اسلام آباد (عابدعلی آرائیں) سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق اور چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل تین رکنی آڈیو ویڈیو لیکس کمیشن کا پہلا اجلاس 22 مئی 2023 کو سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت نمبر 7 میں 10 بج کر 38 منٹ پر شروع ہوا اور 11 بج کر 35 منٹ تک جاری رہا 57 منٹ کی طویل سماعت میں وفاقی حکومت کی طرف سے اٹارنی جنرل منصور اعوان پیش ہوئے ۔ جسٹس قاضی فائز عیسی کی دائیں جانب جسٹس نعیم اختر افغان جبکہ بائیں جانب جسٹس عامر فاروق موجود تھے۔

اجلاس کا آغاز ہوا تو جسٹس قاضی فائز عیسی نے اٹارنی جنرل عثمان منصور اعوان سے استفسار کیا کہ کمیشن کس قانون کے تحت تشکیل دیا گیا اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کمیشن انکوائری کمیشن ایکٹ 2016 کے تحت قائم کیا گیا ہے ۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن کی کارروائی اوپن ہو گی اگر کوئی حساس معاملہ سامنے آیا تو ان کیمرہ کارروائی کی درخواست کا جائزہ لیں گے کمیشن کی تمام کارروائی سپریم کورٹ اسلام آباد بلڈنگ میں ہو گی کمیشن نے قرار دیا کہ جن سے متعلق انکوائری کرنی ہے ان میں دو بڑی عمر کی خواتین بھی شامل ہیں اگر درخواست آئی تو کمیشن انکوائری کے لئے لاہور بھی جا سکتا ہے ۔

کمیشن نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وہ کمیشن کے لئے آج ہی ایک عدد موبائل فون اور سم فراہم کریں جوڈیشل کمیشن کو فراہم کردہ فون نمبر پبلک کیا جائے گا جسٹس قاضی فائز عیسی کا کہنا تھا کہ کمیشن بذریعہ عوام سے بھی معلومات فراہم کرنے کا کہے گا معلومات فراہم کرنے والے کو شناخت ظاہر کرنا لازمی ہو گی نامعلوم ذرائع سے آنے والی معلومات قابل قبول نہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وہ تمام آڈیو ریکارڈنگز اور ان کے ٹرانسکرپٹ (متن) ذمہ دار افسر کے دستخط کے ساتھ فراہم کریں اگر ٹرانسکرپٹ میں کوئی غلطی ہوئی تو متعلقہ افسر کے خلاف کارروائی ہو گی۔ کمیشن نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ جن افراد کی آڈیوز ہیں ان کا نام ایڈریس اور فون نمبر کمیشن کو فراہم کئے جائیںہر ریکارڈنگ الگ ہونی چاہئے ۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ تمام معلومات واضح ہونی چاہئیں تاکہ کمیشن نوٹس جاری کر سکے اور حکومت نے جو وقت مقرر کیا ہے اس کے اند ر انکوائری مکمل کی جا سکے کمیشن نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وہ تمام معلومات کی 4 مصدقہ کاپیاں کمیشن کے سیکرٹری کے پاس جمع کرائیں گے 3 کاپیاں چئیرمین اور کمیشن کے ممبران جبکہ چوتھی کاپی کمیشن کے سیکرٹری کے لئے ہو گی ۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کا اٹارنی جنرل سے کہنا تھا کہ ہر چیز تیار ہونی چاہئے تاکہ کارروائی کو آگے بڑھانے میں تاخیر نہ ہو اس دوران جسٹس قاضی فائز عیسی نے انکوائری کمیشن کا دائرہ اختیار واضح کرتے ہوئے کہا کہ انکوائری کمیشن سپریم جوڈیشل کونسل نہیں ہے انکوائری کمیشن کسی جج کے خلاف نہ کوئی کارروائی کر رہا ہے اور نہ کرے گا کمیشن صرف حقائق کے تعین کے لئے قائم کیا گیا ہے سپریم جوڈیشل کمیشن کے دائرہ اختیار میں مداخلت نہیں ہو گی انہوں نے کہا کہ وہ اس کمیشن کے رکن ہیں اس کے ساتھ ساتھ سپریم جوڈیشل کونسل کی بھی رکن ہیںاس انکوائری کے دوران ہم ہر شخص سے یکساں احترام سے پیش آئیں گے تمام گواہوں کی نہ صرف عزت کریں گے بلکہ جواب میں بھی عزت کی توقع کرتے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ اس کمیشن کو اختیار ہے کہ تعاون نہ کرنے والوں کو سمن جاری کر سکے لیکن کمیشن سمن نہیں صرف نوٹس جاری کرے گا کوشش ہو گی کہ کسی کے سمن جاری نہ ہوں حکومتی افسران کے پاس پہلے ہی انکار کی گنجائش نہیں ہوتی تاہم عوام سے معلومات فراہمی کے لئے اخبارات میں اشتہارات جاری کریں گے اس اشتہار میں حکومت کا فراہم کردہ فون نمبر دیا جائے گا یہ اشتہار حکومت ملک کے 3 اردو اور 3 انگلش کے اخبارات میں شائع کرائے گی ۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت آج ہی فون نمبر فراہم کرے اور یہ فون نمبر سیکرٹری کمیشن استعمال کریں گے جبکہ معلومات ٹیلی فون ای میل اور تحریری طور پر کمیشن کو فراہم کیا جانا چاہئے ہم کسی کو بھی ایسے ہی روسٹرم پر آ کر بات کرنے نہیں دیں گے کمیشن کی کاررروائی کو خوشگوار انداز میں چلانا چاہتے ہیں ۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ آڈیوز کے اندر موجود لوگوں کی فہرست جلدی فراہم کی جائے تاکہ کمیشن ان کو نوٹس جاری کر سکے اور نوٹس کی تعمیل مناسب انداز میں ہونی چاہئے اور جو شخص نوٹس تعمیل کروانے جائے گا وہ نوٹس وصول کرنے والے کی تصویر بنا کر بھیجے گا۔

