اسلام آباد(عابدعلی آرائیں) سپریم کورٹ آف پاکستان کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے درمیان بھی اختلاف سامنے آ گیا؟

اسلام آباد کی عدالت عالیہ کے فاضل جج جسٹس محسن اختر کیانی کی ہدایت پر 2 ججز کی رائےویب سائٹ پر جاری کرنے کے بعد ہٹا دی گئی۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے ججز میں بھی اختلافات کی خبریں سامنے آ چکی ہیں اب سابق وزیراعظم عمران خان کی مبینہ بیٹی ٹیریان وائٹ کی کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے کی بنیاد پر نااہلی کے لئے دائر درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے درمیان بھی اختلاف سامنے آ گیا ہے ۔

پہلے عدالت کی ویب سائٹ پر کیس کا فیصلہ اپ لوڈ کیا گیا جس کے مطابق سماعت کرنے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے3 رکنی بنچ نے2ایک کی اکثریت سے فیصلہ مسترد کردیا۔بعدازاں ترجمان ہائیکورٹ نے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اس فیصلے کی تردید کردی

اسلام آباد ہائیکورٹ کے 2 ججزجسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ارباب محمد طاہر نے ٹیریان کیس کو ناقابل سماعت قرار دیا اوراپنا اکثریتی فیصلہ ویب سائٹ پر جاری کرا دیا تھا۔ ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے گئے فیصلے میں کہا گیاتھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی نااہلی کے لیے درخواست گزار محمد ساجد کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردی تھی۔

دو اکثریتی ججز جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ارباب محمد طاہر نے درخواست مسترد کی۔ دونوں جج صاحبان نے چیف جسٹس عامر فاروق کے لکھے گئے فیصلے سے اتفاق نہیں کیا۔ اس طرح اکثریتی فیصلے میں چیف جسٹس عامر فاروق کے فیصلے سے اتفاق نہیں کیا گیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کا اعلامیہ

ترجمان اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی مبینہ بیٹی ٹیریان کے حوالے سے دائر رٹ پٹیشن نمبر 3061/2022 محمد ساجد بنام عمران احمد خان نیازی کیس کے حوالے سے واضح کیا جاتا ہے کہ اس کیس کا فیصلہ 30 مارچ 2023 کو محفوظ کیا گیا تھا ۔

آج مؤرخہ 10 مئی 2023 کو فیصلہ سنائے بغیر یا فیصلہ سنانے کی کاز لسٹ جاری کئے بغیر یا فریقین اور ان کے وکلاء کو آگاہ کئے بغیر اور 3 رکنی بینچ کے رکن چیف جسٹس عامر فاروق کے ستخط کے بغیر 2 فاضل ججز کی رائے ان کے آفس نوٹسز سمیت اسلام آباد ہائیکورٹ کی ویب سائٹ پر اپلوڈ کر دی گئی یہ عدالت کا فیصلہ نہیں ہے اور ایسا کرنا عدالتی قواعد اور روایات کے خلاف ہے۔

ترجمان کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فاضل چیف جسٹس نے اس کیس کی دوبارہ سماعت کے لئے دوبارہ بینچ تشکیل دےدیا ہے ۔

ترجمان نے واضح کیا ہے کہ کاز لسٹ جاری کئے بغیر 2 ججز کی رائے اپلوڈ کرنے کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی کے 2 آفس نوٹسز کا مکمل متن۔

سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف مبینہ بیٹی ٹیریان وائٹ سے متعلق کیس کا اکثریتی فیصلہ جسٹس محسن اختر کیانی نے تحریر کیا ہے محمد ساجد کی درخواست پر تین رکنی بینچ نے فیصلہ 30مارچ 2023 کو محفوظ کیا تھا کیس کی سماعت کرنے والے بینچ کی سربراہی چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق کر رہے تھے جبکہ جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ارباب محمد طاہر بینچ کے رکن تھے۔فیصلے میںجسٹس محسن اختر کیانی کی طرف سے لکھے گئے 2 آفس نوٹ بھی شامل کئے گئے ہیں۔

پہلا آفس نوٹس

فیصلے کے صفحہ نمبر 30 پر جسٹس محسن اختر کیانی کی طرف سے 2 مئی 2023 کو لکھا گیا آفس نوٹ شامل کیا گیا ہے جس میں جسٹس محسن اختر کیانی نے لکھا ہے کہ انتہائی ادب کے ساتھ چیف جسٹس کی طرف سے محمد ساجد بنام عمران احمد خان نیازی و دیگر کے خلاف دائر کی گئی رٹ پٹیشن نمبر 3061/2022 کے تحریر کردہ فیصلے کا مسؤدہ موصول ہوا تاہم اس فیصلے سے میں نے اتفاق نہیں کیا اسی لئے میں نے اپنی فائنڈنگز الگ سے ریکارڈ کی ہیں جن سے میرے بھائی جج جسٹس ارباب محمد طاہر نے اتفاق کیا ہے ہماری فائنڈنگز سربمہر لفافے میں جمع کرائی جا رہی ہیں تاکہ کل 3مئی کو فیصلہ سنایا جا ئے یہ آفس نوٹ فاضل چیف جسٹس کے سیکرٹری کو بھجوایا گیا ۔

دوسرا آفس نوٹس

جسٹس محسن اختر کیانی کی طرف سے 9 مئی 2023 کو ایک اور آفس نوٹ رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کو بھجوایا گیاجس میں جسٹس محسن اختر کیانی نے لکھا کہ رٹ پٹیشن نے نمبر 3061/2022 ساجد بنام عمران خان نیازی و دیگر کے ذریعے دائر مقدمہ ہم نے سنا جس کا فیصلہ چیف جسٹس کی سربراہی میںتین رکنی بینچ نے سنا جس میں جسٹس ارباب محمد طاہر اور میں (جسٹس محسن اختر کیانی) شامل تھےاس کیس کا فیصلہ تحریر اور مکمل کر کے چیف جسٹس کو بھجوا دیا گیا تھا حتی کہ 2 مئی 2023 کو میں نے اس حوالے سے فاضل چیف جسٹس کو درخواست کی تھی کہ اس کیس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ 3 مئی کو مقرر کی جائے اس کے باوجود آج تک فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ۔

جسٹس محسن کیانی نےاپنے اس نوٹ میں لکھا ہے کہ 7 مئی 2023 کو سوشل میڈیا پر اس فیصلے کے حوالے سے بڑے پیمانے پر قیاس آرائیاں کی گئیں اس لئے اگر وہ فیصلہ جو 2 ججز نے اکثریت سے دیا ہے وہ جاری کرنے میں تاخیر کی گئی تو اس سےکیس کے فیصلے سے متعلق مزید شبہات جنم لیں گے اور عدالتی عمل پر حرف آئے گا اور عوام عدالتی آزادی پر عوام کا اعتماد کم ہو گا جسٹس محسن کیانی نے لکھا ہے کہ موجودہ صورتحال میںیہ کیس سنجیدہ سیاسی اثرات رکھتا ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے رجسٹرار سے کہا ہے کہ پہلے ہی اس کیس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ کا نوٹس جاری کیا جا چکا ہے اس لئے آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آج یعنی 9 مئی 2023 کو 2 رکنی بینچ کا اکثریتی فیصلہ ہر صورت جاری کریں اور عملدرآمد رپورٹ فوری طور پر پیش کی جائے۔