اسلام آباد (ای پی آئی ) جمہوری حکومت میں ہر دستاویز پبلک دستاویز ہوتی ہے، گرفتاری کے بعد عمران خان کو پمز اسپتال لے جایا گیا تھا۔ عمران خان کےلیے پمز اسپتال میں میڈیکل بورڈ بھی بنایا گیا تھا، اس موقع پر چیئرمین پی ٹی آئی کا یورین سیمپل بھی لیا گیا تھا، ابتدائی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ عمران خان کے نمونوں میں شراب اور کوکین کے اجزاء پائے گئے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر صحت عبدلقادر پٹیل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا انھوں نے کہا کہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی ذہنی حالت پر سوالیہ نشان ہے، عمران خان کی حرکات و سکنات فٹ آدمی کی نہیں تھیں۔
عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ عمران خان نے نوجوانوں کو جس راستے پر لگایا اس کا نتیجہ سب نے دیکھ لیا، کیا اسی شخص کو ڈیم والے جج نے صادق اور امین قرار دیا تھا۔اُن کا کہنا تھا کہ عمران خان باتیں کیا کرتا ہے اور میڈیکل رپورٹوں سے کیا نکلتا ہے، پاکستان کے عوام اپنے بچوں کو اس موالی کے حوالے نہ کریں۔
وفاقی وزیر صحت کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کو ریمانڈ کے دوران ضمانت ملے یا عدالت کی طرف سے ایسا انصاف مل جائے کہ آپ کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف ہوجائیں لیکن جو چیز ریکارڈ پر موجود ہے وہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی شخص کو ہمارے ڈیم والے جج نے صادق اور امین قرار دیا تھا، یہ61 اور 62 کا فیصلہ تو میرے حق میں بھی آیا ہے لیکن یہ سیاسی معاملات ہیں اس کو وہیں تک رکھیں، یہ صادق اور امین بھی نہیں رہے اور یہ ساری چیزیں بھی نکل آئی ہیں۔
عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ اب جب تناسب نکل آئے گا کہ اس میں کتنا فیصد پاؤڈر، کوکین اور شراب ہے تو وہ بھی جاری کردی جائے گی۔انھوں نے کہا کہ عمران خان جب وزیراعظم تھا تو اس وقت بھی میں نے کہا تھا کہ یہ دماغی طور پر درست نہیں ہے، اس کو میوزیم میں رکھو، اس طرح کی دوسری چیز آپ کو نہیں ملے گی۔
یہ جھوٹ بولتا ہے اور اپنے جھوٹ پر بضد ہوتا ہے، اپنے جھوٹ کو سچ کہتا ہے اور اس کو دوسروں سے سچ منوانے کی کوشش کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پچھلے دنوں جو حالات گزرے ہیں وہ ایک دن کا نہیں ہے بلکہ یہ تو نارسسٹ برسوں سے تبلیغ کر رہا ہے اور جب سے حکومت سے نکالا گیا تو نوجوانوں کو ایک راستے پر لگایا اور اس کا نتیجہ سب نے دیکھا۔
انھوں نے کہا کہ اس نے سیاست تباہ پہلے دن کردی تھی، سیاست میں ایک شائستگی کا رواج تھا وہ تباہ ہوگیا، ثقافت یعنی ماں، بہو، بیٹی کی عزت کا فیبرک تباہ ہوگیا، سیاسی اختلاف دشمنی میں بدل گئی۔ انہوں نے کہا کہ موصوف 5،6 ماہ اپنے پیر پر اتنا بھاری پلاسٹر چڑھا کر چلے حالانکہ کسی رپورٹ میں ان کے پیر میں فریکچر کی رپورٹ نہیں ہے۔
عمران خان کی کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں ان کی دماغی حالت کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ ذہنی حالت پر سوالیہ نشان ہے اور یہ وزیراعظم ہے، پینل لکھ رہا ہے کہ اس کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کوکین، شراب، فریکچر کا دھوکا ایک طرف رکھیں لیکن میڈیکل رپورٹ کہتی ہے جب ہم نے ان کا جائزہ لیا تو ان کی حرکات و سکنات کسی فٹ آدمی کی نہیں ہیں، دماغی طور پر درست آدمی کی نہیں ہیں بلکہ سوالیہ نشان ہے۔
وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ عمران خان کا یورین سیمپل بھی لیا گیا لیکن جب تک پورا تناسب نہیں آجاتا میں رپورٹ جاری نہیں کروں گا لیکن ابتدائی رپورٹ میں نشے کی چیزیں جن میں شراب اور کوکین کا بے دریغ استعمال ہوا ہے لیکن جب تک تناسب نہیں آتا ہم کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو پتا تھا کہ ان کا یورین سیمپل لیا گیا تھا۔


