اسلام آباد (ای پی آئی ) توہین پارلیمنٹ کی سزا کا نجی بل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پارلیمانی امور کے سپرد کر دیا گیا ، جبکہ ارکان نے ایوان کی کارروائی کے دوران گالیاں دینے ، بد اخلاقی ، بیہودگی ، بد تمیزی اور بد تہذیبی کا مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف بھی قانون سازی کا مطالبہ کر دیا ۔
ایوان میں اتفاق رائے سے متبادل توانائی کے ذرائع بڑھانے کی قرار داد اتفاق رائے سے منظور کر لی گئی اسپیکر قومی اسمبلی نے ارکان کو آگاہ کیا ہے کہ سیشن سے سات روز قبل کسی بھی مقدمہ میں رکن کو گرفتار نہ کرنے کے بل پر صدر پاکستان نے دستخط کر دئیے ہیں اور یہ ایکٹ آف پارلیمنٹ بن چکا ہے ۔ قومی اسمبلی کا اجلاس منگل کو اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا ۔ ارکان کے نجی بزنس کو نمٹایا گیا ۔
45 ارکان کی موجودگی میں توہین پارلیمان کی سزا پیش کرنے کی اجازت سے متعلق تحریک پیش کی گئی ۔ متفقہ طور پر تحریک کو منظور کر لیا گیا بل کو پارلیمنٹ یا اس کی کسی کمیٹی کی تحقیر یا کسی ایوان یا کسی رکن کے استحقاق کو مجروح کرنے پر سزا کے اہتمام سے منسوب کیا گیا ہے ۔ چھ ماہ قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ ہو سکے گا ۔ بل کو قائمہ کمیٹی پارلیمانی امور کے سپرد کردیا گیا ۔ تمام جماعتوں نے بل کی حمایت کر دی ۔ تحریک انصاف کی جانب سے بھی بل کو کمیٹی کے سپرد کرنے کی تجویز دی گئی ۔ نون لیگ کے رکن شیخ روحیل اصغر نے کہا وزراء اپنی نوکریاں پکی کر رہے ہیں ، بل کو کمیٹی میں زیر بحث لایا جائے ۔
جاوید لطیف نے کہا پورا ہال اس بل پر متفق ہے پارلیمان کے خلاف سازشوں کو بے نقاب ہونا چاہیے اداروں کو بدنام کرنے کا بھی نوٹس لیا جائے ۔ اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض نے کہا کہ یہ ہماری عزت کا مسئلہ ہے ایک جج ایک قلم سے ہمارے متعلق فیصلہ کر دیتا ہے ، بل کو فوری منظور ہونا چاہیے ۔ پی پی کے رکن قادر مندوخیل نے کہا موجودہ حالات میں اس بل کی کیوں ضرورت پیش آئی ، غلام علی تالپور نے مطالبہ کیا بغیر تاخیر کے بل منظور کیا جائے جماعت اسلامی کے رہنما مولانا عبد الاکبر نے بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ بالا دست ہے مگر ہمیں اپنے معاملات عدلیہ میں نہیں لے جانے چاہئیں ہم خود ان کو راستہ دکھاتے ہیں مداخلت کا ۔
سابق اور موجودہ آرمی چیف برملا کہہ چکے ہیں کہ مداخلت نہیں ہو گی اور اب پہلے کی طرح ارکان کو پہلے کی طرح دھمکی آمیز کالیں بھی نہیں آتیں ۔ ہم نے پارلیمنٹ کو خود نشانہ بنانے کا موقع فراہم کیا ۔ انتخابات کا معاملہ عدالت میں نہیں جانا چاہیے تھا ۔ پی ٹی آئی کے رکن محسن لغاری نے کہا کہ رولز اور آئین ہم نے بنائے ہیں جہاں لکھا ہے کہ بل کمیٹی کو جائے گا اور پھر ہاؤس میں آئے گا ہمیں تو بل کی کاپی بھی نہیں ملی ۔ مہناز اکبر نے بھی شکایت کی کہ بل کی کاپی نہیں ملی ۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بل کو قائمہ کمیٹی کو جانے دیں اہم قانون سازی ہو رہی ہے خبردار کرتا ہوں کہ اداروں میں مداخلت سے قیاس پیدا ہوتا ہے جس سے ریاست کمزور ہوتی ہے ، پارلیمنٹ اپنے حقوق کی حفاظت کرنا جانتی ہے کوئی غلط فہمی میں نہ رہے ۔ بل سے پارلیمان سے مزید تقویت ملے گی ۔
پارلیمنٹ کو کسی قانون کو منظور کرنے مسترد کرنے ترمیم کا مکمل اختیار حاصل ہے ۔ ایم کیو ایم کے رکن صابر قائم خانی نے بھی بل کی حمایت کی اور کہا کہ وزراء اعظم کو توہین کے معاملے میں گھر بھجوایا جاتا رہا ہے ۔ پارلیمنٹ کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے ریاض مزاری نے کہا کہ کیا یہ حقیقیت نہیں ہے کہ اسی ایوان کو ایک دوسرے کو گالیاں دی گئیں چور چور کہا گیا ۔ کیا ایسے ارکان کے خلاف کارروائی نہیں ہونی چاہیے مگر ہم کسی کا کچھ نہ بگاڑ سکے ۔ ایک دوسرے کی عزت نہیں کریں گے تو کوئی اور دوسرا کیسے کرے گا ۔ وزراء ایوان کی کارروائی کو سنجیدگی سے نہیں لیتے گپیں ہانک رہے ہوتے ہیں فون سن رہے ہوتے ہیں ایوان میں گالیاں دینے بد اخلاقی بیہودگی بدتہذیبی کا مظاہرہ کرنے والے ارکان کی برطرفی ضروری ہے انہیں نشستوں سے محروم کرنے کا قانون بھی لایا جائے ۔
فیاض خان نے بھی بل کی حمایت کی بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما خالد مگسی نے کہا کہ یہ قانون پہلے آنا چاہیے تھا بہت تاخیر کر دی ۔ نفیسہ شاہ نے کہا کہ آئین میں واضح کر دیا گیا ہے کہ پارلیمان کی توہین کرنے والوں کو سزا دی جا سکے گی مگر ہم اس حوالے سے قانون سازی نہ کر سکے ۔ پارلیمان کے حقوق کے حوالے سے قانونی خلا چھوڑ دیا گیا ۔
اس موقع پر اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے بتایا کہ ارکان پارلیمان کے استثنیٰ سے متعلق بل پر صدر پاکستان نے دستخط کر دئیے ہے قانون کے محرک سینیٹر رضا ربانی تھے اور اب یہ ایکٹ آف پارلیمنٹ بن چکا ہے بل کے مطابق کسی بھی رکن کو سینیٹ اسمبلی کے اجلاس سے سات روز قبل گرفتار نہیں کیا جا سکے گا اسی طرح اسپیکر چیئرمین سینٹ کی اجازت گرفتاری سے متعلق درکار ہو گی ۔ اجلاس کے سات روز کے بعد رکن کو اس کی رہائشگاہ کو سب جیل قرار دیا جا سکے گا ۔


