کوئٹہ(ای پی آئی) حکومت نے عوام کو مسلح لوگوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے، حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو گئی ہے، ان حالات و واقعات کا ذمے دار کون ہے؟ ان خیالات کا اظہار امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کوئٹہ میں امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدلحق ہاشمی اوردیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔

انھوں نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کے مسائل پر توجہ نہیں دے رہیں، اور عوام کو تحفظ دینے میں ناکام ہوچکی ہیں۔میں پاکستان کی حکومت اوراسٹیبلشمنٹ کو کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ پاکستان کو بچانا چاہتے ہیں اورآپ پاکستان کو سوڈان ،لیبیا، روانڈا اورشام نہیں بنانا چاہتے توبلوچستان کے حوالے سے ایک قومی مشاورت کریں۔ انھوں نے کہا کہ جوعوام کو امن نہیں دے سکتا اسے حکومت کرنے کا حق نہیں۔

مجھ پر خود کش حملہ ہوا، میرے ساتھی الحمدُللہ بچ گئے، یہ واقعہ کیسے ہوا ، کون اس میں ملوث ہے ایک شہری کی حیثیت سے جاننا چاہتاہوں اور پاکستان کے لوگ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ کون ہے جو اتنے سارے اداروں اور حکومتی اہلکارو ں کی موجودگی میں واقعات ہوتے ہیں، میں حکومت سے یہی کہوں گا کہ وہ پوری طرح تحقیقات کر کے نتائج عوام کے سامنے رکھے۔

ژوب پہنچا تو لوگوں نے میرا محاسبہ کیا اور پوچھا کہ آپ نے بلٹ پروف گاڑی کیوں استعمال نہیں کی،میں نے کہا کہ بلٹ پروف گاڑی کوئی علاج نہیں،قوم کو امن چاہیئے ۔انھوں نے کہا کہ بلوچستان ہے تو پاکستان ہے، بلوچستان خوشحال ہو گاتو پاکستان آگے بڑھے گا۔افسوس ہے کہ رقبے اور جغرافیہ کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ، معدنیات سے مالا صوبہ اس وقت جل رہا ہے اور بلوچستان اس وقت بارود کا ایک ڈھیر بن گیا ہے۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ بلوچستان کاعام آدمی پانی کے لئے ترس رہا ہے، باصلاحیت نوجوان روزگار کے لئے ترس رہا ہے، یہاں نہ گیس ہے ، نہ بجلی ہے، نہ کاروبارہے نہ روزگار ہے،اوراس سے بھی آگے بدامنی ہے، لوگوں کے لئے رہنا اورلوگوں کے لئے یہاں جینا مشکل بنایا گیا ہے۔ اس ساری صورتحال میں مرکزی اورصوبائی حکومتوں نے انکھیں بند کررکھی ہیں،ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ اگر پاکستان میں 4286کلو میٹر موٹرے بنا ہے اور موجود ہے اور70فیصد موٹروے مکمل ہوا ہے ، آخر کیا وجہ ہے کہ بلوچستان میں ایک کلو میٹر سڑک بھی موٹروے کا نہیں ہے۔

روزخبروں میں یہی بات آتی ہے کہ گوادر اوربلوچستان میں سی پیک کی وجہ سے ایک انقلاب آئے گااور معاشی خوشحالی آئے گی لیکن ہم گزشتہ10سالوں سے یہ نعرے سنتے ہیں، نہ یہاں سڑکیں بنیں، نہ کوئی نیا کارخانہ ہم نے دیکھا نہ کوئی نیا میگا پراجیکٹ ہمیں نظرآیا اور یہاں ایک ہی کاروباری عروج پر ہے اوروہ نعشوں، دھماکوں اورتارگٹ کلنگ کاکاروبار ہے،خون ہے جو بہہ رہاے اور لوگ نعشیں دفناتے، دفناتے تھک گئے ہیں اور ایک دوسرے کو صبر کے کلمات اوردلاسا دیتے ، دیتے تھک گئے ہیں اور اکتا گئے ہیں۔

ان حالات میں جماعت اسلامی نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم بلوچستان کے حقوق کی لڑائی لڑیں گے ، ایوانوں میں بھی ، قومی اسمبلی میں مولانا عبدالاکبر چترالی ،سینیٹ میں سینیٹر مشتاق احمد خان اور سندھ اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں میں بھی جماعت اسلامی کے ارکان نے ہمیشہ بلوچستان کے حقوق کے لئے آواز اٹھائی ہے اور ہم یہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔

میں امید دلاتا ہوں کہ بلوچستان کا مستقبل روشن ہے،بلوچستان کے لوگ باصلاحیت ہیں ، بلوچستان کے لوگ پاکستان اوراسلام سے محبت رکھتے ہیں لیکن نالائق اورنااہل قیادت کی وجہ سے آج پاکستان اور خاص کر بلوچستان میں بدامنی ہے۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے حقوق کے حوالہ سے19 مئی کو ژوب میں میرا جلسہ تھا، راستے میں نوجونواں اور بزرگوں نے استقبال کیا، اس موقع پر ہم پر خود کش حملہ ہوا، اللہ رب کریم نے لوگوں کو بھی بچایا ،مجھے بھی بچایا،میں اللہ تعالیٰ کا شکر اداکرتا ہوں کہ سینکڑوں کی تعداد میں جونعشیں اور جنازے اٹھنے تھے اللہ تعالیٰ نے اس منصوبے کو ناکام بنایا۔

