راولپنڈی(ای پی آئی) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی ممکنہ گرفتاری کیخلاف احتجاج کے الزام میں پی ٹی آئی کے درجنوں رہنماں اور کارکنوں کیخلاف مقدمات درج کرلیے گئے۔
جلا گھیرا اور پولیس سے مزاحمت، و مری روڈ بلاک کرنے پر سابق ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم عباسی، سابق ممبر قومی اسمبلی شیخ راشد شفیق اور سابق ممبران صوبائی اسمبلی سمیت پی ٹی آئی کے 22 نامزد رہنماں اور 60 نامعلوم کارکنوں کے خلاف تھانہ سٹی اور وارث خان میں دو الگ الگ مقدمات درج کرلیے گئے۔
جبکہ 7 کارکنوں کو گرفتار بھی کرلیاگیا۔اسلام آباد و پنجاب پولیس کی جانب سے زمان پارک لاہور میں عمران خان کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع ہوئی تو ملک بھر کی طرح راولپنڈی اسلام آباد میں بھی پی ٹی آئی کے عہدیداران و کارکن احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور شاہراہیں بند کر کے شدید احتجاج کیا۔پولیس و مظاہرین کے مابین جھڑپیں رات گئے تک جاری رہیں اور مری روڈ میدان جنگ بنا رہا ۔پولیس نے جلا گھیرا، پتھرا کرنے، مرکزی شاہراہ بلاک رکھنے وغیرہ کی دفعات کے تحت تھانہ سٹی اور تھانہ وارث خان میں دو الگ الگ مقدمات درج کرلئے ۔
تھانہ سٹی کے مقدمہ میں سابق ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم عباسی ، سابق ایم پی اے اعجاز خان ، آصف محمود، عمر تنویر بٹ، جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی ساجد ستی، صدر یوتھ ونگ صباح قریشی، پی ٹی آئی سوشل میڈیا کوآرڈینیٹر حسیب نقوی، عدیل نقوی، پی ٹی آئی اقلیتی رہنما سموئیل عرف بلور سمیت 14رہنماں کو نامزد اور 30 کو نامعلوم رکھا گیا ہے۔
مقدمے میں موقف اختیار کیاگیا ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکن قیادت کی ایما پر ڈنڈوں، غلیلوں وغیرہ سے لیس ہوکر لیاقت باغ چوک پہنچیمظاہرین نے مری روڈ کو ٹائر جلا کر بند کیا ۔ پولیس افسران و اہلکاروں پر حملہ کیا ڈنڈے و پتھر برسائے، اور کار سرکار میں مزاحمت کی۔تھانہ وارث خان میں بھی مقدمہ احتجاج کرکے روڈ بند کرنے پولیس پر پتھرا، سمیت جلا گھیرا و املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات کے تحت پولیس کی مدعیت میں درج کیا گیا جس میں سابق رکن قومی اسمبلی شیخ راشد شفیق، ایم پی اے اعجاز خان جازی، واثق قیوم، آصف محمود، سمیت 8 رہنماں کو نامزد اور 30 کارکنوں کو نامعلوم رکھا گیا ہے۔


