راولپنڈی(ای پی آئی )پاکستان تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کے چھورنے جانے پر ٹوٹ پھوٹ کے ساتھ مالی بحران کا بھی شکار ہو گئی ملازمین تنخواہوں سے محروم چیک باؤس ہونے لگے ریجنل اور ڈسٹرکٹ دفاتر کے ملازمین تنخواہیں نہ ملنے پر پریشانی کا شکار۔

تفصیلات کے مطابق 9 مئی کے واقعات کے بعد ایک طرف پی ٹی آئی کے چیئرمین کے لئے پارٹی کے سینئر وزراء رہنماء چھوڑ کر جا رہے ہیں تو دوسری طرف عمران خان کو مالی مسائل نے بھی جکڑ لیا ہے اس حوالے سے ذرائع سے سامنے آنے والی خبروں کے مطابق پاکستان تحریک انصاف مالی بھران کا شکار ہو گئی، جس کی وجہ سے ملازمین کو تنخواہیں نہیں مل رہیں اور اس سلسلے میں جاری ہونے والے چیکس بھی باؤنس ہونے لگے۔

پی ٹی آئی کے مرکزی عہدے داروں کی جانب سے پارٹی چھوڑنے اور عہدوں سے استعفوں کے بعد پارٹی کے مالیاتی ڈھانچے کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ ذرائع کے مطابق ملک بھر میں پی ٹی آئی کے 9 ریجنل آفسز اور ڈسٹرکٹ آفسز میں ملازمین کو تنخواہ نہیں مل رہی۔

مرکزی قائدین کی پارٹی سے لاتعلقی کی وجہ سے گزشتہ 17 دنوں میں پارٹی اکاؤنٹس سے ایک بھی چیک کلیئر نہیں ہوسکا۔پارٹی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے ذیلی 15 ونگز کے معاملات چلانے والے سیکڑوں ملازمین تشویش کا شکار ہیں۔ پارٹی کا تھنک ٹینک بھی ناکارہ ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے جب کہ پارٹی شہدا کے لیے جمع ہونے والی 5 لاکھ ڈالر سے زائد رقم بھی نہیں نکلوائی جاسکتی۔

پارٹی کے ملک بھر میں جوائنٹ اکاؤنٹس ہیں، جنہیں چیئرمین عمران خان اکیلے آپریٹ کرنے کے اہل نہیں۔پارٹی چیک کلیئرنس کے لیے کم از کم 2 سگنیٹری ضروری ہیں۔ اکیلے عمران خان ان اکاؤنٹس کو آپریٹ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ فنڈز کی قلت سے پارٹی کا سوشل میڈیا سیل بھی کمزور ہوچکا ہے اور گرفتاریوں کے خوف اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے مایوس ملازمین نے بھی کام کرنے سے انکار کردیا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما کے مطابق فنڈز کی قلت سے پیدا ہونے والی صورتحال پر عمران خان کو آگاہ کردیا ہے۔ اگر فنڈز موصول نہ ہوئے تو پی ٹی آئی کے ملک بھر میں قائم دفاتر کو بند کرنا ہوگا اور پارٹی سے جڑے سیکڑوں ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کرنا پڑے گا۔