اسلام آباد(ای پی آئی) پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلامآباد کی فضا ء صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہو نے کی تصدیق پاک ای پی اے کی سرکاری رپورٹ نے بھی کردی. فضائی آلودگی سے مردوخواتین میں بانجھ پن کاخطرہ 20 فیصد بڑھنے کاانکشاف ہواہے۔
حالیہ تحقیقی رپورٹ میں اسلام آباد کی فضاء میں زہریلے ذرات کی مقدارخطرناک حد تک بڑھ گئی جو کسی صورت 35ug/m3سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے ،زہریلے ذراتPM2.5 کی مقدرمقررہ حدسے تجاوز سانس کی بیماریاں،پھپھڑوں کاکینسراور اورہارٹ اٹیک بھی ہوسکتاہے ۔یہ زیریلے ذرات گاڑیوں اورفیکٹریوں میں فوصل فیول کے جلنے سے خارج ہوتے ہیں۔
اس خبر رساں ادارے کے مطابق پاک ای پی اے نے فضائی آلودگی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی فضاء میں آلودہ زرات PM2.5کی مقدار مقررہ حد سے تجاوزکرگئی ہے مقررحد 35ug/m3ہے جبکہ ان کی مقدار92.3ug/m3تک اوسط بتائی گئی ہے۔رات 1بجے سے صبح 8بجے تک سرکاری رپورٹ کے مطابق اوسط 111.2ug/m3 تک گئی ہے ۔صبح8سے شام 4بجے تک سرکاری رپورٹ کے مطابق اوسط 77.4ug/m3 تک گئی ہے اورشام 4بجے سے رات 12بجے تک92.03ug/m3 تک گئی ہے۔
پیکنگ یونیورسٹی کے سینٹر فار پروڈکٹیو میڈیسین کی معروف جریدے جرنل انوائرمینٹل انٹرنیشنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق فضائی آلودگی سے مردوں اورخواتین دونوں میں بانجھ پن کاخطرہ نمایاں حدتک بڑھ جاتاہے طبی تحقیق کے دوران فضائی آلودگی سے آبادی کے لیے بڑھنے والے خطرات کاتجزیہ کیاگیا۔ماہرین نے چین کے 18 ہزارجوڑوں کے اعدادوشمار کاتجزیہ کرنے پر دریافت ہواکہ ایسے علاقے جہاں چھوٹے ذرات کی آلودگی کی شرح زیادہ ہوتو ان علاقوں میں بانجھ پن کاخطرہ 20 فیصد تک بڑھ جاتاہے .
تحقیق میں یہ تعین نہیں کیاجاسکاکہ فضائی آلودگی کس طرح بانجھ پن کاباعث بن سکتی ہے مگر یہ پہلے سے معلوم ہے کہ آلودہ ذرات سے جسم میں ورم بڑھ جاتاہے جس سے مردوںاورخواتین کاتولیدی نظام متاثر ہوسکتاہے ۔
رپورٹ کے مطابق بانجھ پن دنیا بھر میں لاکھوں جوڑوں کی زندگی کومتاثرکرتاہے مگر اس حوالے سے فضائی آلودگی کے اثرات پر اب تک کچھ خاص کام نہیںہواہے ۔فضائی آلودگی سے قبل ازوقت پیدائش اور پیدائش کے قت کم وزن جیسے مسائل کے خطرات بڑھ جاتے ہیں ۔
ماہرین صحت کا کہناہے کہ زہریلی ذرات PM2.5کی مقداراگر 35ug/m3سے بڑھ جائے تویہ انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوتے ہیں اس سے سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہوتاہے اور خاص کردمہ کے مریضوں کوسانس لینے میں دشوار ی ہوتی ہے آنکھ ناک اورگلے میں سوزش،پھیپھڑوں کاکینسر، دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی اورہارٹ اٹیک بھی ہوسکتاہے۔
ماہرین نے ہدایت کی ہے کہ شہری گھروں سے باہرنکلتے وقت ماسک لازمی استعمال کریں


