کراچی (ای پی آئی) ملک میں جان بوجھ کر سیاسی افراتفری پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی جس کا 9 مئی کے واقعات پر اختتام ہوا۔
ملک کی ترقی و خوشحالی کا راز اتحاد و یکجہتی میں ہے، ملک کی کشتی کو کنارے لگائیں گے، مشکلات اور چیلنجز کے باوجود ہم حوصلہ نہیں ہاریں گے ان خیالات کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے کراچی میں کے فور کے سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا انھوں نے کہا کہ اس تقریب میں خوشی ہوئی کہ اس شہر کی دو بڑی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم جو وفاق میں حکومت کا حصہ ہیں، ان کے زعما نے دل سے میٹھی باتیں کیں جو قومی یکجہتی اور اس ملک کے امن کیلئے خوش آئند ہیں، اسی میں پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا راز پنہاں ہے، اتفاق اور اتحاد میں برکت ہے،
9 مئی واقعہ کی مذمت
وفاق کی اتحادی حکومت گذشتہ ایک سال کے چیلنجز، باہمی مشاورت اور یگانگت کے ساتھ اس کا سامنا نہ کرتی تو آج صورتحال بالکل مختلف ہوتی،باہمی مشاورت اور اتحاد سے گذشتہ سال کے بدترین سیلاب، مہنگائی، آئی ایم ایف سے متعلقہ مسائل اور چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد ملی،انہوں نے کہاکہ 9 مئی کا دن پاکستان کی تاریخ میں تاریک ترین دن تھا لیکن اتحادی حکومت کی تمام مشترکہ کاوشوں اور باہمی مشاورت نے ان سازشوں کو دفن کردیا۔شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ 9 مئی کو جس طرح سے عمران نیازی کے جتھوں نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے، شہدا کی یادگاروں کی بے حرمتی کی وہ تاریخ کا سیاہ باب تھا۔
سازش کہاں ہوئی؟
انہوں نے کہا کہ اس سازش کے تانے بانے سمندر پار جا ملتے ہیں.اور سیاسی افراتفری کے باعث پاکستان معاشی ترقی نہ کر سکا۔انہوں نے کہا کہ جس طرح 9 مئی کو عظیم شہدا اور غازیوں کی یادگاروں اور فوجی تنصیبات پر عمران نیازی کے اکسانے پر ان جتھوں نے حملے کئے وہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے، ان واقعات پر شہدا کے ورثا کی آنکھیں نم اور دل غمگین ہیں، تکریم شہدا کنونشن میں دکھائی جانے والی ڈاکومنٹری پر ہر آنکھ اشکبار تھی۔
شہداء کو خراج تحسین
وزیراعظم نے کہا کہ شہید قوم کے عظیم سپوتوں ہیں جنہوں نے وطن کی خاطر اپنی جانیں دے کر قوم کے بچوں کو یتیم ہونے سے بچایا، ایک سال کی سیاسی افراتفری کی وجہ سے پاکستان کی ترقی کا سفر متاثر ہوا۔وزیراعظم نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات پر انصاف کا طریقہ یہ ہے کہ جس طرح 6 جنوری 2021 کو امریکا میں ہوا اور وہاں جو سزائیں دی گئیں اگر یہاں بھی شہیدوں کے ساتھ انصاف کے لیے قانون کے تحت سزائیں دی ملتی ہیں
تو کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
کے فور منصوبہ کیا ہے؟
کے فور منصوبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح اس منصوبے کو سرد خانے کی نذر کیا گیا اور اس پر سیاست کی گئی وہ انتہائی افسوس ناک بات ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ سابق وزیراعظم کی پاکستان کے ہر شعبے میں فتنے پر مبنی سوچ تھی، اتنے اناپرست تھے کہ اگر میں ہوں تو سب کچھ ہے ورنہ کچھ نہیں۔انہوں نے کہا کہ جو شخص 4 برس چور اور ڈاکو کے نعرے لگاتا رہا آج جب وہ خود کرپشن کے کیس میں آیا تو کہنے لگا جلا وگھیراو کرو، فوجی تنصیبات پر حملہ کردو۔وزیراعظم نے کہا کہ اگر عمران خان نے بدنیتی کی بنیاد پر اس منصوبے کو موخر کیا تھا تو اس وقت کوئی چیلنج نہیں تھا لیکن آج چلینج ہے مگر اس کو فوری طور پر مکمل کرنا چاہیے۔
منصوبے کی اہمیت
انہوں نے کہا کہ میرے لیے یہ منصوبہ اس لیے تمام منصوبوں سے اہمیت کا حامل ہے کہ اگر پینے کا صاف پانی میسر نہیں تو پھر آسودہ زندگی کیسے ہوگی۔وزیراعظم نے کہا کہ سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے شہر کے ساتھ پانی پر سیاست جائز نہیں، آئندہ بجٹ میں اس منصوبے کو ترجیح دی جائے گی،وزیراعظم نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے میرے لئے جن جذبات کا اظہار کیا اس پر ان کا شکرگزار ہوں، مل کر ملک کے مسائل حل کریں گے اور ملک کی کشتی کو کنارے لگائیں گے، مشکلات اور چیلنجز ہیں تاہم ہم حوصلہ نہیں ہاریں گے، مہنگائی سمیت ان بحرانوں اور چیلنجوں کو شکست دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں بڑے حادثے ہوئے لیکن کبھی کسی سیاسی جماعت یا لیڈر نے فوجی تنصیبات پر حملوں کی بات نہیں کی، قائداعظم کے گھر پر حملہ نہیں کیا۔
منصوبہ جلد مکمل کرنے کی ہدایات
وزیراعظم نے کہا کہ کے۔فور منصوبہ منصوبہ کو فی الفور مکمل ہونا چاہئے، ناگزیر وجوہات کی بنا پر میرے دورے التوا کا شکار ہوئے، چیئرمین واپڈا جب این ایل سی کے ڈی جی تھے تو ان سے کئی منصوبے مکمل کرائے، کے۔فور منصوبہ کی تکمیل میں بھی یہ اسی طرح کی کارکردگی دکھائیں گے۔ انہوں نے چیئرمین واپڈا کو ہدایت کی کہ وہ تسلسل کے ساتھ اس منصوبہ کی دیکھ بھال کریں، صوبائی حکومت اس سلسلہ میں مکمل تعاون کرے گی۔
فنڈز کی دستیابی
وزیراعظم نے کہا کہ میرے لئے یہ منصوبہ تمام منصوبوں سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے، کراچی کے لوگوں کو پینے کا صاف پانی ان کا حق ہے، یہاں پانی خرید کر پیا جاتا ہے، کراچی پاکستان کی معیشت کا گیٹ وے ہے، سب سے زیادہ ٹیکس یہ شہر دیتا ہے، اگر انہیں پینے کا پانی دستیاب نہیں تو یہ کسی صورت جائز نہیں، اس منصوبہ کو آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اولین ترجیح پر رکھا جائے گا تاکہ یہ منصوبہ جلد مکمل ہو۔ انہوں نے اس موقع پر معاون خصوصی طارق باجوہ کو ہدایت کی کہ اس منصوبہ پر خصوصی توجہ دینی ہے اور اس کیلئے فنڈز مہیا کرنے ہیں، اس سلسلہ میں کوئی جواز برداشت نہیں کریں گے


