اسلام آباد (ای پی آئی) پاکستان کے دو صوبوں میں 90روز میں عام انتخابات کرانے کا عدالتی حکم آنے کے فورا بعد پاکستان کے معروف اینکرز اور صحافیوں نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انتخابات کروانے کا مطالبہ کیاہے .

سینئر صحافی و اینکر پرسن حامد میر نے سوشل میڈیا پر اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں 90 روز میں انتخابات کرانے کا حکم دیا ہے اور الیکشن کمیشن اس فیصلے پر عملدرآمد کا پابند ہے، دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے ۔

حامد میر نے ایک اور صارف عمران منور کی ٹویٹ کو ری ٹویٹ کیا ہے جس میں عمران منور نے کہاہے کہ ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ پر فوری طور پر عمل ہونا چاہئے لیکن جو ہونا ہے وہ ذرا مختلف ہے، الیکشن کمیشن فنڈز اور سیکیورٹی مانگے گا، وزارت خزانہ، داخلہ و دفاع مانے گے نئیں، پھر وزیراعظم، وزراء خزانہ، دفاع و داخلہ پر توہین عدالت کے کاروائی ہوگی،

بول ٹی وی کے اینکر سمیع ابراہیم نے لکھا ہے کہ مریم روتی رھ گئ۔۔سپریم کورٹ نے 90 دنوں میں پنجاب اور کے پی میں الیکشن کدانے کا حکم دیدیا

معروف خاتون اینکر غریدہ فاروقی نے لکھا ہے کہ ہر ممکن حد تک 90 روز کے اندر الیکشن کروائے جائیں۔۔۔ سپریم کورٹ
تاخیر ہو بھی تو غیرمعمولی نہیں ہونی چاہئیے۔۔۔

دوسری ٹویٹ میں غریدہ فاروقی نے لکھا کہ سپریم کورٹ فیصلے کے بعد ہائیکورٹس میں زیرِ سماعت اسی کیس کا فیصلہ اب کیا ہو گا۔۔؟؟؟ اور فیصلوں کا مستقبل کیا ہو گا۔۔۔؟؟

سینئر اینکر پرسن عمران ریاض‌خان نے ٹویٹ کیا کہ …چلو رونا شروع کرو ہن

اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے سابق صدر ثاقب بشیر نے ٹویٹ پر لکھا کہ صدر کو پنجاب اسمبلی جبکہ گورنر کے پی کو خیبرپختونخواہ اسمبلی کے جنرل الیکشن کے لیے الیکشن کمیشن سے مشاورت کرکے تاریخ دینے کا حکم.

ثاقب بشیر نے مزید لکھا ہے کہ صدر کا حکم پنجاب الیکشن کی حد تک درست جبکہ کے پی اسمبلی الیکشن کی حد تک سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا.

سینیئر عارف حمید بھٹی نے ٹویٹ کیا کہ سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ 90 روز میں الیکشن کروانے کا حکم آ گیا۔

پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے ٹویٹ پر لکھا کہ ہمارا موقف پانچوں ججز نے تسلیم کیا ، یہ فیصلہ 0-5 سے آیا ہے اور پراسس دو حصوں میں تقسیم ہے، پنجاب کا الیکشن صدر، کے پی کا گورنر اعلان کریں گے۔ سپریم کورٹ نے فیڈریشن کو پابند کیا ہے کہ وہ تمام وسائل فراہم کرے گی اور یہ سب کچھ 90 روز کے اندر ہوگا۔

صحافی اجمل جامی نے ٹویٹ کیاکہ گورنر اسمبلی تحلیل کرے تو الیکشن کی تاریخ بھی دے گا، کے پی میں انتخابات کی تاریخ دینا گورنر کی ذمہ داری قرار۔۔
پنجاب میں چونکہ گورنر نے اسمبلی تحلیل نہیں کی لہذا پنجاب میں انتخاب کی تاریخ دینا صدر مملکت کی ذمہ دار ہوگی۔سپریم کورٹ

سینئر صحافی و اینکر پرسن مطیع اللہ جان نے کافی تاخیر سے ٹویٹ پر ردعمل میں لکھا کہ چار تین کی اکثریت سے پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ؟

نوٹ : خبر اپ ڈیٹ کی جارہی ہے