غزہ میں سردیوں کی پہلی شدید بارش نے اسرائیلی حملوں سے بے گھر ہونے والے فلسطینی خاندانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
موسلادھار بارش کے باعث مختلف علاقوں میں قائم خیمہ بستیاں زیرِ آب آگئیں، ہزاروں خاندانوں کا سامان، بستر، کمبل اور گدے بھیگ گئے جبکہ متعدد عارضی پناہ گاہیں رہنے کے قابل نہیں رہیں۔
گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران کم از کم 70 ہزار خیمے بارش کے پانی سے متاثر ہوئے، جس کے نتیجے میں دسیوں ہزار بے گھر فلسطینیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متاثرہ خاندانوں میں خواتین، بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کی بڑی تعداد شامل ہے۔
غزہ کی سول ڈیفنس سروس کا کہنا ہے کہ انہیں بے گھر ہونے والے شہریوں کی جانب سے مدد کے لیے متعددکالز موصول ہوئی ہیں۔
میونسپل اور سول ڈیفنس حکام نے بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایندھن کی شدید قلت اور آلات کو پہنچنے والے بھاری نقصان کی وجہ سے اس صورتحال سے نمٹنے سے قاصر ہیں۔
حکام کے مطابق اسرائیل نے جنگ کے دوران بلڈوزروں اور پانی نکالنے کے لیے استعمال ہونے والی مشینوں سمیت سول ڈیفنس کی سیکڑوں گاڑیوں کو تباہ کر دیا ہے۔
اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غزہ کے 20 لاکھ سے زائد رہائشیوں کی اکثریت در بدر اور غزہ کا بیشتر حصہ کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے جس کے باعث آبادی کی اکثریت اب انہی خیمہ بستیوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔


