اسلام آباد (ای پی آئی)سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کی رولنگ کے خلاف چوہدری پرویز الہی کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہےچیف جسٹس عمر عطا بندیال کا تحریرکردہ فیصلہ 11 صفحات اور 18 پیراگراف پر مشتمل ہے ۔

پیراگراف نمبر ایک

فیصلے کے متن میں کہا گیا ہے کہ30 جون 2022 کے فیصلے کے ذریعے فاضل ہائی کورٹ کے فل بینچ نے کچھ رٹ پٹیشنز کو جزوی طور پر منظور کیا اور یہ ہدایت دی کہ آئین کے آرٹیکل 130 چار کے مطابق ووٹنگ کرانے کے لیے پنجاب اسمبلی کا اجلاس یکم جولائی 2022 کو شام چار بجے بلایا جائے آرٹیکل 130کی ذیلی شق 4 کے مطابق وزیر اعلی پنجاب کے عہدے کے لئے رن آف ہونا تھاجو مدعاعلیہ نمبر2 مسلم لیگ ن کے حمزہ شہباز شریف اور درخواست گزار مسلم لیگ ق کے رہنما پرویزالہی کے درمیان ہونا تھا 30 جولائی کے مذکورہ حکم کے خلاف اس عدالت میں دائر درخواست پر یکم جولائی 2022 کوفریقین کے اتفاق رائے سے حکم دیا گیا ، درخواست گزارپرویزالہی اور حمزہ شہباز کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا کہ پنجاب کی 20 جنرل نشستوں پر ضمنی انتخابات کے بعد رن آف الیکشن 22 جولائی کو کرائے جائیں گے۔ یہ نشستیں پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کو الیکشن کمیشن کی طرف سے ڈی سیٹ کرنے کی وجہ سے خالی ہوئی تھیں، پرویز الہی نے ر آف الیکشن تک حمزہ شہباز کے صوبے کے وزیر اعلی کے طور پر کام کر نے پر اتفاق کیا تھا، مزید اتفاق کیا گیا کہ الیکشن ایکٹ اور الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کے تحت انتخابات کرائے جائیں گے، عدالت کی طرف سے ہدایت کی گئی کہ انتخابی عمل الیکشن کمیشن پاکستان کے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق مکمل کیا جائے گا جس کے مطابق الیکشن کمیشن حتمی نتائج کا نوٹیفیکیشن جاری کرے گا،

پیر اگراف نمبر دو

عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ 22جولائی کو2022 کو ہونے والے رن آف الیکشن میں درخواست گزار پرویز الہی نیایک سوچھیا سی ووٹ حاصل کیے جب کہ جواب دہندہ حمزہ شہباز نے 179ووٹ حاصل کئے جو کہ 22 جولائی 2022 کے ڈپٹی سپیکر کے غلط فیصلے میں بھی درج ہے تاہم ڈپٹی سپیکر نے درخواست گزار کے حق میں دس ووٹ گنتی سے خارج کردیئے جس کے نتیجے میں جواب دہندہ حمزہ شہباز کو وزیر اعلی کے عہدے کیلئے جیتنے والے امید کا اعلان کر دیا ووٹوں کو اس بنیاد پر خارج کیا گیا تھا کہ مسلم لیگ ق کے دس ارکان آئین کے آرٹیکل 63اے ون کی شق بی تحت پارٹی سربراہ کی طرف سے پارلیمانی پارٹی کے ارکان کو دی گئی ہدایات پر عمل کرنے میں ناکام رہے ہیں

پیر اگراف نمبر تین

عدالت نے لکھا ہے کہ ڈپٹی سپیکر کی طرف سے دس ووٹ مسترد کئے جانے کے نتیجہ میں جیتنے والے امیدوار جس نے 186 ووٹ حاصل کیے تھے وہ تین ووٹوں کی کمی سے الیکشن ہار گئے۔ ڈپٹی سپیکر کے فیصلے کو 23جولائی کو عدالت میں چیلنج کیا گیالاہورمیں ابتدائی سماعت کے بعد اس معاملے کی سماعت سپریم کورٹ کی پرنسپل سیٹ پر 25 جولائی اور 26 جولائی کو ہوئی

پیراگراف نمبر 4

ہم اسلام آباد میں درخواست گزار کے فاضل وکیل اور جواب دہندگان کے وکلا کو سنا ہے مدعا علیہان کے وکلا نے عدالت کے 3 رکنی بینچ کی طرف سے اس معاملے کی سماعت پر اعتراض اٹھایا اورمعاملہ فل کورٹ میں بھیجنے کی درخواست کی تاہم اس درخواست کی بنیادوں کی وضاحت کرتے ہوئے جواب دہندگان نمبر ایک ڈپٹی سپیکر اور حمزہ شہباز کے وکلانے اپنا موقف پیش کیا جو بنیادی طور پر اس قانون کے سوال سے متعلق ہے جو مبینہ طور پر صوبائی حکومت کی تشکیل سے متعلق ہے ان کا کہنا تھاکہ آئین کی دفعات خاص طور پر آئین کے آرٹیکل63 اے کو آرٹیکل 130 چار کے ساتھ پڑھا جاتا ہے ۔

