اسلام آباد (ای پی آئی) سابق وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید احمد اور نجی ٹی وی بول نیوز کے اینکر پرسن عمران ریاض خان کو گرفتار کرلیا گیا ہے.

اطلاعات کے مطابق شیخ رشید احمد کو تھانہ سیکرٹریٹ اور عمران ریاض خان کو ایف آئی اے کی ٹیم سائبر کرائم کے آفس لے جایا گیا ہے .دونوں گرفتار افراد کو جسمانی ریمانڈ کےلئے عدالتوں میں پیش کئے جانے کا امکان ہے.

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف سابق وزیراعظم عمران خان نے شیخ رشید احمد کی گرفتاری کی مذمت کی ہے .

اپنے ٹوئیٹ میں انہوں نے کہا کہ شیخ رشید کی گرفتاری کی شدیدمذمت کرتاہوں۔رسوائےزمانہ ECPکی مقررکردہ ایسی متعصّب+منتقم نگران حکومت تاریخ میں اس سےپہلےہم پرکبھی مسلط نہ ہوئی۔سوال یہ ہےکہ آیا پاکستان اس عوامی تحریک کامتحمل ہوسکتاہےجس کیجانب ہمیں ایسےوقت میں دھکیلاجارہاہےجب امپورٹڈسرکار ہمارا دیوالہ نکال چکی ہے؟

بول نیوز کے بیورو چیف صدیق جان نے اپنی ٹوئیٹ میں ان کی گرفتاری کی یہ ویڈیو شیئر کی ہے.

سینئر صحافی ثاقب بشیر نے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا ہے کہ شیخ رشید کو تھانہ آبپارہ نے جو طلبی نوٹس کیا اس کو تو ہائیکورٹ نے کل معطل کرکے چھ فروری پولیس کو طلب بھی کیا تھا ۔۔ پھر بھی FIR اور گرفتاری ؟ اس صورت حال میں یہ ہو سکتا ہے پولیس کہے عدالت نے نا FIR نا گرفتاری سے روکا ہے ۔۔ لیکن پولیس ایکٹ کو عدالت اب کیا کہے گی یہ اہم ہو گا، ثاقب بشیر نے ہائیکورٹ کے حکم کا سکرین شارٹ بھی شیئر کیا ہے.

صحافی ثاقب بشیر نے اپنی دوسری ٹوئیٹ میں شیخ رشید کے وکیل انتظار حسین پنجوتھہ کو جواب دیتے ہوئے لکھا ہے کہ
آپ کو شیخ رشید کی عبوری ضمانت یا پولیس کو کسی کاروائی سے روکنے کے آرڈرز لینے چاہییں تھے جو میرے خیال میں آپ نے نہیں لئے ، جس وجہ سے گرفتاری ہوئی کیونکہ عدالت نے تو اس سمن کو معطل کیا ہوا ہے ایف آئی آر یا گرفتاری سے تو نہیں روکا تھا..

صحافی ثاقب بشیر نے ایک اور ٹوئیٹ‌میں‌لکھا ہے کہ سسٹم کیسے کام کرتا ہے ؟ شیخ رشید کل بھی اسی طرح بولتے تھے بلکہ اس سے بھی سخت اور جلسوں میں سرعام بولتے تھے اور آج بھی اسی طرح بول رہے ہیں فرق صرف اتنا ہے کل "مرضی” شامل ہوتی تھی تو نا ایف آئی آر نا گرفتاری ۔۔۔ آج "مرضی” شامل نہیں تو فوری ایف آئی آر اور گرفتاری بھی ہو گئی

شیخ رشید کا بیان
سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید نے گرفتار ہونے کے بعد میڈیا کو بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایس ایچ او نواز لیگ کا ٹاؤٹ ہے اور رانا ثناء اللہ یہ سارے کام کروا رہا ہے، رانا ثناء اللہ کو پیغام ہے اسے نہیں چھوڑوں گا۔شیخ رشید نے کہا کہ پولیس نے سارے گھر کے دروازے توڑے، کھرکیاں توڑی ہیں، ملازموں کو بے تحاشہ مارا ہے، یہ مجھے اٹھا کر لائے ہیں، یہ تھانہ ظلم کا نشان ہے، انشاء اللہ حق کی فتح ہو گی، عمران خان کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے بدمعاشی کی ہے، سو دو سو لوگ داخل ہوئے اور یہ مسلح تھے، یہ مجھے زبردستی مجھے گاڑی میں ڈال کر لائے ہیں۔

