اسلام آباد(ای پی آئی)سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی طرف سے دو صوبوں میں انتخابات کیلئے8اکتوبرکی تاریخ دینے کے فیصلے کیخلاف مقدمہ کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے ۔

سابق سپیکر پنجاب اسمبلی پی ٹی آئی رہنما محمد سبطین خان و دیگر کی جانب سے دائر کی گئی درخواستوں کا چھ صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس عمر عطابندیال ، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔مسلسل 6سماعتوں کے بعد جاری کئے گئے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس حکم کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی ۔

پیرا گراف نمبر ایک
عدالت نے لکھا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے 22 مارچ 2023 کو دیا گیا متنازعہ حکم غیر آئینی ،اختیارات و دائرہ کے بغیر ہے اس لئے اس کو اجرا کے دن سے کالعدم قرار دیا جاتا ہے اس کا کوئی قانونی اثرنہیں اس لئے اس کو ختم کیا جاتا ہے عدالت نے قرار دیا ہے کہ نہ تو آئین اور نہ ہی قانون الیکشن کمیشن کو انتخابات کی تاریخ میں توسیع کا اختیار دیتا ہے آئین کے آرٹیکل2( 224) کے تحت انتخابات کا انعقاد 90 دن کے اندر کیا جانا چاہیے۔

پیراگراف نمبر دو
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پنجاب میں عام انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن نے 8 مارچ 2023 کو جو نوٹیفکیشن جاری کیا تھا اس کو فوری طور پر کچھ تبدیلیوں کے ساتھ بحال کیا جاتا ہے ان تبدیلیوں کی وجوہات لکھتے ہوئے عدالت نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے حکم کے مطابق الیکشن پروگرام نوٹیفائی کیا گیا تھا جب یہ پروگرام 5 مراحل طے کر چکا تھا تو 22 مارچ 2023 کو الیکشن کمیشن نے غیر قانونی طور پر اپنا الیکشن پروگرام واپس لے لیا اسطرح باقی مراحل 6تا11 پورے نہیں ہو سکے اسی دوران الیکشن کمیشن کے غیر قانونی حکم کی وجہ سے مزید 13 دن ضائع ہوچکے ہیں اتنا وقت ضائع ہو جانے کی وجہ سے باقی ماندہ 6 مراحل کو آگے بڑھانا ہوگا اس لئے الیکشن پروگرام کو اس کے مطابق تبدیل کرنا ضروری ہے ہم ہچکچاہٹ کے ساتھ اس نتیجے پر پہنچے ہیں اور یہ قرار دیتے ہیں کہ یہ ناگزیر صورتحال الیکشن کمیشن کے حکم کی وجہ سے سامنے آئی ہے اس لئے الیکشن پروگرام کے باقی 6 مراحل میں تبدیلی کی جائے گی

چھٹا مرحلہ
ریٹرننگ افسر کی طرف سے کاغذات نامزدگی کی منظوری اور مسترد کئے جانے کے خلاف اپیلیں دائر کرنے کی آخری تاریخ 10 اپریل ہوگی
ساتواں مرحلہ
اپیلیٹ ٹربیونلز کے 17 اپریل تک تمام اپیلیں نمٹائیں گے ۔
آٹھواں مرحلہ
امیدواروں کے ناموں کی نظر ثانی شدی فہرست 18 اپریل کو آویزاں کی جائے گی
9واں مرحلہ
کاغذات نامزدگی واپس لینے اور حتمی فہرست جاری کرنے کی آخری تاریخ 19 اپریل ہوگی
دسواں مرحلہ
20 اپریل 2023 کو امیدواروں کو انتخابی نشانات آلاٹ کئے جائیں گے
گیارہواں مرحلہ
14 مئی کو پولنگ ڈے ہوگا

پیراگراف نمبر تین
عدالت نے قرار دیا ہے کہ الیکشن پروگرام تبدیل ہونے کی وجہ سے پولنگ کا دن 30 اپریل2023 کی بجائے 14 مئی 2023 ہوگا

پیراگراف نمبر چار
عدالت نے کہا ہے کہ مخصوص سوالات کے جواب میں الیکشن کمیشن نے واضح طور پر موقف اپنایا ہے کہ اگر اسے وفاقی اور صوبائی انتظامی حکام کی طرف سے مالی مدد اور معاونت فراہم کی جائے تو وہ آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے کو تیار ہے الیکشن کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 218تین کی روشنی میں پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے صاف شفاف اور غیر جانبدار انتخابات متعلقہ قوانین کے تحت کروانے کو تیار ہے اس لئے مندرجہ ذیل احکامات اور ہدایات دی جاتی ہیں ۔

