لاہور (ای پی آئی) پنجاب اسمبلی کی بحالی سے متعلق درخواست کو لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بینچ کی جانب سے مسترد کئے جانے کے خلاف اپیل دائر کر دی گئی ہے لاہور ہائیکورٹ میں وکیل محمد عادل چٹھہ کے توسط سے دائر کی گئی درخواست میں پنجاب حکومت، سابق وزیر اعلی چوہدری پرویز الٰہی اور گورنر پنجاب کو فرق بنایا گیا ہے۔

دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ سنگل بینچ نے حقائق کے منافی فیصلہ جاری کیا، سنگل بینچ کے فیصلے کے مطابق درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہے، مفاد عامہ کے مقدمے میں براہ راست متاثرہ فریق ہونا ضروری نہیں، پنجاب اسمبلی کی تحلیل غیر قانونی و غیر آئینی تھی۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے 1988ء میں اسمبلی کی تحلیل غیر قانونی قرار دیا تھا، سابق وزیر اعلی پرویز الٰہی کی جانب سے بھیجی گئی ایڈوائس آئینی اور قانونی تقاضے پورے نہیں کرتی، ایک لائن کی تجویز میں اسمبلی تحلیل کرنے کی وجوہات کا ذکر نہیں، اختیارات کا اس قسم کا استعمال آئین اور عدالتی فیصلوں کے منافی ہے، آئین عوامی عہدہ رکھنے والے افراد کو اس قسم کی من مانی کی اجازت نہیں دیتا، الیکشن نہ ہونے کی وجہ سے اس مقدمے کی سماعت اور بھی زیادہ ضروری ہے۔

عدالت سے استدعا کی گئی کہ پنجاب اسمبلی تحلیل ایڈوائس کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے، عدالت پنجاب اسمبلی کو بحال کرنے کا حکم دے، عدالت سنگل بینچ کے 8مئی 2023ء کے فیصلے کو کالعدم قرار دے۔