اسلام آباد(ای پی آئی) مینارٹیز الائنس پاکستان کے زیرِاہتمام 3 ماررچ 2023،اسلام آباد ۔قائدِ تحریک شہباز بھٹی کی جدوجہد اور قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے حوالے سے ان کی جام شہادت آئی ایٹ تھری میں شمعیں روشن کی گئیں اور راولپنڈی اسلام کی عوام نے بھر پور شرکت کی اور شہید کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔
مینارٹیز الائنس پاکستان کے وائس چیئرمین شمعون الفریڈ گِل نے جام شہادت پر شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید شہباز بھٹی کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔شہباز بھٹی شہید نے پوری دنیا میں پاکستان کا روشن خیال چہرہ پیش کیا وہ پاکستان میں بسنے والی مذہبی اقلیتوں کو معاشی،سیاسی اور معاشرتی طور پر مضبوط اور خوشحال دیکھنا چاہتے تھے وہ دہشت گردی کے ناسور کو پاکستان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کرنا چاہتے تھے شہباز بھٹی نے اپنی پوری زندگی مظلوم اور حقوق سے محروم لوگوں کے حقوق کے حصول کے لئے وقف کی اور مذہب کے نام پر تقسیم،تفریق کے خاتمہ کی جدوجہد کرتے ہوئے گزاری اور انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمہ کی جدوجہد کرتے ہوئے شہید ہو گئے شہباز بھٹی ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے اور آنے والی نسلیں ان کی عظیم جدوجہد اور قربانی کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔
شہباز بھٹی کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا اور نہ ہی ان کی جدوجہد اور قربانی کو رائیگاں جانے دیں گے شمعون الفریڈ گِل وائس چیئرمین مینارٹیز الائنس پاکستان(MAP) نےجام شہادت پر شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی اقلیتوں نے تحریکِ پاکستان میں ایک واضع اور اہم کردار ادا کیا ۔اور قائداعظم محمد علی جناح پر بھر پور اعتماد کا اظہارکرتے ہوئے اپنا ووٹ اور سپورٹ پاکستان کے حق میں استعمال کیا۔اور پاکستان کی تشکیل ،تعمیر،ترقی اور خوشحالی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ قائدِ اعظم محمد علی جناح کی وفات کے بعد اقلیتوں کے مسائل اور ان کو برابر کے حقوق دینے کے حوالے لیت ولعل سے کام لیا گیا۔ان پر اعلٰی سرکاری ملازمتوں اور عہدوں کے دروازے بند کر دیے گئے۔اور آج بھی چیف جسٹس آف پاکستان کے واضع احکامات کے باوجود 30 ہزار اقلیتی ملازمین کو بھرتی نہیں کیا جارہا۔ مذہبی اقلیتیں بارہا اپنا احتجاج ریکارڈ کرواچکی ہیں موجودہ ڈیجیٹل مردم شماری کے تحت مذہبی اقلیتوں کے درست اعداد شمار کا اندراج کیا جائے اور مردم شماری مکمل ہونے پر درست اعداد و شمار کا بروقت اعلان کیا جائے ۓ اور مردم شماری کے حوالے سے مذہبی اقلیتوں کے تحفظات دور کئے جائیں ۔
مذہبی اقلیتوں کے لئے موجودہ انتخابی نظام بوسیدہ اور بنیادی حقوق سے متصادم ہے مذہبی اقلیتیں کو اپنے ووٹ کا حق استعمال کرکے اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق دیا جائے مذہبی اقلیتوں کو اپنے نمائندوں کو منتخب کرنے کے حق سے محروم رکھنا آئین پاکستان اور جمہوریت کی حقیقی روح کے منافی ہے اقلیتیں تسلسل سراپا احتجاج ہیں لیکن مجال ہے کہ حکومت کے کان پہ کبھی جُوں رینگی ہو۔آج ہماری کمسن بچیوں کو اغوا،جبراً شادی اور جبراً تبدیلی مذہب کے آسیب کا سامنا ہے لیکن ریاست اور ریاستی ادارے مذہبی اقلیتوں کی عزت،جان و مال کے تحفظ میں بُری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ عدالتیں انصاف فراہم کرنے اور انتظامیہ مذہب کا لبادہ اوڑھ کر ہوس پرستوں کو گرفت میں لانے میں بے بس اور خاموش نظر آتی ہے ۔
دھڑا دھڑ معصوم اور بے گناہ لوگوں پر توہین مذہب اور توہینِ رسالت کے جھوٹے الزامات میں جیلوں میں پابندِ سلاسل کیا جا رہا ہے ریاست ہمارے تحفظات کیوں نہیں دور کرتی کیوں اندھی،بہری اور گونگی بنی ہوئی ہے ہمارے زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے بار بار نمک پاشی ہی کی جاتی ہے ہم آج کے دن حکومت اور متعلقہ اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے مسائل اور مشکلات پر کان دھرے اور ہمارے تحفظات دور کئے جائیں اور آنسو پونچھے جائیں مذہبی اقلیتیں اداروں سے بھیک نہیں بلکہ پاکستان کا شہری ہونے کی حثیت سے آج کے دن برابر اور یکساں حقوق کا مطالبہ کرتی ہیں۔
مذہبی اقلیتوں سے نفرت، امتیازی سلوک اور ظلم و ستم کو ختم کرنا وقت کی اہم ضرورت پاکستان اس وقت تک خوشحالی اور بہتری کی طرف گامزن نہیں ہو سکتا جب تک مذہبی اقلیتوں کو ان کے بنیادی حقوق نہیں دیے جاتے ہمارا مطالبہ کرتے ہیں کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں میں اضافہ کیا جائے اور 5 فی صد کوٹہ پر مکمل عملدرآمد کیا جائے ۔ شہید شہباز بھٹی کو انوش بھٹی مرکزی آرگنائزر، آصف جان( صدر اسلام آباد)فیاض بھٹی (صدر راولپنڈی)وقاص بھٹی،جمیل کھوکھر،پرنس ،سہیل رومی و دیگرنے خطاب کیا اور بھرپور الفاظ میں شہید شہباز بھٹی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔


