لاہور( ای پی آئی ) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ بتایا جائے کیا تحریک انصاف کالعدم جماعت ہے ،اگر ہمیں سیاست کی اجازت نہیں دینی تو پھر پاکستان کا آئین معطل ہے ہمیں پہلے آئین کی بحالی کی تحریک شروع کرنا پڑے گی ،پالیسی پر نظر ثانی نہ کی گئی پاکستان میں معاشی سیاسی بحران آئینی بحران بہت بڑھ جائے گا،چیف جسٹس پاکستان اور سپریم کورٹ سے کہنا چاہتا ہوں لوگوں کی امیدیں آپ سے ہیں ،آپ لوگوں کے حقوق کے محافظ ہیں ،ہمیں پتہ ہے کہ آپ کو شدید پراپیگنڈے اور دبائو کا سامنا ہے ، آپ کے خلاف ایک منظم مہم چلائی جارہی ہے ، اپیل کرتا ہوں آپ کسی دبائو میں نہ آئیں ،عوام آپ کے پیچھے کھڑے ہیں،آپ جو مرضی کر لیں آپ الیکشن نہیں روک سکتے، چند دنوں کا اقتدار ہے اس کو بچانے کے لئے آئین سے کھلواڑ نہ کریں ۔
ملیکہ بخاری اور سندھ سے آئے رہنمائوں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہائیکورٹ میں درخواست جمع کرانے گئے توہمیں بتایا گیا کہ یہ دروازے مخصوص حالات میں ہی کھولے جاتے ہیں ،بد قسمتی کی بات ہے کہ پنجاب کے صوبے میں انتخابات ہو رہے ہیں آٹھ مارچ کو انتخابی شیڈول کا اعلان ہو چکا ہے مگر عملی طور پر ماسوائے ایک جماعت کے سیاسی طو رپر پابندی لگا دی گئی ،مریم نواز اینڈ کمپنی کوریاستی پروٹوکول حاصل ہے اور وہ ہر جگہ جلسے کر سکتی ہیں ہر جگہ بات کر سکتی ہیں لیکن یہ سہولت کسی اور کو میسر نہیں ہے خصوصاًعمران خان اور تحریک انصاف کو میسر نہیں ہے ۔ لاہور میں میچ ہو رہا ہے ،میرا تھن ہو رہی ہے ،لکی ایرانی سرکس چل رہی ہے ویسے تو پنجاب میں جو حکومت چل رہی یہ وہ بھی لکی ایرانی سرکس ہی ہے ۔
جو حالات سامنے ہیں اس میں ایک جبر اور آہنی ہاتھ سے عوام کا گلہ دبایا جارہا ہے ، رینجرز کی پولیس کی بھاری نفریس لگا دی گئی ہے ،سندھ سے پارٹی کے رہنما لاہور آئے ہیں لیکن انہیں بھی اجازت نہیں ملی کہ وہ زمان پارک میں جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ساری صورتحال پر غور کیا ہے ، انہوںنے پہلے بھی ہمارے کارکن کو شہید کیا ، یہ پھر یہاں پر غریب کارکنوں کی شہادتیں چاہتے ہیں ،پنجاب کے اندر قتل و خون کا بازار گرم کرنا چاہتے ہیں اس لئے ہم نے ریلی کو ملتوی کر دیا ہے اور اسے پیر کے روز پر لے کر جارہے ہیں۔اسلام آباد زیرہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن میں درخواست پڑی ہے ،بتایا جائے ہمیں سیاست کی اجازت ہے یا ہم کالعدم جماعت ہیں، اگر ہمیں سیاست کی اجازت نہیں دینی تو پھر پاکستان کا آئین معطل ہے ہمیں پہلے آئین کی بحالیہ کی تحریک شروع کرنا پڑے گی