اس دوران چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ سے مشاورت کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسی نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ ہو سکتا ہے ہمیں آڈیو ویڈیو دوران کارروائی چلانی پڑیں تو اس حوالے سے تکنیکی آلات کی فراہمی اٹارنی جنرل دفتر کی ذمہ داری ہو گی جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی یہ کہے کہ اس کی آواز آڈیو میں موجود نہیں ہے تو اس کی تصدیق بھی کرانا ہو گی کوئی گواہ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ اس کی آواز کاپی پیسٹ کی گئی ہے اس حوالے سے تکنیکی معاونت کی ضرورت ہو گی میں نے سانحہ کوئٹہ سے متعلق تحقیقات میں پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کو بہت مؤثر پایا ہے اس دوران اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایف آئی اے متعلقہ ایجنسی ہے ہم اس سے بھی مدد لیں گے۔جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ کارروائی کے دوران متعلقہ فرانزک ایجنسی کا ایک رکن موجود ہونا چاہئے تاکہ کہ اگر کوئی شخص انکار کرے تو فوری تصدیق کی جا سکے۔

کمیشن کا آج کی کارروائی کا تحریری حکم نامہ

جسٹس قاضی فائز عیسی نے تحریری حکم نامہ لکھواتے ہوئے قرار دیا کہ 19 مئی 2023 کو قائم کئے گئے کمیشن کا گزٹ نوٹیفیکیشن کمیشن کے چئیرمین اور ممبران کو موصول ہوا ہے یہ نوٹیفیکیشن کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2016 کے تحت جاری کیا گیا ہے کمیشن کا پہلا اجلاس 22 مئی کو بلایا گیا جس میں اٹارنی جنرل پیش ہوئے ۔ اٹارنی جنرل نے عدالتی ہدایت پر نوٹیفیکیشن اور ایکٹ کی متعلقہ شقیں پڑھیں۔ ایکٹ کی شق 14 کے تحت کمیشن نے فیصلہ کرنا تھا کہ کمیشن کی کارروائی اوپن ہو گی یا ان کیمرہ جس پر کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام کارروائی اوپن ہو گی لیکن جب اٹارنی جنرل سے استفسار کیا تو انہوں نے اوپن سماعت پر اعتراض نہیں کیا لیکن انہوں نے کہا کہ اگر کوئی حساس معلومات ہوں گی تو کارروائی ان کیمرہ کی جاسکتی ہے تاہم کمیشن جہاں چاہے ان کیمرہ کارروائی کر سکتا ہے۔

