واشنگٹن: ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں اہم پیشرفت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جہاں ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق ایسے امور پر بھی بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کر دی ہے جو اس سے قبل مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھے، دونوں ممالک جنگ کے خاتمے کے لیے کسی ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچ سکتے ہیں اور جوہری پروگرام پر ایران کی جانب سے لچک کا مظاہرہ مذاکرات میں بڑی پیشرفت کا سبب بن سکتا ہے۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق مذاکرات سے باخبر ایک سفارت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے متعلق قطر کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کا بغور جائزہ لے رہا ہے، تہران نے جوہری سرگرمیوں سے متعلق بعض نئے معاملات پر بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، جسے امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل میں اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے جوہری پروگرام کے معاملے پر کسی بھی قسم کی رعایت مذاکرات کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس پیشرفت سے جنگ کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں کو نئی سمت ملنے اور دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کم کرنے کی راہ ہموار ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ تاہم ابھی تک کسی حتمی معاہدے یا دونوں فریقوں کی جانب سے باضابطہ اتفاق رائے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن رفتار انتہائی سست ہے، ٹرمپ فی الحال ایران کیساتھ سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کے حق میں ہیں۔ جےڈی وینس ایران جنگ کو وسط مدتی انتخابات میں شکست کی بڑی وجہ قرار دے چکے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایرانی وفد کی امریکا سے ممکنہ معاہدے پر بات چیت کیلئے آج دوحہ آمد متوقع ہے۔ مجوزہ معاہدہ ٹرمپ کو جنگ ختم کرنے کیلئے قابلِ قبول راستہ فراہم کرسکتا ہے، مجوزہ معاہدے میں مذاکرات کی مدت 60 دن سے کم کرکے دو دن کرنے کی تجویز ہے۔