اسلام آباد(ای پی آئی) اسلام آباد کے جوڈیشل مجسٹریٹ وقاص احمد راجہ نے الیکشن کمیشن کو دھمکیاں دینے کے کیس میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء فواد چوہدری کو مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالہ کردیا۔
تحریری حکم نامے کا مکمل متن
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کے مزید 2روزہ جسمانی ریمانڈ کا تحریری حکم نامہ آگیا ہے ۔
اسلام آباد کے جوڈیشل مجسٹریٹ وقاص احمد راجہ کی جانب سے پانچ صفحات اور دس پیراگراف پر مشتمل فیصلہ جاری کیا گیا ہے
یہ فیصلہ اسلام آباد پولیس کی جانب سے سات روزہ ریمانڈ کیلئے دائر کی گئی درخواست پر دیا گیا ہے ۔
28جنوری 2023کو دوران سماعت ملزم فواد چوہدری، تفتیشی افسر انسپکٹرمحمد علی کی حراست میں پیش ہوئے، فواد چوہدری کی طرف سے بابراعوان ،فیصل چوہدری ، سید محمد علی بخاری بطور وکیل پیش ہوئے
الیکشن کمیشن کی طرف سے سعد حسن ایڈووکیٹ جبکہ ریاست کی طرف سے ڈپٹی ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر عدنان علی پیش ہوئے۔
عدالتی حکم
فیصلے میں مجسٹریٹ نے لکھا ہے کہ معاملے پرکارروائی کو آگے بڑھانے سے پہلے یہ واضح کیا جاتا ہے کہ انہیں 16جنوری کوآج کیلئے علاقہ مجسٹریٹ اورجج ان ڈیوٹی ڈکلیر کیا گیا تھا
پیراگراف نمبر دو
مجسٹریٹ نے لکھا ہے کہ ملزم کو سیشن جج ویسٹ اسلام آباد کے حکم پراس عدالت کے سامنے تین بج کر 25 منٹ پر پیش کیا گیا ،سیشن جج ویسٹ اسلام آباد نے ریاست کی جانب سے 27 جنوری کو دائر کی گئی درخواست پر حکم دیا تھا، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی طرف سے ریمانڈ کی استدعا کر مسترد کرتے ہوئے فواد چودھری کوجوڈیشل لاک اپ بھجوایا گیا تھا فاضل مجسٹریٹ نے ایڈیشنل سیشن جج سیشن کے حکم کا کچھ حصہ بھی آپ نے تحریری آرڈر میں شامل کیا ہے جس میں سیشن جج نے ستائیس جنوری کو ڈیو ٹی مجسٹریٹ کی طرف سے جاری حکم کالعدم قرار دیاتھا اپنے حکم میں سیشن جج نے لکھا تھاکہ ملزم کے ریمانڈ کا معاملہ فاضل مجسٹریٹ کے پاس زیر سماعت ہے اس لیے دونوں فریقین سوا تین بجے مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہوں ۔
عدالت نے لکھا ہے کہ سیشن جج نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ ملزم تحویل میں ہے اور انہیں ڈیوٹی مجسٹریٹ کے سامنے سوا تین بجے پیش کیا جائے اور ڈیوٹی مجسٹریٹ تفتیشی افسر کی مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست کو قانون کی روشنی میں دیکھیں اور تمام سابقہ احکامات سے متاثر ہوئے بغیر فیصلہ کریں
پیراگراف نمبر تین
عدالت نے لکھا ہے کہ سیشن جج کی طرف سے دی گئی آبزرویشنز کی روشنی میں اس عدالت میں یہ معاملہ سنا گیا ۔
پیراگراف نمبر 4
عدالت نے لکھا ہے کہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر عدنان علی نے ریاست کی طرف سے پیش ہو کر تفتیشی افسر کی طرف سے 27 جنوری کو مانگے گئے سات روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی حمایت کی اور موقف اپنایا کہ فواد چوہدری کی تحویل اس کیس میں ضروری ہے کیونکہ ان سے موبائل فون لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیوائسز کی ریکوری کرنی ہے اور یہ برآمدگیاںکرنا کیس کی تفتیش کے لئے انتہائی ضروری ہیں