شیخ رشیدکا کہنا تھا کہ اسلام آباد پولیس نے انہیں راولپنڈی سے گرفتار کیا جب کہ آج ہی اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج طارق محمود جہانگیری صاحب سے ضمانت لی اور 6 تاریخ کو آئی جی اسلام آباد کو طلب کیا۔شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ پولیس مجھے طبی معائنہ کیلیے پولی کلینک لے آئی حالانکہ میں نے آج تک شراب نہیں پی۔ بعدازاں پولیس نے انہیں طبی معائنہ کے بعد تھانہ سیکریٹریٹ منتقل کردیا۔

دوسری جانب لاہور میں شیخ رشید کی گرفتاری کے بعد زمان پارک میں کارکنوں کا احتجاج جاری ہے، کارکنوں کی بڑی تعداد زمان پارک میں موجود جب کہ کارکنوں کی ممکنہ گرفتاری ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ شیخ رشید کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں، انہوں نے زمان پارک کے اطراف کی سڑکیں بھی بلاک کر دیں۔

سابق ایم این اے شیخ راشد شفیق نے تھانہ آبپارہ کے باہر اپنے بیان میں کہا کہ رات ساڑھے 12 بجے آبپارہ پولیس نے شیخ رشید کو ان کی بحریہ ٹاؤن میں نجی رہائشگاہ سے گرفتار کیا جو پنجاب کی حدود میں آتی ہے، پولیس نے ملازمین کو زدوکوب کیا، گھر میں توڑ پھوڑ کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے شیخ رشید کو جس ایف آئی آر پر گرفتار کیا اس پر ہم عدالت میں پہلے ہی جا چکے تھے اور ہمیں ریلیف بھی ملا لہٰذا ہم اس پر توہینِ عدالت کی درخواست کریں گے۔

شیخ رشید کی گرفتاری
رپورٹس کے مطابق کے مطابق اسلام آباد پولیس نے رات گئے شیخ رشید احمد کو راولپنڈی بحریہ ٹاؤن میں ان کی رہائشگاہ گرفتار کرکے میڈیکل چیک اپ کے بعد تھانہ سیکریٹریٹ منتقل کردیاتھا، ان کے خلاف تھانہ آبپارہ اسلام آباد میں مقدمہ درج ہے۔ مقدمہ پیپلز پارٹی راولپنڈی کے نائب صدر راجہ عنایت کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

تھانہ آبپارہ میں درج مقدمہ کا متن

شیخ رشید کیخلاف درج ایف آئی آر کے متن میں مدعی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جو عمران خان کو مروانا چاہتا ہے، اس سلسلے میں تمام معلومات موجود ہیں جو وہ بتانے کے لیے تیار ہے، شیخ رشید نے تمام بیان تیار کردہ سازش کے تحت دیا، وہ سابق صدر کو بدنام کرنا چاہتا ہے، ایسا کرکے شیخ رشید احمد آصف علی زرداری اور ان کے خاندان کے لئے مستقل خطرہ پیدا کرنا چاہتا ہے۔

مزید یہ کہ شیخ رشید من گھڑت اور بے بنیاد سازش کا ذکر کرکے پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے مابین تصادم و دشمنی کرانا چاہتا ہے تاکہ ملک کا امن خراب ہو، الزام لگانے والا سازش کا حصہ ہے جس کو عمران خان کے قتل کی سازش علم ہے لہٰذا شیخ رشید احمد سے معلومات لے کر سازش کو ناکام بنایا جائے اور دفعہ 150۔151 کا اختیار استمال کرکے تمام کردار گرفتار کیے جائیں، ملک میں پھیلتی بے چینی و بدامنی کو روکا جائے۔

مقدمہ کی درخواست 30 جنوری کو تھانہ آبپارہ کی پولیس کوموصول ہوئی، شیخ رشید کے خلاف درخواست ملنے پر رپورٹ درج کرکے انکوائری 196بی کے تحت انکوائری کی گئی، شیخ رشید احمد نے کوئی موقف نہیں دیا جس پر 120 بی 153 اے اور 506 ت پ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