اسلام آباد(ای پی آئی) صدر خواجہ سراء خنثیٰ برادر ی ندیم کشش نے وفاقی شرعی عدالت کے ٹرانس جینڈر ایکٹ ے متعلق فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسےخواجہ سراؤں کی فتح قرار دیا ہے.

نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں جولی، شان عباس شانی ودیگر ساتھیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ندیم کشش کا کہنا تھا کہ وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ تمام خواجہ سراء مرد و خواتین کی بنیاد پر تمام مراحات وحقوق دیئے جائیں،غالب جنسی اعضاء کی بنیاد پر خواجہ راء مرد اور عورت کا تعین کیا جائیگااورجومختلف صنفی شناختیں ہمارے پیچھے چھپ رہی تھیں انہیں بے نقاب کیا ہے.

انہوں نے چیف جٹس وفاقی شرعی عدالت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نےخواجہ سراؤں کے حقوق کا تحفظ کیا اورٹرانس جینڈر ایکٹ کے حوالے سے خواجہ سراؤں کو کم تعلیم یافتہ ہونے کے باعث جوشدید تحفظات تھےاس پریس کانفرنس کا ایک مقصد انہیں دور کرنا بھی ہے.

مسلمان خواجہ سراؤں کی کثیر تعد ادکے علاوہ ہندو اور عیسائی خواجہ سراء بھی شامل ہیں، ایکٹ کے باعث مسلمان خواجہ سراء حج اور عمرے جیسی مذہبی رسومات ادا کرنے سے محروم ہو گئے تھے تاہم اس ایکٹ کے کاتمے کے بعد اب وہ آزادی سے اپنی مذہبی رسوامات بھی بطریق احسن ادا کر سکیں گے.

انہوں نے اپنی خواجہ سراء برادری کو تاکید کی کہ وہ اس ایکٹ کی حمایت کرنے والوں کے دھوکے میں مت آئیںکیونکہ وہ ملک دشمن بین الاقوامی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔اس موقع پرانسانی اور خواجہ سراؤں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے خواجہ سراء جولی نے کہا کہ اس ایکٹ کے ذریعے ہماری شناخت کو چھینا اور حج عمرے جیسی مذہبی عبادات سے روکاگیا تھا،ہم بحیثت خواجہ سراء تمام اداروں اور شخصیات کا احترام اور پاکستانی کے آئین اور قانوں کے تابع اور پابند ہیں، معصوم اور کم تعلیم یافتہ خواجہ سراؤں کو اس ایکٹ کے نام پر گمراہ کیا جا رہا ہے، کسی کواسلام کےنام پراپنے لئے سیاست کرنےکی اجازت نہیں دینگے۔