ڈپٹی ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر نے استدعا کی کہ فواد چودھری کو پولیس کے حوالے کیا جائے تاکہ ان کا فوٹو گرامیٹرک ٹیسٹ کرایا جاسکے جو کیس کی پراسیکیوشن کے لئے انتہائی ضروری ہے
پیراگراف نمبر 5
عدالت نے لکھا ہے کہ درخواست گزار سیکرٹری الیکشن کمیشن کی طرف سے سعد حسن ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ وہ بھی تفتیشی افسر کی جسمانی ریمانڈ کے لیے دی گئی درخواست کی حمایت کرتے ہیں تاکہ اس کیس میں شفاف تفتیش کو یقینی بنایا جا سکے
پیراگراف نمبر چھ
فیصلے میں عدالت نے لکھا ہے کہ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ڈاکٹر بابر اعوان نے ملزم کی قانونی ٹیم کی سربراہی کی اور دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ عدالت بطور مجسٹریٹ آزاد ذہن رکھتی ہے مجسٹریٹ کے پاس خصوصی دائرہ اختیار ہے جس کے تحت وہ ملزم کے جسمانی ریمانڈ کے معاملے کو ریگولیٹ کر سکتا ہے بابر اعوان نے مجموعہ ضابطہ فوجداری کی شق 167 اور آئین کی شق 189 اور 203 کا حوالہ دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ عدالت رویژنل کورٹ کے حکم کے باوجود اپنا آزادانہ استعمال کرے اس حوالے سے انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا۔
پیراگراف نمبر 7
عدالت نے لکھا ہے کہ فریقین کے دلائل سننے گئے اور ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا
پیراگراف نمبر 8
عدالت نے مقدمہ کی مختصر تاریخ لکھتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایف آئی آر 24 جنوری 2023کو درج کی گئی جس پر 25 جنوری 2023 کو انہیں گرفتار کیا گیا اورگرفتاری کی جگہ لاہور کی عدالت سے فواد چوہدری کا راہداری ریمانڈ لے کر اسلام آباد کے مجسٹریٹ محمد نوید خان کی عدالت میں پیش کیا گیا محمد نوید خان نے دو روزہ ریمانڈ پر فواد چوہدری کی تحویل میں دیاتھا اس جسمانی ریمانڈ کے عرصہ کے دوران وائس میچنگ کے حوالے سے تحقیقات کی گئیں جبکہ فوٹو گرامیٹرک ٹیسٹ کے لیے تفتیشی افسر نے مزید سات دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی ہے جس پر اس عدالت نے 27 جنوری کو مزید ریمانڈ دینے سے انکار کرتے ہوئے فواد چوہدری کو جوڈیشل لاک اپ بھیج دیاتھا تاہم 27 جنوری کے حکم سے متاثر ہوکر ریاست نے رویژنل کورٹ میں درخواست دائر کی جس میں ڈسٹرکٹ سیشن جج نے اس عدالت کا حکم کالعدم قرار دے کر ہدایت کی کہ تفتیشی افسر کی درخواست کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔
پیراگراف نمبر 9
مجسٹریٹ لکھا ہے کہ رویژنل کورٹ نے لکھا ہے کہ استغاثہ کو تحقیقات کے لیے مناسب موقع نہیں دیا گیا اس ضمن میں گائیڈنس کے لیے مجسٹریٹ نے ڈسٹرکٹ سیشن جج کے حکم کا متعلقہ حصہ اپنے حکم میں شامل کیا ہے
