گوجرانوالہ /لاہور(ای پی آئی ) چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے آرمی پر تنقید اور گرفتاری کے بعد کارکنوں کی جانب سے آرمی تنصیبات پر حملوں سے پاک فوج سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے کئی سینئر رہنمائوں سمیت کارکنان کی جانب سے پارٹی چھوڑنے کا سلسلہ جاری ہے.
اس حوالے سے پی ٹی آئی کی سب بڑی اور اہم وکٹ چوہدری پرویز الٰہی کے ہمراہ ق لیگ کو چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرنے والے چوہدری شجاعت حسین کے بھائی چوہدری وجاہت حسین نے پی ٹی آئی سے راہیں جدا کرتے ہوئے دوبارہ ق لیگ میں شمولیت اختیار کر لی ہے جبکہ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور سابق صوبائی وزیر اوقاف سید سعید الحسن اور فیض اللہ کمو کا نے بھی پریس کانفرنس میں پارٹی سے راہیں جدا کرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری وجاہت حسین کا کہناتھا کہ چوہدری شجاعت حسین کا بڑا دل ہے ، پوراپاکستان9مئی کے واقعات کی مذمت کر رہاہے اور میں بھی اس کی شدید مذمت کرتاہوں ،میری راہیں مسلم لیگ سے کبھی جدا نہیں ہوئیں ۔
انہوں نے کہا کہ چوہدری شجاعت حسین میرے بڑے بھائی ہیں اور میرے والد کی جگہ پر ہیں، جہاں تک حسین الٰہی کی بات ہے ، یہ نہیں ہو سکتا کہ میں کوئی بات کروں اور وہ کوئی اور کرے ۔میرا مونس الٰہی سے لمبے عرصے سے کوئی رابطہ نہیں ہواہے ، پرویز الٰہی سے رابطہ ہے ان کو مشورہ دوں گا کہ گھر واپس آئیں ، سارے اکٹھے ہو کر چلیں ۔ کئی مثالیں ہیں کہ ایک ہی فیملی کا ایک فر د کہیں پر ہے اور دوسرا کہیں اور ہے ، لیکن وہ خوش اخلاقی سے ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں ۔
جبکہ گوجرانوالہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےسابق صوبائی وزیر سعید الحسن نے کہا کہ 9 مئی کو اندوہناک واقعات سے مجھے اور حلقے کے عوام کو ذہنی اذیت پہنچی۔ 9 مئی کو فوجی تنصیبات کو جلایا گیا، شہداکی یادگاروں کو نقصان پہنچایا گیا، میں اور میرے حلقے کے عوام 9 مئی کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں،سابق صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ اگلے لائحہ عمل کا اعلان جلد کروں گا۔
جبکہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیض اللہ کموکا کہناتھا کہ اپنے شہر کی بھرپورطریقے سے آئینی فورم پر نمائندگی کی،ان کاکہناتھا کہ سیاسی جدوجہد پرامن طریقے سے ہونی چاہئے،سیاسی جدوجہد میں تشدد نہیں ہونا چاہئے،9 مئی کا سانحہ ملک کی تاریخ میں سیاہ دن ہے،اپنے ملک کے اثاثے کو نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتا،ان کاکہناتھا کہ ابھی میں نے فیصلہ کرنا ہے کہ سیاست کرنی ہے یا نہیں ۔