پیراگراف نمبر 5

میں عدالت نے لکھا ہے کہ اگرچہ 25 جولائی کو تفصیلی گزارشات پیش کی گئی تھی لیکن مدعاعلیہان اور فریق بننے والوں کے وکلا کی طرف سے اضافی گزارشات اور ہدایت حاصل کرنے کے لیے مزید وقت کے لئے استدعا کی گئی اس کے مطابق ہم نے اس معاملے کو آج 26 جولائی کو صبح ساڑھے گیارہ بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا تاکہ مخلاف فریقین کے وکلا کو مزید موقع دیا جائے کہ اگر وہ مناسب سمجھیں تو کیس سے متعلق اپنی معروضات جمع کرا سکیں تاہم جب صبح ساڑھے گیارہ بجے معاملہ اٹھایا گیا تو مدعاعلیہان کے ساتھ ساتھ دیگرفریق بننے والوںکے وکلا ایک ایک کر کے آگے بڑھے اور عدالت کو مطلع کیا کہ ان کے موکلین نے اس کیس کی مزید کارروائی میں حصہ نہ لینے کی ہدایت کی ہے ، عدالت نے لکھا ہے کہ کیس کی سماعت کا پہلا سیشن تقریبا ایک گھنٹہ 45 منٹ تک جاری رہا ،اور فریقین کے وکلا کمرہ عدالت میں موجود رہے اور معاملے کے مزید کاروائی کا مشاہدہ کیا جس کے دوران ہم نے درخواست گزار کے خصوصی وکیل کے مزید دلائل سنے۔
عدالت نے لکھا ہے کہ مدعا علیہان اور فریق بننے والوں کے وکلا کی طرف سے گزشتہ تاریخ کو دیئے گئے دلائل کے دوران سپریم کورٹ کے جن فیصلوں پر انحصار کیا گیا تھاان میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی بنام وفاق پاکستان، سردار شیر بہادر بنام الیکشن کمیشن ذوالفقار احمد بھٹہ بنام وفاق شامل ہیں

پیراگراف نمبر6

میں عدالت نے لکھا ہے کہ ہم اس مختصر حکم کی تائید میں ان فیصلوں کو اپنی تفصیلی وجوہات کے ساتھ پیش کریں گے ۔

پیراگراف نمبر7

میں عدالت نے لکھا ہے کہ فریقین کی جانب سے سات ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز کے معاملے میں دیئے گئے فل کورٹ کے فیصلے پر بہت زیادہ زور دیا گیا ۔ عدالت نے اٹھارویں آئینی ترمیم کے بارے میں فیصلہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کو اکثریت سے برقرار رکھا گیا، تاہم اٹھارویں ترمیم سے متعلق کیس میں جسٹس شیخ عظمت سعید کے تحریر کردہ ایک فیصلے کو سات دیگر ججوں نے منظور کیا تھا تاہم واضح رہے کہ چونکہ اس معاملے کی سماعت سترہ ججوںکی فل کورٹ نے کی تھی اس لئے عدالت کے تناسب کا فیصلہ کرنے کیلئے اکثریت کو کم ازکم 9 ججزکی رضامندی حاصل کرنا ضروری تھی۔

