لاہور( ای پی آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما محسن شاہنواز رانجھا نے کہا ہے کہ عمران خان عدلیہ بچائو تحریک نہیں چلا رہے بلکہ یہ تحریک ان کرداروں اور چہروں کو بچانے کی تحریک ہے جو سازش کے ذریعے انہیں اقتدار میں لے کر آئے ، عمران خان کو احساس ہوگیا ہے کہ اگر وہ ان کرداروں کے ساتھ نہیں کھڑے ہوتے جو کردار انہیں اقتدر میں لے کر آئے ممکن ہے وہ کردار ساری کہانی اور سازش قوم کے سامنے رکھ دیں ، اس تحریک کا نام عدلیہ بچائو تحریک نہیں بلکہ عمران سے عدلیہ کو بچائو تحریک ہونا چاہیے ،

جسٹس (ر) ثاقب نثار کیلئے یہ بہتر ہے کہ وہ قوم کے سامنے اقرار جرم کر لیں اور ہو سکتا ہے کہ قوم انہیں معاف کر دے ۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن شاہنواز رانجھا نے کہا کہ ایک گھڑی چور نے پاکستان کی عدلیہ کو بچانے کی تحریک کا اعلان کیا ہے، ایک ایسا شخص جو کہ اب ثابت شدہ چور ہے جو کہ گیدڑ کی مانند عدالتوں سے چھپتا پھرتا ہے قوم کو دلیری کے سبق دیتا ہے ،عدالت میں پیش ہونے پر اس کی جان کو خطرہ ہے ،اسے تب یہ خطرہ زیادہ لا حق ہو جاتا ہے جب اس پر فردجرم لگنے والی ہوتی ہے ،

اس کی جان کو تب زیادہ خطرہ ہو جاتا ہے جب اس کی چوری پکڑی گئی ہے ،یہ ایک ایسا کردار ہے جو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جھوٹے ، بد کردار اور ایک جعلی سیاستدان کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اس نے عدلیہ بچائو تحریک کا اعلان کیا ہے حالانکہ اس تحریک کا نام عمران سے عدلیہ کو بچائو کی تحریک ہونا چاہیے ، اس نے جس تحریک کا اعلا ن کیا ہے قوم کو اس کی ساری کہانی کا پتہ ہونا چاہیے بلکہ قوم کو اس کا پتہ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے جو تحریک شروع کی ہے یہ کرداروں کو جو پردے کے پیچھے ہوئے ہیں یہ ان چہروں کو بچانے کی تحریک ہے ،جنہوںنے پاکستان کو معاشی حوالے سے تباہی کے دہانے پر لا کھڑا ہے ، تباہی کر دی ،جن کی وجہ سے آج غربت ہے یہ تحریک ان کو بچانے کی تحریک ہے ۔اب یہ کردار خود بول رہے ہیں وہ کہہ رہے ہیں ہم نے اس کو پورا صادق اور امین نہیں کہا تھا ،اب عمران خان کو یہ احساس ہوا ہے کہ اگر وہ ان کرداروں کے ساتھ نہیں کھڑا ہوتا جو کردار اسے اقتدر میں لے کر آئے ممکن ہے وہ کردار ساری کہانی اور سازش قوم کے سامنے رکھ دیں ۔

انہوں نے کہا کہ جسٹس (ر) ثاقب نثار نے کچھ انکشافات کئے ہیں، میں تو کہتا ہوں یہاں کیمرے لگے ہوئے اور جسٹس (ر) ثاقب نثار بھی لاہور میں ہیں یہاں آ جائیں اور بیٹھیں اوراقرار جرم کر لیں اور جو باتیں وہ کہتے ہیں کہ میری موت کے بعد ایک کتاب کی صورت میں سامنے آئیں گی جس میں وہ تمام راز افشاںکریں گے کہ اصل میں کہانی کیا ہے میں کہوں گا کیا آپ کو اس وقت موت یاد نہیں تھی جب ایک بے گناہ شخص نواز شریف کو دبائو ڈال کر نا اہل کرا رہے تھے ،آپ اس قوم کو وہ پوری کہانی ابھی بتا دیں سچ قوم کے سامنے رکھ دیں عین ممکن یہ قوم آپ کو معاف کر دے ۔