پیراگراف نمبر 10
عدالت نے لکھا ہے کہ سیشن عدالت نے اس معاملے کے قانونی پہلوؤں کے بارے میں وضاحت سے لکھا ہے اور عدالت نے تفتیشی افسر کی ریمانڈ کی استدعا کو دوبارہ دیکھ قانون کی روشنی میں فیصلہ کی ہدایت بھی کی ہے اس لیے سیشن کورٹ کی ابزرویشنز کی روشنی میں تفتیشی افسر کو مزید دو روز کا جسمانی ریمانڈ دیا جاتا ہے اس کے بعد فواد چوہدری کو 30 جنوری 2023 کو اس عدالت کے سامنے پیش کیا جائے ملزم کی درخواست پر تفتیشی افسر کو ہدایت کی جاتی ہے کہ فواد چوہدری کا طبی معائنہ مجاز ہسپتال سے کرایا جائے مزید تفتیشی افسر کو سختی سے ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ خالصتا میرٹ پر اس معاملے کی تفتیش کرے اس آرڈر کی کاپی سیشن جج ویسٹ اسلام آباد کو بھجوائی جائے۔
کیس کی سماعت کا مکمل احوال
سماعت کے دوران پی ٹی آئی وکلاء بابراعوان، علی بخاری اور فیصل چوہدری،الیکشن کمیشن کے وکیل سعدحسن اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے، بابر اعوان ایڈووکیٹ نے کہاکہ زیادہ لمبے دلائل نہیں دوں گا، صرف دو گزارشات کرنا چاہتاہوں، عدالت نے فوادچوہدری کو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت میں وقفہ کردیا.
جس کے دوران پولیس نے سخت سیکیورٹی میں کالی چادر سے چھپائے فواد چوہدری کو عدالت پیش کردیا، جس کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہونے پر بابر اعوان ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ فوادچودھری کے خلاف آن لائن مقدمہ درج کیاگیا،فواد چودھری پر الیکشن کمیشن کے ملازم کی توہین کرنے کا الزام لگایاگیا، فوادچودھری کو گرفتار کرکے مقدمے کا کور دیاگیا.
اس موقع پر ایس ایچ او نے غیر متعلقہ افراد کو کمرہ عدالت سے نکالنا شروع کردیا جس پر عدالت نے اسے روک دیا اور کہاکہ آپ میری عدالت سے کسی کو مت نکالیں، یہ میری عدالت ہے اور اس کو میں نے ریگولیٹ کرناہے، دوران سماعت حبا چوہدری نے فواد چوہدری سے ملاقات کی.
بابر اعوان ایڈووکیٹ نے دلائل کے دوران کہاکہ فوادچوہدری کے خلاف جو حربے آزمائے جارہے وہ ریاستی دہشت گردی ہے،سیشن جج کے پاس ریویو کرنے کے محدود اختیارات ہیں،مجسٹریٹ کے پاس جسمانی اور جوڈیشل ریمانڈ دینے کے اختیارات ہیں،یہ ریاستی دہشت گردی ہے کہ ریاستی مشینری کو ایک شخص کے خلاف استعمال کیا گیا،جسمانی ریمانڈ دینا ہے یا نہیں مکمل طور پر مجسٹریٹ کا اختیار ہے،اس اختیار کو ایک خاتون جج نے اور آج ایک دوسرے سیشن جج نے توڑا،
انہوں نے کہا صنفی امتیاز نہیں ہونا چاہیے تو انہوں نے بھی وہی فیصلہ دیا،سیشن جج کا آج کا فیصلہ مکمل طور پر غیرقانونی ہے، سیشن جج کے پاس مجسٹریٹ کو ریمانڈ سے متعلق فیصلے پر نظرثانی کا کہنے کا اختیار نہیں، فوادچوہدری ایک صحتمند انسان ہیں،ضمانت کے حوالے سے جب عدالت فوادچوہدری کو بلائےگی فوادچوہدری پیش ہوگا،فوادچوہدری پلیٹلیٹس کا بہانا بنا کر ملک سے باہر نہیں جائے گا،فوادچوہدری کیس میں شدید ناقص پراسیکیوشن دکھائی دےرہی ہے،سیشن جج طاہر محمود نے جلد بازی میں فیصلہ دیا،سیشن جج نے ہمیں آپس میں مشاورت کا موقع بھی نہیں دیا،