پیراگراف نمبر پانچ
وفاقی حکومت پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے عام انتخابات کیلئے فوری طور پر ہر صورت میں 10 اپریل تک 21 ارب روپے کے فنڈز الیکشن کمیشن کو فراہم کرے گی الیکشن کمیشن 11 اپریل 2023 کو رپورٹ عدالت میں جمع کرائے گا جس میں بتایا جائے گا کہ اسے فنڈز فراہم کر دیئے گئے ہیں اور اس نے وہ وصول کر لئے ہیں الیکشن کمیشن یہ بھی بتائے گا کہ وہ فنڈز اس نے پورے وصول کئے ہیں یا کچھ حصہ وصول کیا ہے الیکشن کمیشن کی وہ رپورٹ اس بینچ کے رکن ججز کے سامنے ان کے چیمبرز میں پیش کی جائے گی تاکہ وہ اس کا جائزہ لے سکیں اگر یہ فنڈز فراہم نہ کئے گئے یا اس میں کمی ہوئی تو اس کے اثرات ہونگے ایسی صورتحال میں متعلقہ شخص یا اتھارٹی کو یہ عدالت احکامات بھی جاری کر سکتی ہے پہلے مرحلے میں الیکشن کمیشن پنجاب اسمبلی کے عام انتخابات ان فنڈز کو استعمال کرنے کا مجاز ہوگا اور اس کے بعد اگر خیبرپختونخوا اسمبلی کے عام انتخابات کے حوالے سے کوئی کمی ہوئی تو الیکشن کمیشن اس عدالت کے سامنے رکھ سکتا ہے تاکہ عدالت اس کا جائزہ لے کر مناسب احکامات جاری کر سکے.

پیراگراف نمبر چھ
عدالت نے قرار دیا ہے کہ پنجاب حکومت کی نگران کابینہ خصوصا چیف سیکرٹری پنجاب اور انسپیکٹر جنرل پولیس فوری طور پر 10 اپریل تک ایسا پلان فراہم کریں گے جو الیکشن کمیشن کیلئے قابل قبول ہوگا اس پلان میں وہ عام انتخابات کے لئے انتخابی ڈیوٹی اور سیکیورٹی کیلئے مناسب افرادی قوت فراہم کریں گے عدالت نے مزید کہا ہے کہ صوبے میں عام انتخابات کیلئے ہر صورت حکومت پنجاب اور تمام متعلقہ افسران اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ہر قسم کی مدد و معاونت فراہم کریں گے

پیراگراف نمبر سات
عدالت نے لکھا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 243 ون کے تحت وفاقی حکومت اپنی آئینی و قانونی ذمہ داری پوری کرے گی اور آئین کے آرٹیکل 148 تین آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات کے انعقاد کیلئے الیکشن کمیشن کو مدد اور معاونت فراہم کرے گی وفاقی حکومت ہر صورت میں سیکیورٹی کیلئے اہلکار فراہم کرے گی ان اہلکاروں کا تعلق کسی بھی سیکیورٹی ایجنسی بشمول مسلح افواج ،رینجرز،فرنٹیئرکانسٹیبلری اور تمام دیگر فورسز سے ہوسکتا ہے ان سیکیورٹی اداروں میں وہ ادارے بھی شامل ہیں جو بلواسطہ یا بلا واسطہ وفاقی حکومت کی کمانڈ میں آتے ہیں عام انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن کو جتنے بھی اہلکار ضرورت ہوں فراہم کئے جائیں اور وفاقی حکومت یہ اقدام فوری طور پر کرے،وفاقی حکومت 17 اپریل تک اس حوالے سے الیکشن کمیشن کو قابل قبول پلان فراہم کرے۔

پیراگراف نمبر آٹھ
عدالت نے لکھا ہے کہ جو احکامات اس فیصلے میں دیئے گئے ہیں ان پر عمل کرنے میں اگر وفاقی حکومت یا پنجاب کی نگران حکومت الیکشن کمیشن کی معاونت میں ناکام ہوتی ہیں تو الیکشن کمیشن اس عدالت کے سامنے یہ معاملہ رکھ سکتا ہے تاکہ مناسب احکامات جاری کئے جا سکیں