،پاکستان کے اندر جو آئین ہے سیاسی آئینی حقوق ہے اس وقت معطل ہیں ایسا ہوتے ہوئے سیاست نہیں ہو سکتی ، ایک غیر منتخب خواتین کا جم غفیر ہے جو ٹی وی پر آجاتا ہے ، مریم اورنگزیب ،مریم نواز اور دیگر اس طرح کے لوگ ہیں ،پرانے زمانے میں ایسا ہوتا تھا کہ اگر امیر لوگ کی فوتگی ہو جاتی تھی وہ لاش پر نوحہ پڑھنے بین ڈالنے کے لئے ایک خاص قسم کے لوگوں کو بلاتے تھے جنہیں ردالی کہا جاتا تھا ، وہ لاش پر بین کرتے تھے ،سارے لوگ (ن)لیگ اور پی ڈی ایم کی سیاسی لاش پر نوحہ پڑھ رہے ہیں ،بین ڈال رہے ہیں ،(ن) کی سیاست کی لاش پڑی ہوئی جس کا کوئی مستقبل نہیں ،یہ واحد وفاقی جماعت کے لیڈر ہے کو قید کر دیں گے اس کو گرفتار کر لیں گے ، اس کے ممبران کو جیلوں میں ڈال دیں گے تو کیا پاکستان خوشحال ہو جائے گا ،اس سے پاکستان میں پیچیدگیاں آرہی ہے عوام میں خواص میںفاصلے بہت بڑھ چکے ہیں،
ملک بہت خطرناک صورتحال کا سامنا کر رہا ہے ،اگر اس حوالے سے پالیسی پر نظر ثانی نہ کی گئی پاکستان میں معاشی سیاسی بحران آئینی بحران بہت بڑھ جائے گا۔ انہوںنے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان اور سپریم کورٹ سے کہنا چاہتا ہوں لوگوں کی امیدیں آپ سے ہیں ،آپ لوگوں کے حقوق کے محافظ ہیں ،ہمیں پتہ ہے کہ آپ کو شدید پراپیگنڈے اور دبائو کا سامنا ہے ، آپ کے خلاف ایک منظم مہم چلائی جارہی ہے ، اپیل کرتا ہوں آپ کسی دبائو میں نہ آئیں ،عوام کا اورآئین کا تحفظ کریں ،پوری قوم آپ کے پیچھے کھڑی ہے ۔قوم اپنی سپریم کورٹ کی طرف دیکھ رہی ہے اور یہ توقع کر رہی ہے کہ وہ پاکستان کے عوام کے حقوق واپس دلائیں گے۔
آپ آگے بڑھیں گے تو کروڑوں لوگوں کو اپنے پیچھے پائیں گے،وکلاء نے اس حوالے سے قرارداد پاس کی ہے ،آنے والے ہفتے میں اعتزاز احسن جیسے قدر آور وکیل نے کہا کہ وکلاء کی تحریک ہو گی ۔انہوںنے کہا کہ صحافیوں پر دبائو ڈالا جارہا ہے ، صحافت کی آزادیاں ختم ہو چکی ہے ، وکیلوں کو جیلوں میں ڈالا جارا ہے ، ایسے حالا ت میں عوام اپنی سپریم کورٹ کو دیکھ رہے ہیں ،چیف جسٹس پاکستان آخری آمید ہیں، آپ نے پاکستان کے آئین انسانی حقوق پر پہرہ دینا ہے ۔انہوںنے کہاکہ سیاسی جماعتوںکو برابری کے مواقع ملیں گے تو جمہوریت چلے گی ۔اس وقت پورا لاہور بند ہیں ، ہم نے ریلی ملتوی کر دی ہے ، انتظامیہ سے مطالبہ کرتا ہوں آپ اس طرح سے سڑکیں بند نہ کریں سڑکوں کو کھولا جائے ، لوگوںکو سیاست کی آزادی دی جائے ،آپ جو مرضی کر لیں آپ الیکشن نہیں روک سکتے،
اس سے پہلے آپ نے پی ٹی آئی کو توڑنے کیلئے زور لگایا ،پرویز الٰہی کو روکنے کیلئے زور لگایا ،ججوں پر دبائو ڈالا لیکن آپ کچھ نہیں کر سکے ،الیکشن بھی آ پ نہیں روک سکیں گے ،چند دنوں کا اقتدار ہے اس کو بچانے کے لئے آئین سے کھلواڑ نہ کریں ، محسن نقوی ،آئی جی اورسی سی پی او قوم کے مجرم ہیں ،آپ نے ظل شاہ کے خاندان پردبائو ڈالا ہوا ہے ، ہم متاثرہ خاندان سے پوری ہمدردی رکھتے ہیں، اس شہادت کی وارث قوم ہے ،اس کی آپ کو سزا پوری ملے گی ،آپ کا اختیار اقتدار لمبا نہیں ہے یہ چند دن ہے ،اقتدر ختم ہوگا اور آپ کو حقیقی سزا ملے گی ۔