میں حکومت سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آخر حکومت نے عوام کو مسلح لوگوں کے رحم وکرم پر کیوں چھوڑا ہے، مجھے یہاں لوگوں نے بتایا کہ یہاں رات کو سڑکوں پر کوئی حکومت نہیں ہوتی اور افسوس یہ ہے حکومت خود چھائو نیوں، بنگلوں اوردفاتر میں محصور ہو گئی ہے اورخودان کے اپنے تھانے محفوظ نہیں ہے، اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف دہشت گردی ہے ،ایک طرف دھماکے ہیں، ٹارگٹ کلنگ ہے اور دوسری طرف کوئی حکومت نہیں ہے، حکومت اپنے دفاتر میں چھپی ہوئی ہے اور کوئی ذمہ داری اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہے، یہاں جتنے بھی ادارے ہیں وہ ایک دوسرے پر الزامات لگاتے ہیں اورایک دوسرے پر ذمہ داریاں ڈالتے ہیں، تنخواہیں لیتے ہیں، مراعات لیتے ہیں، غریب قوم نے ٹیکسز دے کر ان کو سہولیات سے نوازا ہے لیکن یہ حکومت بری طرح عوام کی جان اور مال کے تحفظ میں ناکام ہو گئی ہے، جو آئین کے مطابق حلف اٹھایا ہے اس کے تقاضوں کو پوراکرنے میں ناکام ہو گئے ہیں، اس ملک کا ہو گیا کیا؟

سراج الحق کا کہنا تھا کہ گزشتہ 15،20سالوں کے دوران صحافیوں نے دھمکاکوں اور خود کش حملوں کے علاوہ اورکیا رپورٹنگ کی ہے، کیا اور کوئی اچھی خبر صحافیوں کے پاس ہے۔ کوئی وزیر محفوظ نہیں ، کوئی ممبر محفوظ نہیں ، مولوی محفوظ نہیں ، دوکاندار محفوظ نہیں ، طالب علم اسکول، کالج اور یونیورسٹی میں محفوظ نہیں ہے، سوال یہ ہے کہ ذمہ دار کون ہے؟

مہذب معاشرے میں لوگ اس لئے حکومت بناتے ہیں اور ٹیکسز دیتے ہیں تاکہ وہ حکومت لوگوں مال اورجان کاتحفظ کرے۔ آج سے نہیں ایک عرصے ہم یہی رونا رورہے ہیں کہ یہاں ہر گلی کربلا کا نقشہ پیش کررہی ہے،کون ساایسا گائوں ہے، کون سی گلی ہے، کوئٹہ کا کون ساایسا چوک ہے جس پر انسانی خون کے دھبے نہ ہوں، مجھے افسوس ہے کہ نہ کبھی مرکزی حکومت نے اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لیا ہے اورنہ صوبائی حکومت نے سنجیدہ لیا ہے، کوئی یہاں کورکمانڈر بھی آتا ہے یا ایف سی جرنیل بھی آتا ہے تو وہ بھی تین، چار سال گزار کر چلے جاتے ہیں اور مسائل جوں کے توں رہتے ہیں اور پھر کوئی نیاآدمی آتا ہے وہ ایک نئے نقشے کے ساتھ کام شروع کرتا ہے ، اعلانات کرتے ہیں اورپھر وہ بھی ناکامی کا تمغہ ساتھ لئے ہوئے واپس چلا جاتا ہے۔

پہلے بلوچستان میں لوگوں کے لئے پانی، بجلی اور روزگار کا مسئلہ تھا لیکن آج یہاں لوگوں کے لئے جینے کا مسئلہ ہے، جینا بھی مشکل ہو گیا ہے اور مرنا بھی یہاں مشکل بنایا گیا ہے، کوئی ذمہ داری قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 65فیصد کرپشن ہے۔ میں بلوچستان کے جتنے بھی لوگوں کو ملا ہوں میں نے کسی کو بھی موجودہ حالات پرمطمئن نہیں پایا۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ یہاں ذمہ داری سنبھالنے والا کوئی نہیں ، سب یہاں ایک دوسرے پر ذمہ داریاں ڈالتے ہیں ، نئے حکمران اعلانات کرتے ہیں اور ناکام ہوکر چلے جاتے ہیں، بلوچستان کے باصلاحیت نوجوان اور دانا لوگ پریشان ہیں، یہاں لوگوں کا جینا اورمرنا مشکل ہوگیا ہے، اس صوبے کے حالات کاذمہ دار کون ہے؟ کون ذمہ داری قبول کرے گا۔انہوں نے الیکشن کے حوالے سے اپنے مشورے سے متعلق کہا کہ میں نے سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ اگست کا مہینہ پاکستان کی آزادی کا دن ہے، اگست کے مہینے میں لوگ حج سے واپس بھی آ جائیں گے، اس لیے اسی مہینے میں شفاف الیکشن کا انعقاد کیا جائے۔