آپ کی 2017ء کی سازش کے ذریعے نا اہل نالائق گھڑی چور کو اس قوم پر مسلط کیا گیا ،یہ بہتر ہے کہ آپ کو موت یاد آنی چاہیے لیکن ابھی قوم کو بتا دینا چاہیے اور آپ کو اعتراف جرم کر لینا چاہیے ۔انہوںنے کہا کہ اگر عمران خان نے عدلیہ کو بچانے کی تحریک چلانی ہے تو عمران خان کو جسٹس شوکت صدیقی کا جو سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس التواء میں ہے اس کو لگوانے کے حق میں تحریک چلانی چاہیے ، اگر وہ عدلیہ بچائو تحریک چلانا چاہتا ہے تو جسٹس ارشد ملک کے بیان کی روشنی میں تحریک چلانی چاہیے کہ وہ جو انکشافات کر گئے وہ درست تھے اور ان کا بیان آن ریکارڈ ہے ،اگر عمران خان نے تحریک چلانی ہے تو رانا جسٹس شمیم کا وہ بیان حلفی جو ریکارڈ پر موجود ہے اس کے انفورسٹمنٹ کیلئے تحریک چلائیں ،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے حوالے سے جو ریفرنس دائر کیاگیا ہے اس کو چلانے کے لئے تحریک چلانی چاہیے ، اگر عمران خان کو عدلیہ کوبچانے کی تحریک چلانی ہے تو جسٹس (ر)ثاقب نثار کے حالیہ انکشافات پر ٹروتھ اینڈ ری کنسلیشین کمیشن بنانے کی تحریک چلانی چاہیے ،

اگر عمران خان کو تحریک چلانی ہے تو عمران خان کو عدلیہ میں بیٹھے ان معزز ججز صاحبان جو آئین کی قانون کی بالا دستی کی بات کرتے ہیں جودبائو میں آکر فیصلے نہیں کرتے جن کو پتہ ہے دبائو میں آکر فیصلوں سے قوم منتشر ہو جاتی ہے دہشتگردی کا شکار ہو جاتی ہے غربت کاشکار ہو جاتی ہے قوم کے بچوں کو روٹی نہیں ملتی ان معزز ججز صاحبان کے حق میں تحریک چلائیں لیکن ان کرداروں کو بچانے کی تحریک نہ چلائیں جو کردار ان کو اقتدار میں لے کر آئے جنہوںنے عمران خان کو لانے کی سازش میں کردار ادا کیا ۔ انہوںنے کہا کہ جسٹس (ر) کہتے ہیں کہ میرے مرنے کے بعد انکشافات سے بھرپور کتاب سامنے آئے گی ، لیکن آپ پہلے ہی اقرار جرم کر لیں اورقوم کو بتا دیں تو ہو سکتا قوم کو آپ کو اور آپ کی آنے والی نسلوں کو معاف کر دیں ،

قانون میں بھی گنجائش ہے کہ جو ملزم اقرار جرم کر لے تو سزا آدھی رہ جاتی ہے ،رانا شمیم کے انکشافات ، ارشد ملک شوکت صدیقی کے انکشافات کی روشنی میں اقرار جرم کرلیں ۔اگر نواز شریف کو پاکستان کی سیاست سے باہر نہ کیا گیا ہوتا تو آج پاکستان کی عوام اس غربت کا شکار نہ ہوتی آپ کا وہ فیصلہ اورکردار تھا جس کی وجہ سے عوام آج ان حالات سے گزر رہے ہیں، عوام کو معاشی بد حالی اور غربت کا سامنا ہے ۔انہوںنے کہا کہ عمران خان کیوں تحریک چلانے کی بات کر رہاہے

اس لئے کہ گھڑی چور چاہتا ہے اس پر فرد جرم نہ لگے اور اسے عدالتی تحفظ حاصل ہو ، کوئی بھی ملزم قانون سے بالا تر نہیں ،ایک ملزم کو حق حاصل نہیں کہ عدالت اسے چار ماہ سے نوٹس کر رہی ہے کہ وہ حاضر ہو لیکن وہ پیش نہیں ہوتا، وارنٹ گرفتاری نکلے ہوں لیکن یہ سہولت دی جاتی ہے کہ جتنے بجے مرضی چاہیںعدالت میں پیش ہوں،اس نے اربوں کی گھڑیاں لاکھوں اورکروڑوں میں حاصل کی ہیں،زمان پارک اور بنی گالا میں70فیصد انٹرئیرتوشہ خانہ سے آیا ہے ،اگر آپ صادق اور امین ہیں تو بن کر بھی دکھائیںاور اپنے ٹرائل کا سامنا کریں ، اگر آپ نے چوری نہیں کی تو گیدڑ کی طرح بھاگتے کیوں ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان نے چوری نہیں کی تو 13مارچ کو عدالت میں پیش ہوں ،چوری نہیں کی تو گیدڑ کی نہ بھاگیں ۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی سکیورٹی معیشت سے جڑی ہوئی ہے ،آرمی چیف کی سرمایہ کاروں ، تاجروں سے ملاقات پر باخبر نہیں لیکن یہ اچھا اقدام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو جان کا تحفظ چاہیے تو عدالت میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی نافذ کرنے والے ادارے انہیں اسلام آباد لائیں گے بلٹ پروف انتظامات کریں گے ،عمران خان نے ہائیکورٹ میں بھی چار ہفتے مانگے وہاں بھی پیش نہیں ہورہے کیونکہ چوری پکڑی گئی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ عمران خان احسان فراموش شخص ہے یہ نہ اولاد رکھ سکا نہ دوستوں کو رکھ سکا جس نے اس کے ساتھ وفاکی اس سے اس سے بے وفائی کی۔