اسلام آباد(ای پی آئی)وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف)کے ساتھ 170 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کا اتفاق ہوا ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے اپنے دور حکومت میں آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا پی ڈی ایم کی حکومت اس کو پورا کر رہی ہے، ریاست کی جانب سے کیے گئے معاہدے کا اطلاق کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک پرانا معاہدہ ہے جو معطل بھی ہوا، اس میں تاخیر بھی ہوئی، اس پس منظر کو آپ ذہن میں رکھیں کہ کس نے یہ معاہدہ کیا تھا اور کب یہ معاہدہ ہوا تھا۔ہماری حکومت اس معاہدے کا اطلاق کرنے کی کوشش کر رہی ہے، ہم اس پر عمل درآمد کی پوری تگ و دو کر رہے ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ہمارے آئی ایم ایف مشن کے ساتھ 10 روز تک مذاکرات جاری رہے جس کے دوران پاور سیکٹر، مالیاتی شعبے سمیت دیگر اہم شعبوں پر تبادلہ خیال اور بات چیت کی گئی۔ آئی ایم ایف کے ساتھ 170 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کا اتفاق ہوا ہے۔اسحق ڈار کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکس لگانے کے لیے قانون سازی کی جائے گی خواہ بل کی شکل میں ہو یا اس حوالے سے آرڈیننس جاری کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کا ٹارگٹ حاصل کیا جا چکا ہے جب کہ ڈیزل پر پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی اس وقت 40 روپے فی لیٹر ہے جسے بڑھا کر 50 روپے کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے آئی ایم ایف کو معاہدے پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی ہے، پاکستان آئی ایم ایف پروگرام پورا کرے گا۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ 360 ارب روپے سے بڑھا کر 400 ارب روپے کیا جائے گا تاکہ ملک کے غریب طبقے کو ریلیف فراہم کیا جاسکے۔آئی ایم ایف سے مذاکرات کا آخری رائونڈ ہوا، ہر چیز سے باہمی طور پر اتفاق کیا گیا، کسی چیز پر ابہام نہیں ہے، نئے ٹیکس لگانے کیلئے منی بجٹ لانا پڑے گا، 170 ارب روپے کے ٹیکسز لگانے ہوں گے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ کل رات تک ہر چیز کو باہمی طور پر طے کر لیا ہے، آئی ایم ایف سے کہا کہ میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسی(ایم ای ایف پی)کی دستاویز ہمیں دے کر جائیں، معاہدے طے پانے کے بعد طریقہ کار کے تحت آئی ایم ایف کو تفصیل دینی ہوتی ہے، آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بعد ایم ای ایف پی کا ڈرافٹ مل گیا ہے، اب پیر کو ورچوئل میٹنگ ہوگی جس میں چیزوں کو آگے لے کر چلیں گے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 5 سال میں 24 ویں معیشت کو 47 ویں معیشت پر لاکھڑا کر دیا ہے، اب چیزوں میں کوئی ابہام نہیں، ہم کوشش کریں گے کہ پاکستان تاریخ میں دوسری مرتبہ آئی ایم ایف کا پروگرام مکمل کرے، وزیراعظم نے بھی کہا ہے کہ ہم آئی ایم ایف سے معاہدے پر عملدرآمد کریں گے۔

وزیراعظم کچھ وجوہات کی بنا پر لاہور میں تھے ، ہم نے زوم میٹنگ کی، حکومت اور معاشی ٹیم معاہدے پر پوری تگ و دو کر رہی ہے۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ انرجی سیکٹر میں اصلاحات ہیں وہ کابینہ کے ذریعے طے ہوئی ہیں اس پر عمل کریں گے، اس میں ضروری کام آگے کا فلو روکنا ہے جب کہ گیس کے سیکٹر میں بھی گردشی قرضے کو مزید روکنا ہے، ان ٹارگٹڈ سبسڈیز کو منی مائز کریں گے، گیس کے سرکلر ڈیٹ کے فلو کو بھی زیرو کرنا ہے۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اس بات پر اتفاق ہے کہ پٹرول پر سیلز ٹیکس نہیں ہوگا، جہاں تک جی ایس ٹی کی بات ہے تو وہ 170 ارب کے ٹیکسز میں شامل ہیں۔