اسلام آباد (ای پی آئی) پاکستان کے دو وزرائے اعظم سمیت 45 سیاسی رہنما قتل ہوچکے مگر قاتلوں کا پتہ نہ چل سکا..پاکستانی تاریخ کے بڑے بڑے سیاسی قتل کب کب اور کون کون سے ہوئے.
ایگزیکٹ پریس انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق لیاقت علی خان، ظہور الٰہی، بے نظیر بھٹو قتل ہونے والی شخصیات میں شامل ہیں.
دنیا میں سال دو ہزار سے اب تک نو وزرائے اعظم اور صدور کو قتل کیا جا چکا ہے.
پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو 16 اکتوبر 1951 کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے کے دوران قتل کردیا گیا
خان عبدالجبار خان کا شمار بائیں بازو کی سیاست کرنے والوں میں کیا جاتا ہے نومئی 1958 کو انہیں قتل کردیا گیا
چوہدری ظہور الہی کا شمار ملک کے زیرک سیاست دانوں میں ہوتا تھا 25 ستمبر 1981 کو انہیں لاہور میں قتل کیا گیا
سابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کے صاحبزادے شاہنواز بھٹو کو 26 سال کی عمر میں 18 جولائی 1985 کو فرانس میں قتل کیاگیا
ذوزلفقارعلی بھٹو کے بیٹے میر مرتضی بھٹو کو بیس ستمبر انیس سو چھیانوے کو کراچی کلفٹن میں ان کی رہائش گاہ کے قریب قتل کر دیا گیا
محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان کی دو بار وزیراعظم رہیں وہ مسلم امہ کی پہلی خاتون وزیراعظم بھی تھیں انہیں 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی میں ایک سیاسی جلسے کے بعد لیاقت باغ کے باہر قتل کیا گیا
عمران فاروق کا شمار متحدہ قومی موومنٹ کے بانی رہنماؤں میں کیا جاتا تھا 16 ستمبر 2010 کو انہیں بھی برطانیہ کے شہر لندن میں قتل کر دیا گیا
پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور گورنر پنجاب کے منصب پر فائز رہنے والے سلمان تاثیر کو چار جنوری 2011 کو اسلام آباد میں قتل کیا گیا
شہباز بھٹی 2008 میں وفاقی اسمبلی کے پہلے اقلیتی وزیر بنے انہیں 2 مارچ 2012 کواسلام آباد قتل کردیا گیا
بشیر احمد بلور کا شمار خیبر پختونخوا کے بڑے سیاستدانوں میں ہوتا ہے انہیں 22 دسمبر 2012 کو پشاور میں جلسے پر خود کش حملے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا وہ جانبر نہ ہو سکے
اسرار اللہ خان گنڈاپور2013 کی خیبرپختونخوا اسمبلی میں وزیر قانون وزیر برائے اور پارلیمانی امور انسانی حقوق تھے جب 16اکتوبر2013کو ایک خود کش حملے میں مار دیا گیا
رانا شمشاد احمد خان متعدد بار ممبر پنجاب اسمبلی رہے ان کو 31 مئی 2015 کو کاموکی کے مقام پر قتل کیا گیا
کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ پنجاب کے وزیر داخلہ کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے تھے جب 16 اگست 2015 کو انہیں اٹک میں خودکش حملے میں نشانہ بنایا گیا
ہارون بلور نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا تاہم 10 جولائی 2018 کو انہیں بھی ایک خودکش حملے میں جان سے مار دیا گیا
اکرام اللہ خان گنڈہ پور کا شمار خیبر پختونخوا کے مشہور سیاسی گھرانے میں کیا جاتا تھا 22 جولائی 2018 کو ڈیرہ اسماعیل خان میں خود کش حملے میں ان کی موت واقع ہوئی اکرام اللہ خان گنڈاپور کے بھائی خود کش بم دھماکے میں جاں بحق ہوئے تھے
مولانا سمیع الحق کا شمار ملک کے بڑے دینی اور سیاسی رہنماؤں میں ہوتا تھا انہیں دو نومبر 2018 کوراولپنڈی ان کے گھر میں قتل کر دیا گیا
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما سید علی رضا عابدی کو 25 دسمبر 2018 کے روز بھی ان کی رہائش گاہ پر گھر کے باہر قتل کیا گیا
سال2000سے اب تک9 عالمی وزرائے اعظم اور صدور قتل ہوچکے
16 جنوری 2001 کو کانگو کے 69 سالہ صدر لانٹ قبیلہ کو کنشاسا کے صدارتی محل میں سیکورٹی گارڈ نے قتل کر دیا
یکم جون 2001 کو نکال کے 55 سالہ بادشاہ بریندرا کو ان کے بیٹے نے قتل کیا اور گھر کے 9 افراد کو بھی مار دیا 13
مارچ 2003 کو سربیا کے وزیر اعظم زورن جیسڈجیکب کو حکومتی ہیڈ کوارٹر کے سامنے اسنائپر کی گولی سے قتل کر دیا گیا
14 فروری 2005 کو لبنان کے 60 سالہ وزیراعظم رفیق حریری کو بیروت میں ہونے والے بم دھماکے میں قتل کر دیا گیا 2
مارچ 2009 کو مغربی افریقہ کی ریاست گئی بساؤ کے صدر جا ورنہ لڈ ویرا کو فوجی سپاہیوں کی جانب سے قتل کر دیا گیا یہ قتل جنیوا کے آرمی چیف کی موت کے بدلے میں کیا گیا تھا
20اکتوبر 2011 کو لیبیا کے 59 سالہ سابق صدر معمر قذافی کو اغوا کر کے قتل کیا گیا
20 اپریل 2019 کو چیک رپبلک کے صدر ادریس ڈیئے انٹو کو باغیوں کی جانب سے قتل کر دیا گیاوہ قتل سے کچھ گھنٹے قبل ہی دوسری مرتبہ صدر منتخب ہوئے تھے
7 جولائی 2019 کو ہیٹی کے صدر جووینائل موز کو ان کے گھر میں قتل کر دیا گیا 8
جولائی 2022 کوجاپان کے سابق وزیر اعظم شنزوابے کو سیاسی مہم کے دوران گولی مار کر قتل کر دیا گیا یہ واقعہ مغربی جاپان کے علاقے نارا میں پیش آیا