پیراگراف نمبر9
عدالت نے لکھا ہے کہ سپریم کورٹ میں زیر التوا از خود نوٹس نمبر 1/2023 اور سول پٹیشنز کی طرف ہماری توجہ مبذول کرائی گئی ہے ان درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ کی طرف سے کی گئی تھی ان درخواستوں کو یکم مارچ 2023 کو سن کر نمٹایا گیا یہ فیصلہ 5 رکنی بینچ نے 3 دو کی اکثریت سے سنایا گیا تھا اکثریتی فیصلہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال ،جسٹس منیب اختر اور جسٹس محمد علی مظہر کا تھا جبکہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اختلافی نوٹ لکھے تھے عدالت نے لکھا ہے کہ ہماری توجہ خصوصا اقلیتی فیصلہ لکھنے والے ججز کی تفصیلی وجوہات کی طرف دلائی گئی یہ تفصیلی وجوہات فاضل ججز نے 27 مارچ کو جاری کیں جن میں یہ کہا گیا تھا کہ یہ معاملات 4 تین کی اکثریت سے مسترد کئے گئے تھے عدالت نے لکھا ہے کہ انتہائی احترام کے ساتھ اقلیتی فاضل ججز کی طرف سے جس پوزیشن کا دعوی کیا گیا ہے وہ درست نہیں ہے اور نہ ہی قابل عمل ہے ۔

پیراگراف نمبر دس
سپریم کورٹ نے فیصلے میں لکھا ہے کہ ہماری توجہ ازخود نوٹس نمبر 4/2022 میں 2 ایک کی اکثریت سے 29 مارچ کو جاری کئے گئے اس حکم پر بھی دلوائی گئی جو جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جاری کیا اس کیس کا اکثریتی فیصلہ جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس امین الدین خان نے دیا تھا جبکہ جسٹس شاہد وحید نے اس میں اختلافی نوٹ لکھا تھا عدالت نے لکھا ہے کہ اس معاملے میں دیئے گئے فیصلے کا اس بینچ اور اس کے موجودہ فیصلے پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔

پیراگراف نمبر گیارہ
عدالت نے لکھا ہے کہ جہاں تک خیبرپختونخوا اسمبلی کے عام انتخابات کا تعلق ہے اس حوالے سے بھی درخواست گزاروں نے ریلیف مانگا ہے گورنر خیبرپختونخوا کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل نے ایک سیاسی جماعت کی طرف سے لئے گئے موقف کی بنا پر پیش ہونے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے اس لئے گورنر خیبر پختونخوا عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حق کھو چکے ہیں ان حالات میں خیبرپختونخوا سے متعلق معاملہ میں درخواست گزار متعلقہ فورم سے رجوع کر سکتے ہیں۔
عدالت نے فیصلے میں پیش ہونے والے وکلا کے نام بھی لکھے ہیں

درخواست گزاروں کی جانب سے سید علی ظفر، گوہر علی خان اورسید حیدرعلی ظفر پیش ہوئے
وفاق کی جانب سے
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان
مہوش بتول سردار، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمن، ایڈیشنل اٹارنی جنرل جاوید اقبال وائین، سیکرٹری دفاع حمودالزمان خان، ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ عامر محمود پیش ہوئے
الیکشن کمیشن کی جانب سے ایڈووکیٹ شرجیل شہریار سواتی،عرفان قادر،
سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید خان،سپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن ظفر اقبال حسین، ڈی جی لاء الیکشن کمیشن محمد ارشد، ایڈیشنل ڈی جی لاء خرم شہزاد، ڈپٹی ڈائریکٹر الیکشن کمیشن صائمہ طارق جنجوعہ، لیگل کنسلٹٹ فلک شیر پیس ہوئے۔خیبرپختونخواحکومت کی طرف سے ایڈووکیٹ جنرل عامر جاوید، اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شفقت جان پیش ہوئے

پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل شان گل وڈیولنک پر، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل وسیم ممتاز ملک، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بیرسٹرمحمد ممتاز علی پیش ہوئے۔
کیس کی پہلی سماعت 27مارچ ،دوسری سماعت 28مارچ، تیسری سماعت 29مارچ، چوتھی سماعت 30مارچ پانچویں سماعت 31مارچ اور چھٹی سماعت 3اپریل کوہوئی جس پر فیصلہ محفوظ کیا گیا اور چار اپریل کو فیصلہ سنا دیا گیا۔