پیراگراف نمبر 8

مدعا علیہان اور فریق بننے والوں نے خاص طور پر جسٹس شیخ عظمت سعید کے فیصلے کے پیراگراف 112 پر استد لال کرنے کے لئے انحصارکیا ہے کہ اس میں یہ بیان کیا گیا کہ ووٹ دینے کا فیصلہ کرنے کا اختیارپارٹی کے سربراہ کو دیا گیا ہے ان الفاظ کی بنیاد پر انہوں نے عرض کیا کہ ڈپٹی سپیکر کا مورخہ 22 جولائی 2022کا فیصلہ درست تھا ہمارے خیال میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کیس کا فیصلہ دو وجوہات پر غور طلب ہے سب سے پہلے یہ کہ کیا اس کو بطور نظیر پیش کیا جاسکتا ہے اور عدالت اس پر عمل کی پابند ہے ۔
عدالت نے لکھا ہے کہ جسٹس شیخ عظمت سعیدکے تحریرکردہ فیصلے کے پیراگراف 112 میں دیئے گئے جن الفاظ پر انحصار کیا گیا ہے وہ عدالت کے فیصلے کا حصہ نہیں بن سکتے کیونکہ وہ فل کورٹ کا فیصلہ نہیں ہے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید کے تحریر کردہ فیصلے پر دستخط کرنے والے آٹھ ججوں کے علاوہ چھ دیگر ججز نے بھی 18ویں آئینی ترمیم کے چیلنجز کو مسترد کرتے ہوئے فیصلے دیئے ۔
درخواست گزارپرویز الہی کے وکیل نے ہمیں اس فیصلے کے حوالے سے آگاہ کیا کہ ان دیگر ججوں میں سے کسی نے بھی اس خاص نقطہ پرفیصلہ نہیں دیا کہ آیا پارٹی سربراہ آرٹیکل 63 اے ون بی کے مطابق کوئی ہدایت دے سکتا ہے لہذا اس وقت پر جس فیصلے پر بھروسا کیا جارہا ہے وہ لازمی نظیر نہیں بنتا ، جسٹس عظمت سعید کے فیصلے کے پیراگراف 113 کے حوالے سے دوسرا پہلو مدعاعلیہان اور فریق بننے والوں کے وکلاکی طرف سے گزارشات کا حصہ بنایا گیا وہ یہ تھا کہ ہم میں سے ایک جسٹس عمر عطا بندیال نے بھی اس فیصلے پر دستخط کیے تھے ان کی جانب سے کہا گیا کہ فیصلہ جسٹس شیخ عظمت سعید نے تحریر کیا اوراس سے جسٹس عمر
عطابندیال نے اتفاق کیا اس لئے اس معاملہ کو بھی فل کورٹ کے سامنے جانا چاہیے ۔

پیراگراف نمبر9

عدالت نے لکھا ہے کہ ہم نے فل کورٹ کی تشکیل کے پہلو پر بہت غور کیا کیوں کہ اس کا تعلق نہ صرف قانون کے سوال سے ہے بلکہ اس کا تعلق بنتا بھی ہے آخر میں ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس سلسلے میں جو گزارشات کی گئی ہے وہ قابل قبول نہیں ہے اس کی متعدد وجوہات ہیں جن پر تفصیلی فیصلے میں مفصل انداز میں روشنی ڈالی جائے گی فی حال یہ نوٹ کرنا کافی ہے کہ فیصلے کے پیراگراف 112 اور 113 میں دیے گئے مشاہدات کا آئین کے آرٹیکل 63 کی خلاف ورزی کے سوال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عدالت نے لکھا ہے کہ جسٹس شیخ عظمت سعید کے لکھے گئے فیصلہ کے پیراگراف 105 میں بیان کیا گیا ہے مذکورہ سوال کا تفصیلی طور پر جواب فیصلہ کے پیراگراف 111 میں دیا گیا ہے اور اس کا جواب وکلامحاذکیس میں بھی دیا گیا ہے۔
عدالت نے لکھا ہے کہ آج 63 اے کے حوالے سے فیصلے میں جن ابزرویشنزپر انحصار کیا گیا ہے وہ پارلیمانی پارٹی کے ارکان کو ہدایت جاری کرنے کے موضوع پر اس کی اصل دفعات سے متصادم ہے ، مندرجہ بالا صورتحال میں فیصلے کے پیراگراف ایک سو بارہ اور تیرہ میں ابزرویشز کا تعلق قانون کی وائریز سے نہیں ہے اور نہ ہی آئین کے الفاظ کی وضاحت ہے تیسرا اگر کسی جج نے غیر شعوری طور پر قانون کے غلط نظریے کی پیروی کی ہے تو اس کے پاس شعوری طور پر ذہن کے استعمال سے قانون کے درست نظریے کو اپنانے کی آزادی ہے ۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اٹھارویں ترمیم سے متعلق مذکورہ کیس سننے والے اس بینچ کے رکن عمر عطا بندیال نے ایک الگ رائے لکھی تھی جس میں دیگر آئینی چیلنجز کوطوالت کے ساتھ پیش کیا گیا چیف جسٹس ناصرالملک، جسٹس آصف سعید خان کھوسہ ، جسٹس اعجاز افضل نے آئین کے آرٹیکل 63 اے کو بھی نہیں مانا تھا۔

پیراگراف نمبر 10

عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ جواب دہندگان اور فریق بننے والوں نے بھی شیر بہادر خان اور ذوالفقار بھٹہ بنام ریاست کیس کے فیصلے پر انحصار کیا تا کہ ان کی دلیل کی حمایت کی جا سکے کہ پارٹی سربراہ وہ متعلقہ شخص ہے جس نے ووٹ دینے کا اختیار دینا ہے آئین کے آرٹیکل 63 اے ون کے تحت پارلیمانی پارٹی کے ارکان کو ہدایت دینے کے حوالے سے یہ فیصلے مدعاعلیہان کے دعوے کی تصدیق نہیں کرتے۔