کمیشن نے حکم میں قرار دیا کہ کمیشن کی کارروائی اوپن ہو گی اگر کوئی درخواست آئی تو ان کیمرہ کارروائی کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے یہ واضح کیا جاتا ہے کہ عدالتی کمیشن سپریم جوڈیشل کونسل نہیں ہے اس لئے کسی کو یہ تصور نہیں کرنا چاہئے کہ اس کمیشن کو سپریم جوڈیشل کونسل کے اختیارات حاصل ہیں کمیشن کوشش کرے گا کہ نوٹیفیکیشن کی منشاء کے مطابق کارروائی آگے بڑھے جو بھی شخص یا گواہ اس کمیشن میں پیش ہو گا وہ ملزم نہیں ہو گا بلکہ اسے حقائق جاننے کے لئے بلایا جائے گا مزید واضح کیا جاتا ہے کہ ہر شخص کو عزت و احترام دیا جائے گا اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کمیشن کسی کو بھی پیش ہونے پر مجبور نہیں کرے گا۔

تحریری حکم میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے لکھوایا کہ حکومتی نوٹیفیکیشن کے مطابق اس عدالتی انکوائری کمیشن کا ایک سیکرٹریٹ قائم کیا جائے گا اور کمیشن کا سیکرٹری بھی مقرر کیا جائے گا کمیشن کے سیکرٹری کا نام جلد تمام متعلقہ افراد کو بتا دیا جائے گافریقین کے درمیان رابطے کے لئے وفاقی حکومت کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ایک اینڈرائیڈ فون اور سم فراہم کرے اس کا نمبر اشتہار کے ذریعے عوام تک پہنچایا جائے گا یہ اشتہار 3 انگریزی اور 3 اردو کے اخبارات میں شائع کیا جائے گا ۔ اشتہار میں کمیشن اپنا ای میل ایڈریس بھی بتائے گا تمام معلومات اس ای میل اور فون پر فراہم کی جا سکتی ہیںتاہم تحریری طور پر بھی مصدقہ معلومات کمیشن کو فراہم کی جا سکتی ہیں۔

حکم نامے میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے لکھوایا کہ کمیشن کی کارروائی اسلام آباد ہی میں آگے بڑھائی جائے گی تاہم دو خواتین کے لئے کمیشن کا اجلاس لاہور میں بھی بلایا جا سکتا ہے جو یقینا سپریم کورٹ رجسٹری لاہور میں ہو گا۔ کمیشن نے قرار دیا کہ فاضل اٹارنی جنرل اپنے دفتر میں ایک اہل افسر کی نامزدگی کریں گے جو سیکرٹری کمیشن کے ساتھ رابطے کا کام کرے گا اس عرصے کے دوران وہ افسر کوئی اور کام نہیں کرے گا کمیشن نے حکم میں لکھا کہ جتنے افراد کا نام مبینہ آڈیوز میں آیا ہے اٹارنی جنرل آفس ان کی فہرست فراہم کرے گا فہرست ملنے کے بعد ان افراد کو وفاقی حکومت کے ایک افسر کے ذریعے نوٹس بھجوائے جائیں گے نوٹس کورئیر سروس کے ذریعے بھی بھجوائے جائیں گے جو افسر نوٹس لے کر جائے گا وہ نوٹس وصول کرنے والے کی تصویر لے گا ہر صورت سروس مؤثر ہونے کا ثبوت کمیشن کو فراہم کیا جائے گا اگر کوئی شخص یا گواہ نہیں ملتا تو اسے دوبارہ نوٹس بھی دئیے جائیں گے کمیشن نے قرار دیا کہ فاضل اٹارنی جنرل کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ معلومات لے کر کمیشن کو آگاہ کریں کہ کس محکمے یا ایجنسی کی خدمات اس کارروائی کو مکمل کرنے کے لئے درکار ہوں گی۔

