اسلام آباد(ای پی آئی) اسلام آباد کی مقامی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اعظم خان سواتی کے خلاف متنازعہ ٹوئیٹ کیس میں اعظم سواتی کو وکیل کی خدمات حاصل کرنے کے لئے 28
مارچ تک مہلت دے دی ۔
اعظم سواتی اسپیشل جج سینٹرل کی عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اپنایا کہ پندرہ سال قبل ہم نے مشکل حالات میں عدلیہ کو آزادی دلوائی ،عدالت کا آج امتحان ہے، میں اپنے ملک امریکہ سے واپس آیا ،
میں نے مشرف کا ظلم دیکھا ہے، اعظم سواتی نے کہاکہ دو سو تین سو اسٹیبلشمنٹ کے لوگوں نے اداروں کو تباہ کردیا ہے، اس دوران علی بخاری ایڈووکیٹ نے عدالت سے درخواست کی کہ اعظم سواتی کو موقع فراہم کیا جائے وہ وکیل کی خدمات حاصل کرسکیں ،
وکیل کا کہنا تھا کہ ریکارڈ کی تصدیق شدہ نقول اعظم سواتی کو ملنا انکا قانونی حق ہے، الزام معلوم ہوگا تو اعظم سواتی دفاع کریں گے۔
عدالت نے ان کی استدعا منظور کرتے ہوئے اعظم سواتی کو کیس ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کردی اور کیس کی سماعت 28 مارچ تک ملتوی کردی۔
اسپیشل جج سنٹرل، متنازعہ ٹوئٹ کیس اعظم سواتی عدالت پیش،
میں نہ ملک کا مجرم ہوں نہ قانون کا، ملک کیلئے امریکا سے یہاں آیا تھا،
ایوب خان، ضیاء، مشرف کے ظلم کو دیکھا،اسٹیبلشمنٹ کے دو تین سو لوگوں نے اداروں کو تباہ کر دیا، اعظم سواتی کی باتیں سن کر جج صاحب نے 27 مارچ کی تاریخ ڈال دی— Hussain Ahmed Ch (@HussainAhmedCh8) January 31, 2023


