اسلام آباد (ای پی آئی ) سپریم کورٹ نے نگران حکومت کی طرف سے سابق سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کے تبادلے کا نوٹیفیکیشن حکم معطل کرتے ہوئے قراردیا ہے کہ پولیس افسران کی ٹرانسفر پوسٹنگ کا معاملہ پہلے ہی پانچ رکنی بینچ سن رہا ہے حتمی فیصلے کے لئے یہ معاملہ بھی اسی پانچ رکنی بینچ کو بھجوا رہے ہیں ۔ یاد رہے کہ سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کو نگران حکومت نے 23 جنوری کو پنجاب سروس اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ رپورٹ کرنے کا کہا تھا۔

جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نپر مشتمل تین رکنی ببنچ نے سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کے تبادلہ کیخلاف دائر مقدمہ کی سماعت کا آغازکیا تو صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابدزبیری، صدر اسلام باد ہائیکورٹ بار شعیب شاہین، سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید ڈی جی لاء محمد ارشد کے ہمراہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے ۔

بینچ کے سربراہ جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ چیف الیکشن کمشنر کہاں ہیں؟ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ چیف الیکشن کمشنر کی طبیعت ناساز ہے، تاہم الیکشن کمیشن کی طرف سے عدالتی ہدایت پر مطلوبہ دستاویزات جمع کرا دی گئی ہیں ۔ عدالتی استفسار پر سیکرٹری نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے 23 جنوری کو غلام محمود ڈوگر کے تبادلے کی زبانی درخواست کی اورچوبیس جنوری کو تحریری درخواست آئی تو چھ فروری کو منظوری دی گئی ، اس پرجسٹس منیب اخترنے سیکرٹری الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن سے عام حالات میں بھی زبانی درخواست پر احکامات جاری ہوتے ہیں؟ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ زبانی درخواست آئی، منظوری ہوئی اور عمل بھی ہوگیا،اور عملدرآمد کے بعد خط و کتابت کی گئی،کیا زبانی احکامت کی کوئی قانونی حیثیت ہوتی ہے؟ جسٹس منیب اخترنے سوال کیاکہ کیا سرکاری ادارے زبانی کام کرتے ہیں؟ کیا قانون کے مطابق آئینی ادارے زبانی احکامات جاری کر سکتے ہیں؟ جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق تبادلوں کی منظوری چیف الیکشن کمشنر نہیں بلکہ الیکشن کمیشن دے سکتا ہے،تاہم اگرکمیشن اختیارات تفویض کردے توچیف الیکشن کمشنرایسا حکم جاری کرسکتا ہے کیا الیکشن کمیشن نے اپنے اختیارات چیف الیکشن کمشنر کو تقویض کیے تھے؟اس دوران عدالتی سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈی جی لا نے اعتراف کیا کہ اختیارات تقویض کرنے کی کوئی دستاویز موجود نہیں ہے، ۔

جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن اگر اختیارا ت چیف الیکشن کمشنرکو تفویض کرتا ہے تو وہ بھی تحریری طور پر تفویض کئے جاسکتے ہیں۔

دوران سماعت بار بار مداخلت پرجسٹس منیب اختر نے سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمیدکی سخت سرزنش کی اور کہا کہ آپ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سامنے موجود ہیںغلام محمود ڈوگر کی ٹرانسفر کا حکم پہلے زبانی اور پھر تحریری دیا گیا۔

جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ چیف الیکشن کمشنر کو کس نے فون کرکے ٹرانسفر کی درخواست کی ؟مسٹر ایکس کو کہہ دیتے صبر کریں کمیشن آپ کی درخواست پر فیصلہ کرے گا، جسٹس منیب اخترنے کہاکہ چیف الیکشن کمشنر خود ہی پورا الیکشن کمیشن بن کر کیسے فیصلے کررہے ہیں ؟ اس سوال کا جواب دیں کہ ایک طرف الیکشن کمیشن فون پر تھے تو دوسری طرف فون پر کون تھا ؟ اس پرسیکرٹری نے کہاکہ چیف سیکرٹری پنجاب ہونگے۔۔لیکن اس بارے میں وہ معلومات لیکر ہی بتا سکتے ہیں ،

