کراچی: (7 نومبر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے تھرپارکر میں شدید خشک سالی کے باعث ضلع کو آفت زدہ قرار دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری امدادی اقدامات کرنے کی ہدایت کردی۔
وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں تھرپارکر کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلع کے تمام سات تعلقوں میں خشک سالی جیسی صورتحال ہے، جبکہ فصلوں کو تقریباً 85 سے 90 فیصد نقصان پہنچ چکا ہے۔
محکمہ زرعی توسیع کے مطابق غیر متوازن بارشوں کے باعث فصلیں اور قدرتی گھاس پکنے سے پہلے ہی خشک ہوگئیں۔ ستمبر 2026 کے دوران تھرپارکر کے ساتوں تعلقوں میں صرف ایک سے 36 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ تھرپارکر کے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور غیر فعال آر او پلانٹس کی فوری مرمت کرکے انہیں دوبارہ فعال کیا جائے۔ انہوں نے پانی کی فراہمی کے تمام موجودہ ذرائع بھی فوری بحال کرنے کا حکم دیا۔
مراد علی شاہ نے چیف سیکریٹری سندھ کو نؤکوٹ سے مٹھی تک پانی کی لائن بچھانے کی فزیبلٹی کا جائزہ لینے اور اس حوالے سے طویل المدتی منصوبہ بندی کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے خشک سالی کے باعث متاثر ہونے والے مویشیوں کے تحفظ کے لیے بھی قابل عمل تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تھرپارکر کے متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، سندھ حکومت ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کی جائے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ عوام کو پینے کے پانی کی فراہمی، مویشیوں کا تحفظ اور متاثرہ خاندانوں کو فوری ریلیف دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔


