اسلام آباد (عابدعلی آرائیں) پاکستان میں لاپتہ افرادکی بازیابی کیلئے بنائے گئے کمیشن نےرواں برس 422 پاکستانیوںکے لاپتہ ہونے کاانکشاف کیا ہے۔
کمیشن کے مطابق رواں سال کےپہلے چار ماہ میں کمیشن کو گذشتہ سال کی نسبت زیادہ لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے تحریری درخواستیں موصول ہوئی ہیں
دستیاب تازہ رپورٹ کے مطابق لاپتہ افرادکی بازیابی کیلئے بنائے گئے کمیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ رواں سال 2023کے پہلے چار ماہ میں کمیشن کو 422پاکستانی شہریوں کے لاپتہ ہونے کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں جبکہ اس عرصے میں کمیشن نےپہلے سے زیرالتوا 272 درخواستیں نمٹائی ہیں۔
دوسری جانب گذشتہ سال 2022کے پہلے چار ماہ میں کمیشن کو280درخواستیں موصول ہوئی تھیں اور کمیشن نے291درخواستیں نمٹائی تھیں ۔
رپورٹ کے مطابق سال 2023کے پہلے چار ماہ میں مجموعی طور پر220لاپتہ افراد اپنے گھرواپس پہنچے ہیں جبکہ7لاپتہ افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں اس طرح 12 سال قبل اس کمیشن کے قیام سے اب تک کل248لاپتہ افراد کی لاشیں برآمد ہوچکی ہیں.
اپریل 2023 کے دوران کمیشن کو91لاپتہ افراد کے لواحقین نے درخواستیں دیں جبکہ کمیشن نے 109درخواستیں نمٹائی ہیں۔ جن میں سب سے زیادہ 85درخواستیں بلوچستان،3پنجاب،سندھ،خیبر پختونخوا اوراسلام آبادسے ایک ایک لاپتہ شہریوں کی درخواستیں کمیشن کو موصول ہوئی ہیں ۔
کمیشن کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اپریل میں مجموعی طور پر 103لاپتہ افراد اپنے گھروں کو واپس پہنچے ہیں جن میں سب سے زیادہ بلوچستان کے 85افراد گھروں کو واپس آئے ہیں، پنجاب کے7،سندھ2، خیبر پختونخوا کے سات افراد گھروں کولوٹے ہیں جبکہ اسلام آباد اور گلگت بلتستان کاایک ایک شہری گھر پہنچ چکا ہے ۔رپورٹ کے مطابق اپریل کے ماہ میں حراستی مراکزمیں کسی لاپتہ فرد کی نشاندہی نہیں کی گئی ۔خیبرپختونخوا صوبے کی جیل میں موجود 2 لاپتہ شہریوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے ۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اپریل میں خیبرپختونخواکے ایک شہری کی لاشیں برآمد ہوئی ہے۔
اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ اپریل میں کل106لاپتہ افراد کو ٹریس کیا گیا ہے جن میں پنجاب کے سات،سندھ کے2، خیبر پختونخواکے10، بلوچستان کے85 جبکہ گلگت اوراسلام آباد کا ایک ایک شہری شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق تین لاپتہ افراد کے مقدمات اس بنیاد پر نمٹائے گئے ہیں کیونکہ انکے ایڈریس موجود نہیں تھے یا وہ لاپتہ افراد کے ذمرے میں نہیں آتے تھے۔ اس طرح لاپتہ افراد کمیشن نے اپریل میں کل109لاپتہ شہریوں کے مقدمات نمٹائے ہیں۔
کمیشن کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق کمیشن کومارچ 2011 میں اپنے قیام سے لیکر اب تک بارہ سال میں کل9625قدمات موصول ہوئے ہیں جن میں سے اب تک 7273قدمات نمٹائے گئے ہیں اور 2352مقدمات زیرالتوا ہیں ۔
کمیشن نے قیام سے اب تک 1417مقدمات یہ قراردے کر نمٹائے ہیں کہ انکے ایڈریس موجود نہیں تھے یا وہ لاپتہ افراد کے ذمرے میں نہیں آتے یالواحقین نے درخواستیں واپس لے لیں اور ۔اب تک مجموعی طور پر4000فراد گھروں کو واپس آئے ہیں۔ 980افراد کی حراستی مراکزجبکہ628اپتہ افراد کی جیلوں میںموجودگی کی نشاندہی کی گئی ہے ۔تمام افراد کوملاکر اب تک کمیشن نے 5856افرادکوٹریس کیا ہے جن میں248وہ افراد بھی شامل ہیں جن کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
کمیشن کے پاس پاس زیرالتوا 2352 مقدمات میں پنجاب کے 255، سندھ کے171،خیبر پختونخواکے سب سے زیادہ 1332،بلوچستان کے534،اسلام آباد کے 47، آزاد کشمیرکے 12 اور گلگت بلتستان کے 2 لاپتہ افراد کے مقدمات شامل ہیں۔یاد رہے کہ جسٹس ریٹائرڈجاوید اقبال اس کمیشن کے سربراہ ہیں اس کمیشن کا قیام مارچ 2011میں عمل میں لایا گیا تھا.


