کی دھمکیاں دی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی تھی۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے مارچ میں اقتدار سنبھالا تھا، تاہم اس کے بعد سے وہ تاحال عوام کے سامنے نہیں آئے۔

ایران کے چیف مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی امریکی انتخابی نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام نے جنگ کے خلاف ووٹ دیا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر نے آبنائے ہرمز کے زمینی اور بحری انتظام پر مکمل کنٹرول برقرار رکھنے اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو مسلسل نشانے پر رکھنے کے اقدامات کو مزاحمتی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا۔