بابر اعوان نے کہاکہ جو بات فواد نے کی وہ تو پورا پاکستان کر رہا ہے،جس کی بات لوگوں کو سمجھ آنے لگ جائے وہ مسئلہ بن جاتا ہے، حکمران اور پراسیکیوشن زمین پر خدا بننے کی کوشش نہ کریں،فواد چوہدری کا فوٹوگرامیڑک ٹیسٹ کروانا چاہتےہیں،میں بیان دیتاہوں کہ فواد چوہدری اصلی ہے، نقلی نہیں ہے،وکیل فیصل چوہدری نے کہاکہ فوادچوہدری کا موبائل بھی لے لیاگیا،موبائل کی ضرورت کیاہے؟ بیان فوادچوہدری نےدیا، موبائل نے نہیں،بابر اعوان ایڈووکیٹ نے کہاکہ فواد چوہدری کے گھر کی تلاشی کیلئے آئیں تو وہ تعاون کرینگے،مجسٹریٹ تین معززین کے ساتھ آئیں، ساتھ میں بارات لانے کی ضرورت نہیں،یہ بغیر دلہن ہی بارات لے کر آ جاتے ہیں،
بابر اعوان ایڈووکیٹ کے دلائل مکمل ہونے پر پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ شہباز گل کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ جسمانی ریمانڈ پر نظرثانی سے متعلق فیصلہ موجود ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے مطابق ریمانڈ کے فیصلے پر نظرثانی کی جا سکتی ہے،جوڈیشل مجسٹریٹ سیشن کورٹ کے فیصلے کو ریویو نہیں کرسکتے،جوڈیشل مجسٹریٹ نے جسمانی ریمانڈ پر فیصلہ سنانا ہے،دو دن کا جسمانی ریمانڈ مزید تفتیش کے لیے ملا جس میں فوٹوگرامیٹک ٹیسٹ کرواناتھا،فوادچوہدری کا فوٹوگرامیٹک ٹیسٹ دو روزہ جسمانی ریمانڈ میں نہیں ہوپایا،
پراسیکوٹر کی جانب سے فوادچوہدری کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے یہ بھینکہا گیاکہ فوادچوہدری کا ایک موبائل فون موجود ہے، مزید ڈیوائسسز سے تفتیش کرنی ہے،جس کے بعد وکیل الیکشن کمیشن سعدحسن نے دلائل میں کہاکہ فواد چوہدری کا فوٹوگرامیٹک ٹیسٹ کروانا ضروری ہے، کسی نے کہہ دیا کہ میری ہی آواز ہے تو یہ کافی نہیں ہے، کل کیس کا ٹرائل ہونا ہے اس کیلئے ہم نے اپنی تفتیش مکمل کرنی ہے،پراسیکیوشن نے اپنا کیس بغیر کسی شک کے ثابت کرنا ہے،اس لیے فوادچوہدری کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا ہے، جسمانی ریمانڈ کے دوران تفتیش کا وقت ضائع نہیں کیاگیا.
الیکشن کمیشن کے وکیل سعدحسن کے دلائل مکمل ہونے پرعدالت نے استفسار کیاکہ لیپ ٹاپ کے حوالے سے کوئی دلیل ہے آپ کے پاس؟ جس پر پراسیکیوٹر نے کہاکہ فوادچوہدری کے لیپ ٹاپ کی برآمدگی کرنی ہے،بابر اعوان ایڈووکیٹ نے کہاکہ میں نے کہا سیشن عدالت کے پاس جسمانی ریمانڈ کرنے کا اختیار نہیں،عدالت نے فوادچوہدری کو لیگل ٹیم اور اہلیہ سے ملاقات کی اجازت دےدی اور وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پرعدالت نے فواد چوہدری کے جسمانی ریمانڈ کی پولیس استدعا پر فیصلہ محفوظ کرلیا،جس کے بعد پولیس حکام سخت سیکیورٹی میں فوادچوہدری کو واپس لے گئی، بعد ازاں عدالت نے محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے فواد چوہدری کو مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالہ کرنے کا حکم سنادیا


