اسلام آباد(ای پی آئی) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس میں فوجداری کارروائی کے کیس میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے عمران خان کیخلاف توشہ خانہ ریفرنس میں فوجداری کارروائی کے کیس کی سماعت کی جس میں عدالت نے عمران خان کو ذاتی حیثیت میں طلب کررکھا تھا مگر وہ پیش نہ ہوئے۔

الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت سے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا کی۔دورانِ سماعت عدالت نے علی بخاری ایڈووکیٹ سے سوال کیا کہ عمران خان کی طرف سے وکالت نامہ کدھر ہے؟وکیل علی بخاری نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے گزشتہ سماعت پر عمران خان کا میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کیا تھا، 5 منٹ دے دیں بیرسٹر گوہر عدالت پہنچ رہے ہیں۔

عدالت نے علی بخاری کو ہدایت کی کہ آج وکالت نامہ بھی جمع کرا دیں۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے دلیل پیش کی کہ جب تک شیورٹی بانڈز نہیں آ جاتے تب تک یہ وکالت نامہ نہیں دے سکتے۔اس موقع پر الیکشن کمیشن اور عمران خان کے وکلا کے درمیان کمرہ عدالت میں تلخ کلامی بھی ہوئی۔

عمران خان کے وکیل نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے کہا کہ آپ مجھے ہدایت نہ دیں، کورٹ کو مخاطب کریں۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ عمران خان کی عدم حاضری پر ان کے خلاف وارنٹِ گرفتاری جاری کیے جائیں۔

عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، عدالت نے عمران خان پر فرد جرم عائد کرنے کے لئے 7 فروری کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان کو 20 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