اس موقع پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق سے مشاورت کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسی نے حکم نامے میں تحریر کرایا کہ اٹارنی جنرل یہ بھی بتائیں گے کہ آڈیوز کی فیبریکیشن، مینوپولیشن اور ٹیمپرڈ ہونے کے حوالے سے تصدیق کے لئےکونسی متعلقہ فرانزک سائنس ایجنسی کے ایک یا دو افراد اجلاس میںموجود رہیں گے ؟ کمیشن نے قرار دیا کے دو مختلف فرانزک ایجنسیوں افراد کو بھی بلایا جا سکتا ہے ۔

کمیشن نے لکھا کہ اٹارنی جنرل کو ہدایت کی جاتی ہے کہ تمام آڈیوز کے ریکارڈنگز کے ٹرانسکرپٹس کی 4 مصدقہ کاپیاں فراہم کی جائیں ان 4 کاپیوں کے علاوہ دیگر اضافی کاپیاں بھی اٹارنی جنرل اپنے پاس رکھیں گے تاکہ ضرورت کے وقت کسی بھی فریق کو فراہم کی جا سکیں۔ کمیشن نے ہدایت کی کہ آڈیو میں موجود لوگوں کے نام اور ایڈریس بھی فراہم کئے جائیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نےکہا کہ ہو سکتا ہے کہ کسی آڈیو میں دو لوگ کسی تیسرے شخص کے بارے میں بات کررہے ہوں تو اس تیسرے شخص کا نام ایڈریس اور دیگر معلومات بھی فراہم کی جائیں تاکہ اسے بھی بلایا جا سکے تاکہ اس پر جرح بھی کی جا سکے۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ ہمیں حکومت کی کوئی ویب سائیٹ بھی بتائی جائے جس پر کمیشن کا حکم نامہ اپلوڈ کیا جا سکے تاکہ غلط رپورٹنگ نہ ہو اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ہم حکومت کی ویب سائیٹ پر ایک الگ سے آپشن دیں گے جس پر کمیشن کا حکم اپلوڈ کر دیا جائے گا کمیشن پی ڈی ایف میں اپنا حکم اٹارنی جنرل آفس کو فراہم کیا کرے جو اسی طرح ویب سائیٹ پر اپلوڈ کر دیا جائے گا جسٹس قاضی فائز عیسی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یہ طریقہ ٹھیک ہے اس طرح عدالتی حکم میں ترمیم بھی نہیں ہو سکے گی تاہم پی ڈی ایف کو بھی دوسرے فارمیٹ میں تبدیل کرنے والے موجود ہوتے ہیں جسٹس قاضی فائز عیسی نے اٹارنی جنرل سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کو جو ذمہ داریاں دی گئی ہیں وہ جلد ہی پوری کریں حکومت نے میری گرمیوں کی چھٹیاں خراب کر دی ہیںکمیشن نے مزید کارروائی ہفتہ 27 مئی تک ملتوی کر دی۔
جسٹس قاضی فائزعیسی نے کارروائی کے دوران چارپانچ مرتبہ یہ جملہ دہرایا کہ ہم خوشگوارماحول میں کمیشن کی کارروائی آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔۔۔۔