اسی دوران ڈی جی الیکشن کمیشن نے ٹرانسفر پوسٹنگ سے متعلق ریکارڈ پیش کرنے کے لیے مزید وقت دینے کی استدعا کی جو عدالت نے مسترد کردی جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ گھڑی بہت تیز چل رہی ہے، ٹک، ٹک، ٹک، انتخابات کیلئے 90 روز ختم ہونے والے ہیں اور الیکشن کمیشن مزید وقت مانگ رہا ہے،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا واحدکام ہی شفاف الیکشن کرانا ہے اور اس کے لیے بھی وقت مانگ رہے ہیں،۔

ڈی جی الیکشن کمیشن نے کہاکہ ا ئین کی دفعہ 230کے تحت الیکشن کمیشن کے پاس اختیارات موجود ہیں. ڈی جی نے شق 230 پڑھی تو جسٹس اعجازِ الااحسن نے کہا کہ جب تک الیکشن کمیشن اجازت نہ دے اس وقت تک نگران حکومت تبادلے نہیں کرسکتی اور شق 230 میں یہ نہیں لکھا کہ پوری بیوروکریسی کو ہی تبدیل کر دیں… جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے حکم دے دیا کہ تبادلوں کی کھچڑی بنادو، سمجھ نہیں آرہی یہ ہوکیا رہا ہے؟ ڈی جی لا نے سپریم کورٹ کے2013 کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا توجسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ آئین کہتا ہے کہ ضرورت پڑنے پر تبادلے کیے جاسکتے ہیں لیکن آپ نے تو سارا عاملہ ہی الٹ دیا.. جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارلیمنٹ کی آخری کوشش ایکٹ 2017 ہے اس نے سابق سارے قانون ختم کردیئے ہیں… پارلیمنٹ تمام فیصلوں سے آگاہ تھا.

اس دوران صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن شعیب شاہین نے کہاکہ بار کی جانب سے انہوں نے پنجاب میں انتخابات کیلئے درخواست دائر کررکھی اے اس کو بھی اس درخواست کے ساتھ سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم جاری کیا جائے تاہم عدالت نے شعیب شاہین کی یہ استدعا مسترد کردی ، جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھاکہ ہمارے سامنے صرف سی سی پی او لاہور کی ٹرانسفر کا کیس ہے، پنجاب میں انتخابات میں تاخیر کا معاملہ پہلے ہی چیف جسٹس آف پاکستان کو بھیج چکے ہیں،

عدالت نے اپنے حکم میں لکھا کہ الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر نے غلام محمود ڈوگر کے تبادلے کے لیے زبانی احکامات جاری کئے. کمیشن نے اپنے اختیارات چیف الیکشن کمشنر کو تفویض نہیں کئے تھے. مبینہ زبانی درخواست اور منظوری کے بعد کا ایک لیٹر عدالت میں پیش کیا گیا. فیصلہ میں عدالت نے لکھا ہے کہ الیکشن کمیشن کے ڈی جی لا سے جب سوال کیا گیا کہ کیا وہ معمول کے مطابق زبانی درخواستیں قبول کرتا ہے اور احکامات جاری کرتا ہے توڈی جی لا ریکارڈ سے کچھ نہیں دکھاسکے.. تحریری طور پر کچھ موجود نہ ہونے کے باوجود افسر کو تبدیل کیا گیا اس نے تبدیلی کا حکم معطل کیا جاتا ہے.

عدالت نے لکھا ہے کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ پنجاب پولیس کی ٹرانسفر پوسٹنگ کا معاملہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ کے سامنے زیر سماعت ہے اس لیے یہ معاملہ بھی اسی کے ساتھ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا….
واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں پنجاب کے الیکشن سے متعلق کیس کی 45منٹ کی سماعت 9بج کر 35منٹ پر شروع ہوئی اور دس بج کر 20منٹ پر ختم ہوئی۔