پیراگراف نمبر 11

عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ اس فیصلے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی تاہم چوہدری پرویز الہی کی آئینی پٹیشن منظور کی جاتی ہے اس پٹیشن میں شامل بنیادی حقوق کے نفاذ کے حوالے سے عوامی اہمیت بہت اہم سوال یہ ہے کہ کیا آئین کے آرٹیکل 63 ون اے کے ساتھ صدارتی ریفرنس پر عدالت کے 17 مئی 2022 کے مختصر فیصلے کا اطلاق درست انداز میں کیا گیا ۔
عدالت نے لکھا ہے کہ جس طرح ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی نے آئین کے آرٹیکل 63 اے ون بی کو سمجھا اور اس کا نفاذ کیا وہ سرا سر غیر قانونی اور غلط ہے اور اسے برقرار نہیں رکھا جا سکتا ۔ عدالت نے لکھا ہے کہ آئین کے مطابق صوبہ پنجاب کی طرز حکمرانی کو پامال کیا گیا جس سے عوام کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی گئی ہے ، اس لئے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی طرف سے 22 جولائی 2022 کو جاری کی گئی رولنگ کو کالعدم قراردیکر مستردکیاجاتا ہے کیونکہ یہ غیر قانونی اور بغیر کسی قانونی اختیار کے جاری کی گئی اس لئے اس کا کوئی قانونی اثر نہیں ہے ۔

پیراگراف نمبر 12

میں عدالت نے لکھا ہے کہ یکم جولائی کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں 22 جولائی کو وزیراعظم پنجاب کے رن آف الیکشن میں حمزہ شہباز کے 179 ووٹوں کے مقابلے میں پرویز الٰہی نے 186 ووٹ حاصل کئے جن کی بنیاد پر چوہدری پرویز الہی کو منتخب وزیر اعلی پنجاب قرار دیاجاتا ہے۔

پیراگراف نمبر 13

میں عدالت نے لکھا ہے کہ ہم چیف سیکرٹری پنجاب کوہدایت کرتے ہیں کہ فوری طور درخواست گزار کو منتخب وزیر اعلی پنجاب قرار دینے نوٹیفکیشن جاری کریں۔

پیراگراف نمبرنمبر 14

میں عدالت نے لکھا کہ حمزہ شہباز درست اندازمیں وزیراعلی منتخب نہیں ہوئے انہوں نے غیر قانونی طور پر حلف لیا وہ قانونی طور پر ایسانہیں کرسکتے تھے ان کے حلف لینے کے حوالے سے جاری نوٹیفکیشن ،حمزہ کی تجویز پرکابینہ کی تشکیل اور حلف برداری سمیت کوئی بھی چیز قانونی نہیں ہے کیوں کہ یہ سارا عمل بغیر قانونی اختیار کے کیا گیااس لئے اس کو غیر قانونی قراردیا جاتا ہے۔
پیراگراف نمبر 15

عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ وزیراعلی پنجاب کی تجویز پر لگائے گئے تمام مشیر، خصوصی مشیر اور معاونین خصوصی کو عہدے سے ہٹایا جاتا ہے ان کی تقرری کو غیر قانونی قرار دیا جاتاہے کیوں کہ یہ بغیر قانونی اتھارٹی کے تعینات کیے گئے تھے ان تمام افراد کو دفاتر اور عہدے فوری طور پر چھوڑنے کا حکم دیا جاتا ہے۔

پیراگراف نمبر 16

میں عدالت نے لکھا ہے کہ ہم گورنر پنجاب کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ آج26جولائی کی رات ساڑھے 11 بجے تک قانون اور آئین کے مطابق پرویز الہی سے بطور منتخب وزیر اعلی حلف لینے کا انتظام کریں اگر گورنر پنجاب حلف دینے سے قاصر ہے یا اس کے لئے تیار نہیں ہے تو صدر پاکستان فوری طور پر درخواست گزار سے بطور وزیراعلی پنجاب حلف لے سکتے ہیں۔

پیراگراف نمبر17

فیصلے میں عدالت نے لکھا ہے کہ حمزہ شہباز یا ان کی کابینہ کی جانب سے قانون کے مطابق جو فیصلے یا اقدامات کیے گئے ہیں ان کو ڈیفیکٹو نظریہ کے تحت تحفظ دیا جاتا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ حمزہ شہباز یا ان کی کابینہ کے اقدامات کو آئندہ آنے والے وزیر اعلی اور ان کی کابینہ کے ارکان اگر مناسب سمجھیں قانون کے مطابق واپس لینے کے مجاز ہونگے ۔

پیرا گراف نمبر 18

میں عدالت نے لکھا ہے کہ دفتر فوری طور پر اس حکم کی کاپی گورنر پنجاب، ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری اور چیف سیکرٹری پنجاب کو فوری طور پر عمل درآمد کے لیے بھجوائے۔